Silsilslay Roshni Ke Nabeel Abr Raja Novel20625
Silsilslay Roshni Ke Nabeel Abr Raja
After Marriage| Kidnapping Base | Social Romantic Novel| Digest Novel| Complete Novel
اپنی دوستوں کے ساتھ ملکر اسنے ایڈوینچر کے طور پر ایک پولیس والے کو اغواہ کرلیا۔ وہ بےخبر تھی وہ شخص پولیس میں ہے۔ وہ بس اپنے باپ کو سبق سیکھانا چاہتی تھی جو اسکی سوتیلی ماں گھر لے آیا تھا۔ مگر تقدیر بڑی بےرحم نکلی وہ شخص اسکی سوتیلی ماں کی بہن کا بیٹا تھا جس سے اسکا ابا اسکی شادی کروانا چاہتے تھے،،، جسے اسنے اغواہ کیا اور جو اس سے نفرت کرتا تھا کیونکہ وہ اپنی سوتیلی ماں کو ہر جگہ زلیل کرتی تھی۔ اپنی سوتیلی ماں کی پریگنینسی کا سن کر جو اسنے سنایا وہ اسکا ہونے والا شوہر برداشت نا کر سگا تبھی وہ اس سے ہر انتقام لے رہا تھا۔۔۔۔
اپنے وجود میں خوشبو سمیٹے دلہناپے کا روپ سجائے زیورات اور قیمتی جوڑے سے آراستہ اس چہرے کو اس وجود کو وہ آج سے پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ اسپتال میں اسے دیکھ کر اس نے اپنی حیرانی ظاہر نہیں ہونے دی تھی کیونکہ تیمور صاحب کا وہ اپنے والد جیسا ہی احترام کرتا تھا۔
ایک تجسس ضرور تھا کہ پوچھے تم ان لڑکیوں کے ساتھ کیوں تھی؟؟ کیوں کیا تھا وہ سب اگر اس کے باوجود اس تجسس میں نفرت شامل نہیں ہوئی تھی۔ سلیمان سفید کاٹن کے کرتے شلوار میں ملبوس اس کے مقابل بیٹھا تھا۔ کسی دلکش سے کولون کی مہک نے نریم کے گرد گھیرا ڈالا تھا۔ نریم کا آنچل چہرے سے پیچھے کھسکا ہوا تھا اس لیے وہ اسے بڑی توجہ سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کی جھکی ہوئی پلکیں لرز رہی تھیں۔ یاقوتی لب باہم ایک دوسرے میں پیوست کسی نئی کہانی کو شروع کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔ نریم کے دونوں ہاتھ گود میں دھرے تھے۔ سلیمان نے غور سے اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور دائیں ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر دبایا تو نریم کے لبوں سے ہلکی سی سسکی نکلی۔
” بہت خوب یہ وہی ہاتھ ہیں ۔ میں پہچان گیا ہوں۔۔۔” نریم نے سراٹھا کر اسے دیکھا۔ “میرا مطلب ہے کافی خوب صورت ہاتھ ہیں نازک اور آرٹسٹک بہت نرم بھی ہیں۔۔۔” سلیمان نے ابھی تک اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔” جیولری بھی بہت خوب صورت پہنی ہے۔۔۔۔” وہ اس کی کلائیوں کو بغور دیکھ رہا تھا جو کہنیوں تک مہندی کے خوب صورت ڈیزائن سے سجھی ہوئی تھیں۔ اب سلیمان کا ہاتھ اس کی کلائی پہ تھا۔ نظریں ایک پل میں اس کی گردن میں سجے جڑاؤ ہار کانوں میں پہنے جھمکوں کو چھو آئیں ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر اس نے نریم کے ماتھے پہ چھولتی لٹ پیچھے کی۔ جانے کیا تھا وہ ایک دم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔اس کی کلائی سلیمان کی گرفت میں تھی جس میں سجی کانچ کی تین چار چوڑیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ اس کے بازو یہ چوڑی کا ٹکڑا چبھ جانے کی وجہ سے خون کا ایک قطرہ ابھر آیا تھا۔ “کوئی بات نہیں دشمنی میں سب چلتا ہے۔” اپنے مخصوص گہرے لہجے میں بولا تو نریم کو بے انتہا خوف محسوس ہوا۔
دل چاہ رہا تھا یہاں سے بھاگ جائے۔ سامنے بیٹھا شخص جو اسے مسلسل اپنی پر فسوں نگاہوں کی گرفت میں لیے بیٹھا تھا اپنے لمس سے اس کے دل کو دھڑکا رہا تھا۔
” بہت حسین لگ رہی ہو۔ ایک ایک نقش آج بول رہا ہے۔ یہ آنکھیں ” سلیمان کی انگلی اس کی بند آنکھوں پہ دھری تھی۔۔۔ ” یہ ہونٹ یہ گردن یہ وجود۔۔۔” سلیمان کا ہاتھ بول رہا تھا۔ “یہ ہار اتار دوناں!” سلیمان کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کی طرف بڑھے۔۔۔۔” نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔” لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے لبوں سے نکلے پہلے وہ پیچھے ہوئی پھر بیڈ سے ہی اتر گئی۔ زرتار دوپٹے میں جو پنیں لگی تھیں وہ تو پہلے ہی نکال چکی تھی اب جو یوں ڈر کے پیچھے ہوئی تو دوپٹہ سر سے اتر ہی گیا۔ سلیمان لمحوں میں اس تک پہنچ گیا۔۔۔۔ ” سوٹ ہارٹ کیا ہوا؟” وہ انجان پنے سے بولتا نریم کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
” مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز چھوڑ دیں۔ ” نریم نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلنا چاہا۔۔۔” اس وقت ڈر نہیں لگ رہا تھا جب ایک چھ فٹ کے مرد کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر آنکھوں پر پٹی باندھ رہی تھیں ۔” سلیمان کے لہجے سے ساری نرمی رخصت ہو چکی تھی۔
” بولو بولو۔۔۔۔ کیا منصوبہ تھا تمہارا؟؟؟ اور تمہاری دوستوں کا؟؟؟ کس نے بھیجا تھا؟؟؟ ” نریم کا ہاتھ اس کی سخت گرفت میں پر مرا کر رہ گیا۔ آنکھوں میں آنسو بھی آگئے۔ “تمہارے اس خوب صورت وجود میں بے رحم دل ہے۔۔۔” سلیمان کا لہجہ آگ برسا رہا تھا۔ اسی دوران اس کا موبائل فون گنگایا۔۔۔۔۔
اس نے خود پہ قابو پاتے ہوئے کال ریسیو کی۔۔۔” کیا کہہ رہے ہو ریان؟؟؟ یہ کیسے ہوا۔۔۔؟؟؟میں ابھی آرہا ہوں۔۔۔” وہ فون سن کر اسی قدموں دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔ چند منٹ گزرے تھے کہ خدیجہ نریم کے پاس آئیں تھیں۔
” کپڑے بدل لو۔۔۔” ان کا لہجہ نم اور سنجیدہ تھا۔
” آنٹی کیا ہوا؟” اس کے دل میں کسی انہونی کا خدشہ جاگا۔
” جلدی کپڑے بدلو ہمیں تیمور بھائی کی طرف جانا ہے۔ طبیعت خراب ہے ان کی ” اپنے باپ کا سن کر نریم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔۔
” مما جلدی کریں گاڑی میں بیٹھیں۔۔۔۔ ریان گھر لاک کر کے آجائے گا۔ ” سلیمان دوبارہ بیڈ روم میں آیا۔ نریم کپڑے تبدیل کر کے چادر اوڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔” آپ دونوں گاڑی میں بیٹھیں میں آرہا ہوں۔۔۔۔ ” وہ اپنا والٹ ڈھونڈ رہا تھا۔ خدیجہ نریم کو ساتھ لے کر باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئیں۔۔۔۔۔۔

Download link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕