Ganwa Ke Dil o Jaan Hum by Umme Taifoor

Family issues | Rural vs urban life struggles | Migration challenges | Moral & societal values 

۔۔ سنبھالتی برآمدے پار کرتی حویلی کے گیٹ کا رخ کر رہی تھی۔۔۔ اس کے راہ میں آتی حویلی کی ملازمائیں بھی چیخیں دبائی ادھر ادھر دبک رہی تھیں ۔ ۔ ۔ کچھ کے حلق سے خوف کے مارے آواز بلند ہو کر اس عورت کی چیخوں کے ساتھ مدغم ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ اب تک حویلی میں چوہدری صاحب کی بندوق کا ایک فائر گونج چکا تھا۔۔ کوئی بھی بندوق کی نال کے سامنے نہیں آنا چاہتا تھا کیونکہ اس سمے جو خناس بڑے چوہدری کے دماغ پر سوار تھا اس نے اپنے پرائے کی پہچان بھلا دی تھی۔۔۔ حویلی کے زنان خانے کے ایک کمرے میں دروزہ میں مبتلا ایک دوسری عورت بے بسی سے سب سن رہی تھی لیکن کر کچھ نہی سکتی تھی۔۔ حویلی کے بچے خون سے مردانے کے کسی کمرے میں بند ہو چکے تھے ۔۔۔!
وہ عورت حامل تھی ۔۔ سراسیمگی نے اس کی شادابی نچوڑ کے رکھ دی تھی۔۔ آہنی گیٹ کے سامنے پہنچ کے وہ شش و پنج میں مبتلا رک گئی تھی ۔۔۔ باہر کا گھور سناٹا اور پر اسراریت اسے قدم باہر نکالنے سے روک رہی تھی ۔۔ تھوک نگلتی وہ رخ موڑتی گیٹ کی جانب پشت کیسے کھڑی ہو گی ۔۔۔ اپنے انجام کی دردناکی نے اس کی آنکھوں سے آنسو رواں کر دیے ۔۔۔اسی پل ایک اور فائر گونجا اور بڑے

چوہدری عین اس کی ناک کی سیدھ میں بندوق کی نال اس کی جانب کیسے آن کھڑے ہوئے ۔۔۔ ایسا دکھ بھرا منظر دیکھ کر کونے کھدروں میں دم سادھے دیگی ملازمائیں سسک اٹھیں ۔۔۔ اس عورت نے بے بسی سے دونوں باز و نیچے گرادیے تھے جیسے ہتھیار ڈال دیے ہوں ۔۔۔ بڑے چوہدری نے معنی خیز مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھا اور نشانہ لیا۔ ۔ ۔ عورت نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔ ملازماؤں نے چادروں کے پلو آنکھوں پر ڈال لیے ۔۔۔ ابھی فائر ہوا اور کام تمام ۔۔۔ بڑے چوہدری کی انگلی ٹریگر دبانے کو بے تاب تھی کہ ایک بچی کہیں سے بھاگتی ہوئی آئی اور اس عورت کے آگے دیوار بن کے دونوں بازو پھیلائے شرر بار نگاہوں سے فائر کرنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھنے لگی ۔۔۔ بڑے چوہدری جی نے نفرت سے اس بچی اور پھر عورت کو دیکھا۔۔۔ ان کی انگلی پل بھر کو ڈگمگائی۔۔ عورت نے ہراساں ہو کر بچی کو پرے دھکیلنا چاہا لیکن بچی جسم کے کھڑی رہی ۔۔۔ یہ عمل چند بار دہرایا جاتا رہا حتی کہ ایک آخری فائر داغ دیا گیا۔۔ حویلی کے زنان خانے اور صحن میں ایک ساتھ چیخیں گونج کر خاموش ہو گئیں ۔۔۔!

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *