Tumhare Husun Ke Nam By Ayesha Majeed

Forced Marriage| Rude Hero| Emotional Drama| Romantic Urdu Novel| Complete Novel 

” مبارک ہو آپ کی بیٹی ہوئی ہے ” ڈاکٹر کی آواز پر سردار جازم خانزادہ نے ضبط سے اپنی آنکھیں بند کیں۔ اسکی محبوب بیوی نے پانچویں بیٹی کو جنم دیا تھا اور آپریشنز کی وجہ سے اب وہ ماں نہیں بن سکتی تھی۔ گھر کے بڑوں اور گائوں کے مردانگی کے طعنوں سے پریشان ہوتے اس نے بیٹی کی پیدائش کے پانچویں روز دوسرا نکاح کیا تھا صرف بیٹے کے لیے۔ اسکی پہلی بیوی صدمے و بےبسی سے روتی رہ گئی تھی۔دوسری شادی کے سال بعد ہی جازم خانزادہ کو بیٹا پیدا ہوا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنی لاڈلی بیوی اور بیٹیوں کو فراموش کر گیا پر جب ہفتے بعد پہلی بیوی کے کمرے میں گیا تو غصے سے کھول اٹھا کیونکہ اسکی بیوی اپنی بیٹیوں کو لیکر شہر جا چکی تھی۔۔۔

” مبارک ہو دو جڑواں بیٹیاں ہوئیں ہیں۔۔۔ ” جازم کچھ ردعمل دیتا اس سے پہلے ہی رشیدہ بیگم نے دل پر ہاتھ رکھ کے استغفر اللہ کہا جس پر جازم کا دل چٹخ کر رہ گیا ” پتہ نہیں کیا گناہ کر دیا تھا۔۔؟؟؟ “وہ بڑبڑائیں اور بچوں کو دیکھے بغیر پلٹ گئیں جازم نے اترتے چہرے کے ساتھ بچیوں کو گود میں لیا نرسیں بھی عجیب نظروں سے یہ منظر دیکھتی پلٹ گئی زینب کا چہرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ” اس پر انسان کا کوئی ارادہ یا طاقت نہیں ہوتی جازم بیٹا بیٹیوں سے نفرت نہیں کرتے ان سے بیزار نہیں ہوتے۔۔۔۔ “

” آپ کو کیوں لگ رہا ہے کہ میں اپنی بیٹیوں سے نفرت کروں گا؟؟؟ یا بیزاری ہوگی مجھے؟؟؟ ” وہ آہستگی سے پوچھ رہا تھا وہ کچھ نہ کہہ سکیں مگر ماں کا رویہ دل میں بری طرح بھری کھپ سا گیا تھا۔۔ اندر زمرد کو اپنا آپ مجرم لگ رہا تھا مگر کیوں؟؟؟ وہ جان بوجھ کر کئی منٹ سے آنکھیں موند لیٹی رہی۔۔۔۔

 روم میں شفٹ ہونے کے بعد بھی اس نے آنکھیں نہیں کھولیں ” تم ٹھیک ہو۔۔۔” جازم نے آہستہ سے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا وہ آنکھیں کھولے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جہاں خاموشی تھی۔۔۔۔

 چہرے پر خوشی کا کوئی احساس نہیں تھا۔۔۔ ” نہیں کون ماں خوش ہوگی یہ جان کر کے اس دنیا میں اس کی اولاد کی آمد پر لوگوں کے دل دکھ سے بھر گئے ہیں۔۔۔”

” ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟؟؟ ” وہ یکدم الجھ سا گیا۔۔۔ ” میری بات عجیب لگ رہی ہے؟؟ تو جا کر آئینہ دیکھ لیں۔۔۔” وہ تلخی سے بولی وہ کچھ نہ بولا۔ ” میں دکھی نہیں ہوں۔۔۔” ” خوش بھی تو نہیں ہیں ” ” خوش تو تم بھی نہیں لگ رہی ہو تو تم کیا خوش نہیں ہو؟؟ ” وہ نرمی سے بولا ” میری خوشی کا احساس آپ کو آپ کے گھر والوں کی جہالت کے اظہار کے خدشات نے پھیکا کر دیا ہے۔۔۔” وہ کہہ کر آنکھیں موند گئی ” میں سوا مہینہ یہیں رکوں گی۔۔۔” اس نے بھیگے لہجے میں کہا۔۔ ” لیکن کیوں؟؟؟ تم حویلی چلو گی۔۔” ” میں سامنا نہیں کر پاؤں گی آپ کی ماں کا۔۔۔” وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی ” اور پتہ نہیں کیوں مجھے لگ رہا ہے کہ اس بار آپ میرے آگے بھی نہیں کھڑے ہوں گے۔۔” ” فضول باتیں مت کرو زمرد تم میری بیوی۔۔۔۔ ہو میری زندگی ہو میری بیٹیاں میرا دل ہیں کوئی بھی چیز تم لوگوں کی اہمیت ختم نہیں کر سکتی۔۔۔” وہ مضبوط لہجے میں کہہ رہا تھا اس نے نم آنکھوں سے قریب لیٹی معصوم بچیوں کو دیکھا جو اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولیں انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔ ” اس بار مجھ پر گئی ہیں۔۔۔” اس نے کہتے زمرد کی طرف دیکھا تبھی اس کا فون بجنے لگا وہ اٹھ کر باہر آیا فون اٹھایا تو اسے لگا شاید مبارکباد دی جائے گی مگر دوسری طرف باپ کی بیزار آواز پر وہ دل ہی دل میں دھک سے رہ گیا۔۔۔۔۔

” بات سنو جازم!!!! پچھلے گاؤں کا جو پانی کا مسئلہ چل رہا تھا اس کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے تمہیں پنچایت میں بیٹھنے کے لیے مرکزی گاؤں جانا ہے۔۔۔”

” بابا میں تو ہاسپٹل۔۔۔”

” چھوڑو ہاسپٹل کو فی الحال وہاں زمرد کے والدین ہیں اس وقت یہ معاملہ ضروری ہے میں نے تم سے پرسوں کہا تھا تم اس کے باوجود ہاسپٹل کے لیے نکل گئے ہمارے بھی بچے ہوئے ہیں بیٹوں کی پیدائش پر بھی بیوی بچے کو ہفتے ہفتے بعد ملتے تھے تم نے سرداری کو مذاق سمجھ رکھا ہے ابا جان ہم سے خفا ہیں فورا نکلو وہاں سے۔۔” وہ گرجدار آواز میں کہہ کر فون بند کر چکے تھے جازم اندر آیا اور سمجھ ہی نہ سکا کہ کیا کہے؟؟؟ وہ اس کی حساسیت سے واقف تھا ” بابا کا فون تھا۔۔۔ ” اس نے بات کا آغاز کیا تو وہ سر اٹھائے اسے دیکھنے لگی۔۔۔” میں نے تمہیں گاؤں میں پانی کے مسئلے کا حل بتایا تھا نا وہ اسے یاد دلا رہا تھا۔۔۔۔ ہاں میں اس نے سر ہلا ” اس مسئلے کی آج پہلی بیٹھک ہے۔۔” کہ کر وہ خاموش ہو گیا نگاہیں اس پر جمی تھیں وہ کچھ پل خاموش رہی وہ اس کے کہے بغیر سمجھ گئی جیسے جانے کا حکم ملا ہے اور وہ جانے سے کترا رہا ہے یا اس کی ناراضگی کے ڈر سے کہہ نہیں پا رہا وہ اسے مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔۔۔

” آپ کو وہاں ہونا چاہیے آپ چلے جائیں۔۔۔” وہ نرمی سے بولی وہ اسے دیکھتا رہا ” میں فارغ ہوتے ہی فورا واپس آؤں گا۔۔۔ ” وہ اس کا گال تھپتھپا کر بولا زینب خاموشی سے یہ منظر دیکھتی رہی۔۔۔ ” تو میری بیٹی بھی سمجھدار ہو گئی ہے۔۔۔” وہ آہستگی سے مسکرائی اس کے جاتے ہی وہ بولی تھی اور وہ مسکرا بھی نہ سکی بس ایک گہری سانس لی پتا نہیں کب اس کے بنا کہے اس کے دل کی الجھنیں سمجھنے لگی ” میں نے کبھی اظہار نہیں کیا کھل کر موم مگر میں اس سے ایسی محبت کر بیٹھی ہوں جیسے آپ نے ڈیڈ سے کی اور میں ہمیشہ آپ کا مذاق بنایا کرتی تھی۔۔۔ ” وہ اداس تھی اور زینب کے پاس اسے تسلی دینے کو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔

Download link

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *