Dill Ki Dastak By SA Novels

Forced Marriage Base | Rude Hero | Emotional Drama |  Romantic Urdu Novel |  Complete Novel

” تمہیں کیا لگا میں تمہارے اس بدبودار جسم کے قریب آنا پسند کروں گا۔۔۔ ” وہ اسکی منکوح تھی جسکے ماں باپ گزر چکے تھے۔۔۔۔شہروز نے پسینے میں شرابو مہر النسا پر ایک تنفر بھری نظر ڈالی اور اسے گھسیٹ کر شاور کے نیچے کھڑا کیا۔۔۔ ” جب تک تمہارے جسم سے آنے والے اس پیاز اور کچن کی بدبو ختم نہیں ہو جاتی میں تمہارے قریب آنا بھئ پسند نہیں کروں گا۔۔ ” دو گھنٹے شدید سردی میں اسے شاور کے نیچے کھڑا رکھا۔ پھر بڑی بے دردی سے اس کے جسم کو روندتا اسے چھوڑ چکا تھا۔۔۔” تم میری بیوی ہونے کے قابل ہی نہیں ہو نکل جاؤ اس گھر سے۔۔۔” کچھ سالوں بعد شہروز اپنی دوسری بیوی کے لیے شہر کی مشہور ترین ڈیزائنر کے پاس ڈریس خریدنے گیا مگر جیسے ہی سامنے بیٹھی ہوئی ڈیزائنر پر نظر پڑی تو اس کی آنکھیں حیرت کے مارے پھٹ گئیں۔۔

مہر النساء کے ساتھ چھوٹی سی بچی جو اسے ” مما ” کہتے وہاں گھوم رہی تھی ان الفاظوں پر وہ شددد رہ گیا۔۔ کیا وہ اسکی بیٹی تھی؟؟؟

” دو ٹکے کی درزن تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یوں بات کرنے کی۔۔۔ ” تائی جان غصے سے کھڑی ہو گئیں ” تم بھول گئی ہو کہ تم اس گھر کی دھتکاری ہوئی یتیم لڑکی ہو تمہارے ماں باپ مرگئے۔ تمہیں ہم نے پالا اور تمہاری اوقات ہمارے گھر کی ملازمہ کی جوتی کے برابر بھی نہیں ہے میری خیرات پر پلی ہو تم اور آج میری ہی سامنے زبان چلا رہی ہو؟؟؟ ” مہرالنساء کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری، ” میں کچھ نہیں بھولی تائی جان مجھے ایک ایک پل یاد ہے کہ کس طرح آپ کے بیٹے کی جھوٹی انا نے میرا مذاق اڑایا تھا زبردستی کے بچپن کے نکاح کو آپ لوگوں نے میرے گلے کا توک بنا دیا۔۔ لیکن آج میں جو کچھ بھی ہوں صرف اپنی محنت سے ہوں آپ کے کسی احسان سے نہیں،،، میرا کام میری پہچان ہے،،، آپ کی طرح کسی مرد کے نام پر میرا غرور نہیں ٹکا ہوا۔۔۔”

” یہ کیا بدتمیزی ہو رہی ہے یہاں۔۔۔” اسی پل ڈرائنگ روم کے دروازے پر بھاری قدموں کی آہٹ ہوئی اور شہروز اپنے مخصوص مغرور انداز میں داخل ہوا۔۔۔ ” تم ہو کون جو میری ماں کے سامنے کھڑی ہو کر اونچی آواز میں بات کر رہی ہو؟؟ ” مہراالنساء نے ملک شہروز کو دیکھا اس کی سیاہ گہری آنکھوں میں صدیوں کی نفرت تھی۔ شہروز اسے دیکھتے ہی جیسے پتھر کا ہو گیا۔ وقت جیسے تھم گیا وہ مہرالنساء تھی وہ یتیم لڑکی جسے بچپن کے ایک زبردستی کے نکاح کے بعد اس نے دھتکار دیا تھا۔۔۔ وہ روتی دھوتی اور ڈری سہمی ہوئی لڑکی آج ایک پر اعتماد اور قیامت خیز حد تک خوبصورت عورت بن کر اس کے سامنے کھڑی تھی جس کے چہرے پر بلا کا غرور تھا۔۔ شہروز کے قدم وہیں رک گئے اس کے اندر جیسے کسی نے چنگاری سلگا دی ہو۔۔ وہ بے ساختہ دو قدم آگے بڑھا۔

” میں وہی ہوں شہروز جسے تم نے اپنے پیروں کی دھول سمجھا تھا۔۔ مہرالنساء کی سر آواز نے اسے حقیقت میں لا پٹخا،،، ” آج میں یہاں تائی جان کی فرمائش پر ان کے کپڑے دینے آئی تھی لیکن شاید انہیں اعلی چیزوں کی پہچان نہیں۔۔ ” مہر النسا نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور شہروز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ گئی شہروز بس اسے جاتا دیکھتا رہ گیا تائی جان غصے سے ہانپ رہی تھیں لیکن شہروز کی سماعتوں میں صرف مہرالنساء کے الفاظ گونج رہے تھے وہ ابھی ایک اور سچ سے انجان تھا اسکی اولاد جو مہرالنساء کی آغوش میں پل رہی ہے۔۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *