Mera Ishq Teri Justujoo By Muntaha Chouhan Novel20585
Mera Ishq Teri Justujoo By Muntaha Chouhan
Rude Hero | After marriage | Forced Marriage | Multiple Couples | Romantic Novel
پلیز!! مجھے معاف کردو۔۔۔! مجھ سے ۔۔۔۔ غلطی ہو گ ہی۔۔۔۔۔! خدا کے لیے معاف کر دو۔۔۔۔ جانے۔۔۔۔۔۔!!!
آن ۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔! صلہ دی گریٹ ۔۔۔۔۔ ! !. معافی مانگنے ۔۔۔۔ اور معافی دینے کا وقت ۔۔۔۔۔ نکل گیا ہے۔۔۔ اب تو سزا کا وقت ۔۔۔ ہے۔۔۔ سزا ملے گی ۔۔۔ ۔۔۔
سخت لہجے میں کہا۔ صلہ کا چھوٹا سا دل بری طرح دھڑکا۔
میں۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو۔۔!
نجانے کتنے دن سے یہاں ۔۔۔ قید ۔۔؟؟
تین دن سے ۔۔۔۔! سپاٹ لہجے میں بات کائی۔
حیرت کے مارے صلہ کی آنکھیں پھیل گئی ہیں۔
پلیز مجھے ۔۔۔۔ جانے دو۔۔۔۔ امی ۔۔۔۔ میری ۔۔۔۔؟
فاتحہ پڑھ چکے ہیں۔ ایک اور وار کیا۔
صلے کی تو زبان گنگ ہو گئی۔ آنسو متواتر بہتے چلے گئے
اب۔۔۔ یہ ڈرامہ بند کرو۔ اور میری بات کان کھول کر سنو ! سبحان کو اس کے آنسو مزید غصہ دلا رہے تھے۔
صلہ نے روتے ہوئے اسکی طرف دیکھا۔ یہاں سے نکلنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔؟
سیدھا آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ سوال کر رہا تھا۔
صلہ نے پتھرانی کی نظروں سے اسے دیکھا۔
ایک لمحے کے لیے سبحان ڈگمگا گیا۔ اپنے فیصلے ہے۔۔ کہ آیادہ اس لڑکی کے ساتھ صحیح کر رہا ہے یا نہیں ۔۔۔۔؟ لیکن اگلے پی ال وہ خوف کو کپوز کر چکا تھا۔ یہاں سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔
میرے ساتھ ڈیل کرنی ہو گی تمہیں۔۔۔! اب سبحان مکمل فارم میں آگیا تھا۔
صلہ اسے سمجھ نہیں پارہی تھی۔
تمہیں۔۔ مجھ سے نکاح کرنا ہو گا۔۔۔ نہ صرف نکاح۔۔
بلکہ چھ ماہ تک۔۔۔ لوونگ ہسبنڈ وائی ف کا ڈرامہ بھی بخوبی انجام دینا ہو گا۔
تو ہی تمہیں۔۔۔ یہاں سے رہائی کی مل سکتی ہے۔
سبحان اب پر سکون صلہ کو جانچ رہا تھا۔
میں۔۔۔۔ تم ۔۔۔ ہے۔۔۔ نکاح —–؟؟؟
صلہ بڑ بڑائی کی۔
لیکن۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ میری تو منگنی ہو چکی ہے۔۔۔۔
صلہ نے فوراً سے بیشتر منگنی کا سہار الیا۔
سبحان نے آگے بڑھ کر اسکی انگلی سے منگنی کی انگوٹھی نکال لی۔ صلہ تڑپ کر رہ گ نی۔
پلیز ۔۔۔۔ مت کرو۔۔۔ ایسا۔۔۔۔ میں اور عمر۔ دونوں ایک۔۔ دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہمیں۔۔ الگ مت کرو۔۔۔ وہ بلک بلک کے رودی۔۔۔
پھر سے ڈرا ہے۔۔۔۔۔۔!!!
سبحان کو پھر سے غصہ آگیا۔
میرے سامنے یہ پیار کا جھوٹا نالک مت کرو۔۔۔
تمہارے باپ نے پیسے کی لالچ میں ۔۔ امیر لڑکا دیکھا۔ اور تمہیں استعمال کیا۔
اور تم ۔۔۔۔۔۔ باپ کے کہے پر چل کر ۔۔۔۔۔ یہ سب۔۔۔ کر رہی تھی۔۔
اور وہ عمر ۔۔۔ تین دن پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر آخر تھک ہار کر بیٹھ گیا ہے۔
اینڈ دی گریٹ ۔۔۔۔ صلہ عرفان ۔۔۔۔! تین دن اور تین راتیں گھر سے باہر رہنے والی لڑکی کو۔۔۔۔ نہ ہی والدین قبول کرتے ہیں۔۔۔۔ اور نہ ہی۔۔ یہ معاشرہ۔۔۔!!!
اس لیے بہتر ہو گا۔۔۔ میری آخر پر غور کرو۔۔۔۔ رہانی کی بھی ملے گی ۔۔۔۔ اور پیسے بھی۔۔۔۔۔
! منہ ۔۔ مہنگے دام دوں گا۔۔۔۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕