Mera Haq E Wirasat By Muntaha Chouhan Novel20583
Mera Haq E Wirasat By Muntaha Chouhan
Rude Hero | Secret Agent | Suspense | After marriage | Forced Marriage | Romantic Novel
ابتسام علی پیرزادہ۔۔۔ ! ابرش کی اونچی پکار پے جہاں ابتسام چونکا تھا۔ وہیں ہال میں موجود سبھی کی نظریں اندر آتی ابرش پے ٹکیں تھیں۔
حراماں حراماں چلتی وہ ابتسام کے پاس آٸ۔ اور فاٸل اسکے سامنے ٹیبل پے پٹخی۔
یہ۔۔۔؟؟ یہ ہے۔۔آپ کا انصاف؟
ابرش اپنے غصہ کو قابو کرتی بمشکل بول پا رہی تھی۔
ابرش۔۔؟؟ بیٹا۔۔؟؟ آپ۔۔کیسے بات کررہی ہیں؟ آپ۔۔؟؟
ابی جان نے ٹوکنا چاہا۔ لیکن ابتسام نےانہیں روک دیا۔
ابرش اسکی نہ صرف شریک حیات تھی۔ بلکہ اسکی زندگی اسکی روح اسکا سب کچھ تھی۔ ایک وہی تھی۔ جسے بلاجھجک سب کچھ کہنے کا حق تھا۔ اور جو حق وہ خود اسے دے چکا تھا۔ کوٸ اور کیسے چھین سکتا تھا۔
ابرش کی لاٸ ہوٸ فاٸل پے ایک نظر ڈالی۔ جبکہ وہاں موجود سب کی نظریں کبھی ابرش اور کبھی ابتسام پے اٹھ رہی تھیں۔ سبھی کو تجسس ہورہا تھا۔ آخر فاٸل میں ایسا تھا کیا؟
ابر! بعد میں بات کرتے ہیں۔
بہت سنجیدگی سے کہتے فاٸل کو لیے وہ اٹھا تھا ۔
بعد میں کیوں؟ ابھی اسی وقت بات ہوگی۔ ابرش کالہجہ تیز ہوا۔
آپ کو یہ فاٸل کہاں سے ملی؟ ماتھے پے دو بل ڈالے وہ اس سے مخاطب ہوا۔
اسکے پوچھنے پے وہ اسکے بالکل سامنے جا کھڑی۔ ابتسام نے اسکے چہرے پے رقم غم و غصہ کے جذبات دیکھ لیے تھے۔
آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ ایک وکیل ہوں۔۔ اور یہ۔۔ فاٸل۔۔۔؟ مجھ سے چھپ سکتی ہے؟ آپ ۔۔۔آپ کیسے۔۔ میری بیٹیوں کو وارثت میں سے بے دخل کر سکتے ہیں؟ وہ بھی کسی لے پالک بچے کے لیے؟ کیسے۔۔۔؟؟ اب کی بار وہ کافی اونچی آواز میں چلاٸ تھی۔ جبکہ ابتسام اتنا ہی مطمین کھڑا تھا۔
بھابھی۔۔؟؟ آپ پلیز۔۔ تھوڑا۔۔؟؟؟
عروش نے کچھ بولنا چاہا۔
چپ۔۔۔! ابرش نے سختی سے انگلی اٹھا کے اسے وارن کیا۔ تو وہ اسی وقت لب بھینچ چپ ہوگٸ۔
بیچ میں کوٸ نہیں بولے گا۔ یہ ہمارا آپس کامعاملہ ہے۔ اسکی آنکھیں بھیگی ہوٸ تھیں۔ لیکن لہجہ اتنا ہی سخت تھا۔
آپ نے فاٸل پڑھ لی۔ اچھا ہوا۔ اور میں اپنے کسی بھی فعل کو کسی کو جواب دہ نہیں۔
ابرش کا آہان کے لیے لے پالک کا لفظ انتہاٸ تکلیف دہ تھا۔
ابرش کو سخت اور سپاٹ انداز میں کہتے آگے بڑھا۔ کہ ابرش نے ہاتھ بڑھا کے اسکی کلاٸ تھامی۔
جواب دہ ہیں۔۔۔! ہیں آپ جواب دہ۔۔۔! اللہ کے سامنے۔۔ ! آپ نے اپنی سگھی بیٹیوں کو جاٸیداد سے بے دخل کیسے کر لیا؟ کیا سوچ کے؟ اسکا جواب تو آپ کو دینا ہوگا۔ ابرش کی غصے سے سانسیں پھول رہی تھیں۔
اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ سب کچھ تہیں نیس کر دے۔
ابتسام نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنی کلاٸ چھڑاٸ۔
وکیل ہیں ناں۔۔آپ۔۔۔ بہت اچھی۔ عدالت میں چیلنج کر لیں۔ میری وصیت کو۔۔۔
سنجیدہ انداز میں کہتے وہ وہاں موجود سب کو ہی حیران وپریشان کر گیا۔
آج شادی کے باٸیس سال بعد اوہ دو پیار کرنےوالوں کو آمنے سامنے دیکھ رہے تھے۔ جن کی محبت کی مثالیں ساری دنیا دیتی تھی۔ آج انکی محبت کو کسی کی نظر لگ ہی گٸ تھی۔
جبکہ دور کھڑی ہانیہ ابتسام کے چہرے پے دلفریب مسکراہٹ تھی۔ اور وہ کیوں تھی۔ آنیہ ابتسام اچھی طرح جانتی تھی۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕