Junoon Se Ishq Ki Rah By Aiman Khan Novel20575
Junoon Se Ishq Ki Rah By Aiman Khan
Genre : Pathan Family Base | Multiple Couples base | Cousin Base | Rude Hero Base | Happy Ending Novel
دار جی مجھے یہ شادی کی صورت نہیں کرتی میں ایک ایسی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا جسے میں جانتا بھی نہیں ہوں کبھی دیکھا بھی نہیں ہے اور کبھی ملا بھی نہیں ہو تو کیسے شادی کر لوں۔” دار جی کا چہرہ اس کی بات سن کر پل میں سرخ ہوا تھا۔ انہوں نے غصے سے اپنی مٹھیاں پھینچ لی تھیں ان کا دل کر رہا تھا کہ اس وقت درار کے منہ پر زور سے ایک لگائیں اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی تھی ان کے سامنے ان کی پوتی کو ٹھکرانے کی وہ بھی وہ پوتی جو انہیں سب سے زیادہ عزیز تھی ایک پل میں وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے اور وہ دھاڑے تھے آج اپنے اس پوتے پر جس کی جدائی وہ پندرہ سال سے برداشت کر رہے تھے انہیں اپنے یہ دونوں پوتا پوتی بہت عزیز تھے۔
” خبر دار درار سنان خان جو اس سے آگے تم نے ایک لفظ بھی کہا تو ہم تمہارا زبان تمہارے حلق سے
کھینچ لیں گئے تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ہمارے فیصلے میں بولنے کی ہماری بات سے انکار کرنے کی” ” دار جی آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر پر میں ہرگز آپ کی وہ بات نہیں مانوں گا جو میری زندگی متاثر کرے یہ بات آپ سن لیں اچھے سے کہ میں ہرگز اپنی مرضی کے خلاف شادی نہیں کروں گا” ” درار ہم تم کو کہ رہا ہے کہ تم ہمارے صبر کا ا ہمارے صبر کا امتحان مت لو امت کو سمجھے تم تمہارا شادی صرف اور صرف ہوگی۔” انہاج سے ہو
” دار جی پھر میں بھی آپ کو کہ رہا ہوں کہ میں یہ شادی نہیں کروں گا ” زو تا لا حکم دار کو ما( میں تمہیں حکم دیتا ہوں) دا زمانگے باندانی روایاتے دے ( یہ ہماری خاندانی روایات ہیں) آغا ستا پہوانائی خوگد نادا( وہ تمہاری بچپن کی منگ ہے) چاہے جو مرضی مرضی ہو۔” تو زما ہوتا ہے ) تم میرے پوتے ہو) –
اب دار جی اسے یہ سب باتیں دھاڑنے رہے تھے۔
پلیز دار جی میں جانتا ہوں یہ سب پر یہ میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر ایسا کیوں کرتے ہیں آپ
لوگ اپنے بچوں کی زندگیوں کا فیصلہ خود ہی کر لیتے ہیں۔
” یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ اس خاندان میں کسی شخص کی شادی اس کی بچپن کی منگ سے ہو رہی ہے سمجھے تم۔ میں نے کی تھی شادی اپنی بچپن کی منگ سے تمہاری بی بی جان سے پھر تمہارے باپ
نے کی اپنی بچپن کی منگ سے تمہارے چچانے کی اپنی بچپن کی منگ سے تمہاری پھوپھی کی ہوئی اس کی بچپن کی منگ سے تمہیں کیا یہ سب لوگ پاگل نظر آتے ہیں یاں ان کی کوئی خواہشیں نہیں تھی یا انہیں اپنی زندگی عزیز نہیں تھی سب نے روایات کا پاس رکھا ہے ادھام نے بھی رکھا پلوشے سے شادی کر کے مہجب رکھے گا صحیح بھی رکھے گا تم کوئی انوکھا کام کرنے نہیں جارہے ہو جو تم ہم کو وضاحتیں دے رہے ہو جب تمہاری شادی کا کہا ہے وہ تب ہی ہو گی سمجھے تم تو بہتر یہی ہو گا کہ کچھ وقت لو اور خود کو تیار کر لو سمجھوں گا ایک اور شخصیت قربان کردی ہم نے اپنی روایات پر اب تم ہو جائے دفع . جا سکتے ہو اور تب ہمارے سامنے آنا جب تمہارا دماغ . درست ہو جا ہو جاو یہاں سے۔”
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕