Chehron Kay Ainay By Nayab Jilani

Khon Baha | Social Issue  base | Digest Novel |  Social  Romantic Novel | Complete Novel  

تم اس قدر بد گمان کیوں ہو رہی ہو؟“ پشمینہ نے اسے سوچوں میں کم دیکھ کر جھنجوڑ اب .
مجھے مستقبل کے اندیشے خوف زدہ کرتے ہیں“
تمہیں شاہ سائیں پر بھروسہ نہیں“
” مجھے نانا . ے نانا سائیں پر مکمل اعتماد ہے مگر خود پر نہیں ، اپنی قسمت کا اعتبار نہیں وہ بھیگی آواز میں بولی۔
تم بلا وجہ خود کو اذیت دے رہی ہو ، پشمینہ نے اسے سمجھانا چاہا۔
میرے کرب کا اندازہ نہیں تمہیں پشمینہ اس کی آنکھ سے اک آنسو بے مول سا ہو
کر گرا تھا۔
مہرو! ایک بات تم دل سے نکال کیوں نہیں دیتیں۔ بڑی حویلی والے تمہیں خون بہا میں نہیں لے کر جارہے وہ تو بہت دھوم دھام سے شادی کرنا چاہتے ہیں اس نے مہر ماہ کا ہاتھ دیا کر نرمی سے کہا تھا وہ پشمینہ کا ہاتھ جھٹک کر کھڑی ہو گئی۔
مہرو! کہاں جارہی ہو بیٹھو ادھر پشمینہ نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب بٹھایا تم سمجھتی کیوں نہیں مہرو! یہ رشتہ کسی پرانی دشمنی کے سلسلے میں نہیں بلکہ نفرتوں اور کدورتوں کو ختم کرنے کے لیے صرف اور صرف میرام لالہ کے کہنے پر استوار کیا جارہا ہے
لغونہ تو آغا سائیں کی سگی نواسی ہے اور اگر ان کے پوتے کی دلہن بن جاتی تو اس میں حرج ہی کیا تھا وہ چیخ کر رہ گئی۔
میرام لالہ نے تمہارا نام لیا تھا پشمینہ زچ ہو کر بولی۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *