Dil Ko Qarar Aya by Muntaha Chouhan Novel20584
Dil Ko Qarar Aya by Muntaha Chouhan
Season 3 Tum Mery Nikah Main Ho
Rude Hero | Haveli Base | Suspense | After marriage | Forced Marriage | Romantic Novel
اوہ۔۔ ہیلو۔۔؟؟ ہیرو۔۔؟؟ یہ کیا طریقہ ہے لڑکی امپریس کرنے کا۔۔؟؟ اب وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی اس کے اندر کے سوۓ شیر کو جگانے لگی۔ جو ابھی بھی اسے گھورے جا رہا تھا۔
مانا۔۔ کہ مجھے ۔ بچایا۔۔ ہے۔۔؟؟ لیکن۔۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے۔۔؟؟ خود کی پرواہ کیے بنا۔۔ اپنی جان خطرے میں ڈال دو۔۔۔؟؟
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے اس شخص نے اسے ایک پل میں دونوں بازووٶں سے جکڑے خود سے قریب کیا۔ کہ ملکہ کا سانس تھما۔
تمہاری نہیں۔۔ اپنی ہی جان کو بچایا ہے۔۔۔! اس قدر سرد لہجے میں بولتا وہ ملکہ کو سن ہی کر گیا۔
اور اگلے ہی پل اسے جھٹکے سے چھوڑتا وہ آنکھوں پے سن گلاسز لگاتا وہاں سے دور ہٹ گیا ۔
بیٹی۔۔؟ آپ ٹھیک ہو۔۔؟؟ اقبال انکل فوراً اسکے پاس آۓ.
کون تھا یہ ۔۔اقبال انکل۔۔۔؟؟ اس نے۔۔ میری جان بچاٸ ہے۔۔۔؟؟ ملکہ نے حیرت اور تجسس سے اس کی پشت دیکھی جس نے ایک بار بھی پلٹ کے دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ تو اپنے ۔۔۔ زیشان بابا ہیں۔۔! اقبال کے لہجے میں محبت اور عزت پنہاں تھی۔ ملکہ نے مڑ کے انہیں اب کی بار آنکھیں پھیلا کے دیکھا۔
زیشان۔۔۔؟؟ زیرِ لب دہرایا۔ اور پھر سے پلٹ کے دیکھا۔
جی۔۔ ہمارے خان کے بھانجے ہیں۔۔ یہ۔۔!زیشان ارسل۔۔۔خانزادہ۔۔۔! اب کی بار پورا تعارف کروایا۔ تو اک ل کو ملکہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوٸیں۔
تم۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔؟؟ پاگل ہو گٸ ہو۔۔؟؟ ابھی گر جانا تھا۔۔۔!
آواز پے ملکہ نے ر اٹھا کے اسے دیکھا۔ جس نے اسے درخت سے نیچے گرنے سے بچا لیا تھا۔ اب ایسے کیا گھور رہی ہو۔۔؟؟ اٹھو۔۔۔ میرے اوپر سے۔۔۔! وہ پھر سے ماتھے پے بل ڈالے اس چار سال کی ملکہ کو گھور کے بولا تھا۔ وہ منہ بناتی اٹھ گٸ تھی۔
میں۔۔ نے کہا تھا۔۔ مجھے بچانے کو۔۔؟؟ وہ بی کمر پے ہاتھ رکھے لڑاکا لڑکیوں کی طرح بولی۔
زبان کو لگام دو۔۔ وتنہ کاٹ دوں گا۔۔ زیشان سخت غرا کے بولا۔ تو وہ معصوم سہم ہی گٸ۔۔ اس کی سرخ رنگ آنکھیں دیکھ وہ ڈر گٸ تھی۔۔
زیشان بھاٸ۔۔ مجھے ڈراٸیں تو مت۔۔۔۔! نیچے والا ہونٹ باہر نکال کے کہتی وہ بہت معصوم لگی تھی۔ لیکن۔۔ وہ کتنی معصوم تھی۔ یہ زیشان ارسل سے زیادہ کوٸ نہیں جان سکتا تھا۔
آٸندہ۔۔۔ اگر درخت پے چڑھی۔۔ تو دو رکھ کے لگاٶں گا۔ پاگل نہ ہو تو۔۔؟؟ زیشان نے اسے غصہ سے کہا۔ لیکن اس کے غصہ میں ھپی محبت کو وہ خود بھی نہیں سمجھ سکا۔ مجھے بچانے کا شکریہ۔۔۔ وہ نین کٹورہ آنکھوں میں آنسو لیے کہتے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کو بولی۔ اس نے پلٹ کے اس سنہرے بالوں والی گڑیا کو دیکھا۔ تمہیں نہیں۔۔ خود کو بچایا ہے۔۔
تمہاری نہیں۔۔اپنی ہی جان کو بچایا ہے۔ ماضی کی بھولی بھٹکی یاد نے ملکہ کو واپس ماضی کی جانب دھکیلا تھا۔ ا

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕