Haq Mehar By Muntaha Chouhan Novel20582
Haq Mehar By Muntaha Chouhan
Rude Hero | Suspense | After marriage | Forced Marriage | Joint Family System | Multiple Couples | Romantic Novel
یہ بارات اب۔۔۔۔ واپس جاۓ گی۔۔۔۔
شاہان نے اونچی آواز میں کہا۔ تو ہال میں سناٹا چھا گیا۔۔
یہ۔۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔۔بیٹا۔۔۔ جی۔۔۔؟؟
شمس صاحب کے کندھےمزید جھک گۓ۔
یہ تو آپ کو حق مہر لکھوانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔
کون لکھ کے دیتا ہے اتنا۔۔۔ حق مہر۔۔۔۔؟؟
شاہان نے شاہانہ انداز میں کہا۔
بیٹا۔۔۔۔۔۔!! طے تو یہی ہوا تھا۔۔۔۔
کمزور اور نخیف آواز میں کہا۔
طے کیاہوا تھا وہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔!!
لیکن میں حق مہر میں دس لاکھ اور اور اتنا زیادہ گولڈ نہیں دے سکتا۔۔۔۔
اور۔۔۔۔ فیصلہ ہو گیا ہے۔۔۔۔!!
آپ رکھیں اپنی بیٹی اپنےپاس۔۔۔۔!!
ہاتھ جھاڑتا وہ اٹھا۔
چہ مگوٸیاں شروع ہو چکی تھیں۔
شمس صاحب نے ادھار لے کے۔۔ اور گھر گروی رکھاکے۔۔ جہیز کی ہر چیز ۔۔ لڑکے والوں کی ڈیمانڈ کے مطابق پوری کی۔
اور ساتھ میں انہوں نے حق مہر کی خود آفر کی۔ کہ وہ دس لاکھ لکھیں گے۔۔۔
جہیز جا چکا تھا۔۔۔۔ آج نکاح تھا۔۔ اور انہوں نے حق مہر کی رقم لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔
بیٹا۔۔۔۔۔!! میری ۔۔۔ بیٹی۔۔۔۔کی زندگی۔۔۔۔۔؟؟
تو آپ سوچیں ناں۔۔۔۔ بزرگو۔۔۔۔۔!!
شاہان نے ناک سے مکھی اڑاٸی۔
شمس صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔
واقعی بیٹیوں کے ماں باپ کتنے مجبور ہوتےہیں۔
سبھی ترحم بھری نگاہوں دے دیکھ رہے تھے۔
سب کوایک تماشا مل گیا تھا وقت گزاری کا۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔! اگر۔۔۔۔۔آپ کی یہی مرضی۔۔۔۔ہے تو۔۔۔!!
شمس صاحب نے باپ بن کے بیٹی کے مسقبل کا فیصلہ لینا چاہا۔
ایک منٹ۔۔۔۔!! دلہن بنی وہ سامنے تھی۔
آنکھیں اس کی بھی نم تھی۔
لیکن وہ کمزور نہیں تھی۔
سب کی نظریں اس پے اٹھیں۔
دلہے کے مقابل جا کھڑی ہوٸی۔
مجھے۔۔۔۔تم سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔!!
اونچی آواز میں بولتی انگلی اٹھا کے کہتی وہ سب کی بولتی بند کر گٸ۔
ابرش بیٹا۔۔۔۔۔!! کیا۔۔۔۔ کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟شمس صاحب نے گھبراتے ہوۓ بیٹی سے کہا۔
ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔!!آپ سب نے ناں۔۔۔ مل کے۔۔۔ بیٹیوں کا سودا کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔؟؟
بیٹی بھی دو۔۔۔۔اور۔۔۔ جہیز بھی دو۔۔۔۔!!
اور بدلےمیں حق مہر۔۔۔ لو۔۔۔۔!!
یہ کونسا نکاح ہے۔۔۔۔؟؟ کونسی سنت ہے۔۔۔؟؟
ایک مقدس فریضے کا مذاق بنا کے رکھ دیا ہے آپ سب نے۔۔۔۔۔!!
آنسو ناچاہتے ہوۓ بھی گالوں پے بہہ نکلے۔
نہیں۔۔۔ بابا ۔۔۔۔!!
اب اور نہیں۔۔۔۔ !!
ہم غریب ضرور ہیں۔۔۔۔!! لیکن بے غیرت نہیں۔۔۔۔۔
شمس صاحب کو وہ حوصلہ دیتی شاہان کی طرف دیکھتے آگے بڑھی۔
نکلو۔۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔!!
شاہان نے بھی حیرت سے اسے دیکھا۔
اپنی منہوس شکل لے کے ۔۔۔۔ یہاں سے دفعہ ہو جاٶ۔۔۔۔
غصے کی آخری حد کو چھوتی وہ شاہان سمیت سب کو سکتے میں ڈال گٸ۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕