Tasawar E Dilbaran By Sandal Malik

Rude Hero | Forced Marriage | Feudal System | Revenge base | Family Conflict | Romantic Urdu Novel

” تم کس کی اجازت سے حویلی سے باہر نکلی۔۔۔ تم نے اپنے بال کس سے پوچھ کر کٹوائے ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ ” شدید غصے میں اسکا بازو دبوچتے۔۔ وہ نیم گرجا تھا۔۔۔ اسکے بال تو اسے حد سے زیادہ پسند تھے۔۔۔ کندھوں سے بمشکل نیچے تک آتے بال دیکھ کر اسکا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا!۔۔ مہیرہ ایک پل کو گھبرا چکی تھی۔۔۔
” میرا بازو۔۔۔ چھوڑیں۔۔ مج۔۔۔۔
” میں یہاں بکواس کررہا ہوں۔۔۔۔ جواب دو۔۔۔۔ ” اسکی مزاحمت اور جواب نا دینا اسے اور تیش دلا رہا تھا۔۔۔۔ مہیرہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی۔۔۔۔
” مجھے چھوڑیں ورنہ۔۔۔۔۔
“ورنہ کیا۔۔۔۔ ” اس نے گرفت بازو پہ اور تنگ کرتے اسے پاس کیا۔۔۔۔ مہیرہ کی سانسیں مدھم ہونے لگی۔۔۔
” میں آپکی شکایت لگاؤں گی سب کو۔۔۔ آپ میرے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کرسکتے ہیں۔۔۔ ” مزاحمت ترک کرتے۔۔ وہ اسے دیکھتے کافی خفگی و غصے سے بولی۔۔ البتہ اسکے اتنے پاس ہونے پر اسکا دل شدت سے دھڑک رہا تھا۔۔ رنگت گلابی ہورہی تھی۔۔۔ سامر عیش عیش کر اٹھا۔۔۔۔
اسکی پناہوں میں۔۔ اسکے کمرے میں کھڑی۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دھمکی دے رہی تھی۔۔۔
“تم مجھے دھمکی دے رہی ہو۔۔۔ ” اسے جیسے یقین نا آیا۔۔۔ کنپٹی کی رگیں ابھری ہوئی تھی۔۔۔ اسکے سامنے مہیرہ چھوٹی اور کافی نازک لگ رہی تھی وہ دو پل میں اسکے ہوش ٹھکانے لگا سکتا تھا۔۔۔
” میں ۔۔۔دھمکی نہیں۔۔۔ دے رہی۔۔ میں سچ میں۔۔۔۔ اسکی آواز تھم گئی۔۔ دل تھم گیا۔۔۔۔ ہاتھ بے ساختہ اسکے بازو پر گیا تھا۔۔۔۔
وہ جو کب سے ضبط کیئے ہوئے تھا۔۔ ضبط کھو بیٹھا۔۔۔۔ اتنی شدت سے اسے چھوا کہ وہ جیسے سانس لینا بھول گئی۔۔۔ دھڑکنیں رکتی پھر تیزی سے دھڑکنے لگی۔۔۔ خون کی گردش جیسے تیز ہوگئی تھی اسے امید نہیں تھی۔۔ ہرگز نہیں تھی۔۔۔ اسکی بولتی بند ہوئی۔۔۔۔ آنکھیں بھی بند ہوگئی۔۔۔۔
” کیا ہوا۔۔۔ بڑی زبان چل رہی تھی ابھی تمہاری۔۔۔ بتاؤ تو سہی۔۔۔ کس کی دھمکی دے رہی تھی مجھے۔۔۔ ” بھاری آواز۔۔ بوجھل لہجہ۔۔۔ مگر آنکھوں میں ہنوز سختی تھی۔۔اس کے کٹے بال اس کی برداشت سے باہر ہورہے تھے۔۔نگاہیں بے مروت سی ان بھیگے لبوں کو چھونے لگی۔۔۔۔ اسے زرا سا چھوا تو تشنگی مٹنے کے بجائے پوری روح پر سوار ہوگئی۔۔۔۔۔ ہاتھ اسکے بازو سے ہوتا کمر پر چلا گیا تھا۔۔۔ سب بے ساختہ تھا۔۔۔ مہیرہ کو جیسے ہوش آیا۔۔۔
“میر۔۔۔۔ م۔۔۔
” تم جانتی ہو آج تک کسی نے مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کی۔۔ اتنے نکھرے نہیں دیکھائے۔۔ اتنا نظر انداز نہیں کیا جتنا دو دنوں میں تم مجھے کر چکی ہو۔۔۔ جانتی ہو یہ جو میں برداشت کررہا ہوں کس قدر ناقابلِ برداشت ہے۔۔۔۔ ” اسکا لہجہ بدل گیا۔۔ سرد ہوگیا۔۔ یہ لڑکی اس کے دل و دماغ کو اپنے کنٹرول میں لے چکی تھی۔۔۔ ضد میں اسکا کوئی ثانی نہیں تھا۔۔۔ وہ اسکی ہر ضد مان رہا تھا۔۔
کوئی اسکی بات کے خلاف نہیں جاتا۔۔ یہ لڑکی مسلسل اپنی مرضی کررہی تھی۔۔۔
وہ کسی کی اونچی آواز برداشت نہیں کرتا اور یہ لڑکی اسے دھمکیاں دے رہی تھی۔۔۔ اس کے سامنے کھڑی۔۔۔ اسکی پناہوں میں بے بس۔۔۔ اتنی ہمت اسے صرف نکاح کے دو بول دے گئے۔۔۔ گر جو وہ محبت کا اعتراف کر لیتا تو کتنا بچتا خود کے پاس۔۔
“م۔ مجھے کچھ نہ۔۔ نہیں پتا۔۔۔ مجھے بس اپنے کمرے میں۔۔۔۔۔ سامر میر نے اسے شدت سے بیڈ پر پٹخ دیا۔۔۔۔ اس کی برداشت یہی تک تھی۔۔۔۔ مہیرہ شدید خوفزدہ سی ہوتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
” جا کر دیکھاؤ اب مجھے اس کمرے سے باہر۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کیسے جاتی ہو۔۔۔ ” وہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھ گیا۔۔ سگار سلگاتے۔۔۔ وہ سپاٹ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔
اس سے محبت نہیں عشق تھا۔۔۔
اسکی طلب کی تمنا نہیں جنون تھا۔۔۔
اسکی ہر ادا پر دل مر مٹتا۔۔۔ مگر اتنے جلدی اس سے یہ برداشت نہیں ہورہا تھا کہ وہ اس قدر اس پر حاوی ہورہی تھی۔۔ ایسے انداز اسے کبھی برداشت نہیں کرنے پڑے۔۔۔ اب جب کررہا تھا تو انا آڑے آرہی تھی۔۔۔
مہیرہ کچھ دیر ویسے ہی بیٹھی خوفزدہ سی اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔ سیاہ بال لوز کرل سے دائیں کندھے پر بکھرے تھے سارے۔۔۔ رنگت۔۔ کچھ دیر پہلے لمس کے احساس سے شدید گلابی ہورہی تھی۔۔۔ سگار کا دھواں اسکی برداشت سے باہر تھا۔۔۔۔ اس نے جب دیکھا۔۔۔ سامر نے آنکھیں بند کرتے۔۔ سر صوفے سے ٹکا لیا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ کچھ دیر اور اس کے ساتھ کمرے میں نہیں رہ سکتی تھی۔۔ اسکی ماں جانے اسے کہاں ڈھونڈ رہی ہوتی۔۔۔۔ چپل ادھر ہی اتارتے وہ۔۔۔ سامر پر نظریں جمائے دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔سامر کا دماغ بالکل آؤٹ ہوگیا تھا پل میں۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *