Siyah Raat By Mirha Kanwal 

 

نیو یارک میں آج میرا پہلا دن ہے،،،

کچھ وقت پہلے میرا ایک ایسے شخص کے ساتھ نکاح ہو چکا ہے جس کے بارے میں کچھ جاننا تو دور کی بات مجھے اس کا نام بھی نکاح نامہ پر سائن کرتے وقت معلوم ہوا،،،

“روحان ارسم”

وہ شخص کیسا ہو گا؟
کیسا دکھتا ہو گا؟
کیسے مزاج کا ہو گا؟
میرے ساتھ اس کا کیسا رویہ ہو گا؟

وہ صوفے پر بیٹھی ٹھنڈ سے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں کو مسلتی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی جب ملازمہ اس کے سر پر آن کھڑی ہوئی،،،

بیگم صاحبہ آئیں آپ کو صاحب کے کمرے تک چھوڑ دوں،،،
عنائزہ بھاری سرخ لہنگا سمبھالتے ہوئے اٹھی اور اس کے ساتھ چلنے لگی،،،

اس کے دل کی دھڑکن اس وقت عروج پر تھی،،،
لاؤنج سے گزرتے ہوئے عنائزہ کی نظر ایک بڑی سی گلاس وال کی طرف پڑی جو نیویارک کا منظر پیش کر رہی تھی،،،

آسمان سے گرتی سنو جسے دیکھنے کا عنائزہ کو بچپن سے ہی شوق تھا آج وہ یہ منظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی مگر اس وقت اس کا دل کسی قسم کے بھی جذبات سے عاری تھا،،،

ان کی فیملی کہاں ہے؟ عنائزہ سنو فالنگ سے نظر ہٹا کر گھر کو دیکھتے ہوئے بولی،،،
بڑی بیگم صاحبہ جو صاحب کی دادی تھیں کچھ دن پہلے ان کا انتقال ہو گیا،،، ملازمہ نے جواب دیا

اوہ بہت افسوس ہوا،،، عنائزہ کو اس وقت اپنی جان کے لالے پڑے تھے کسی اور کی فکر کہاں تھی،،،
“اور باقی فیملی” سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے سرسری طور پر پوچھا

یہ رہا صاحب کا کمرہ وہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر واپس مڑ گئی یہ بات عنائزہ کو کچھ عجیب لگی،،،

عنائزہ نے اپنا رخ کمرے کی طرف کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ شخص اس وقت کمرے میں موجود ہے یا نہیں،،،

اندر جانے کے خیال سے اس کی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں،،،
ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا اور ایک آواز کے ساتھ دروازہ کھلتا چلا گیا،،،

اس نے کمرے کے اندر قدم رکھا،،،
اتنا سادہ کمرہ اس نے شاید پہلی بار دیکھا تھا
سفید بیڈ شیٹ، گلاس وال کے ساتھ لٹکے سفید پردے اور فرنیچر میں یہاں چند ہی چیزیں تھیں،،،

اوہ میرے خدایا نہ جانے یہ شخص کیسا ہو گا،،، ایک ڈر کے ساتھ عنائزہ نے اپنا دوسرا قدم اندر رکھا
اب وہ دروازہ بند کر کے کمرے کا مزید جائزہ لینے لگی جب صوفے کے پیچھے سے اسے کچھ آہٹ سنائی دی،،،

وہ بے آواز قدموں سے صوفے کی جانب بڑھنے لگی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا دل دیہک کر رہ گیا،،،

ایک لڑکا جو اپنے گھٹنوں میں چہرہ چھپائے یوں ڈر رہا تھا جیسے کبوتر کا بچہ بلی کے ڈر سے آنکھیں موندے بیٹھا ہو،،،

کیا یہی وہ شخص ہے جس کے ساتھ میرا نکاح ہوا ہے؟ ایک سوال جو عنائزہ نے خود سے کیا تھا،،،

کون ہیں آپ؟
عنائزہ نے اسے مخاطب کرنے کی ناکام کوشش کی
وہ مزید اپنا چہرہ گھٹنوں میں چھپانے لگا اس کی دبی دبی سسکیوں کی آواز عنائزہ کی سماعت میں پڑ رہی تھی،،،

ر۔۔روحان،،،

عنائزہ نے اس کا نام پکارا تا کہ وہ کنفرم کر سکے کیا یہی وہ شخص ہے جس سے اس کا کچھ وقت پہلے نکاح ہو چکا ہے،،،
روحان نے ڈرتے ڈرے اپنا چہرہ گھٹنوں سے اوپر اٹھایا،،،
خوبصورتی کی ایک ایسی مثال جسے دیکھ کر عنائزہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں،،،

ماتھے پر گرتے سنہری بال،،، آنسوؤں سے تر ایسی سبز آنکھیں کہ جن کی خوبصورتی بیان نہ کی جا سکے،،، خوف سے کپکپاتے باریک سرخ لب جن کے نیچے بائیں جانب چھوٹا سا سیاہ تل تھا،،، دودھیا رنگت جو ہاتھ لگانے سے شاید میلی ہو جاتی،،،

پ۔۔پلیز مجھ سے دور رہو م۔۔۔میرے قریب مت آنا،،، وہ عنائزہ سے اس طرح خوف کھا رہا تھا جیسے وہ انسان نہیں ایک چڑیل ہو
عنائزہ اسے دیکھ کر پریشان ہونے لگی آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہے تقریباً چھبیس سال کا ایک جوان لڑکا اس طرح سے کیسے ڈر سکتا ہے

روحان،،،
اس نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا
ن۔۔نہیں پ۔۔پلیز پاس م۔۔مت آنا،،، وہ کسی بچے کی طرح ہچکیوں سے رونے لگا

حیرت زدہ ہو کر عنائزہ ایک ایک قدم اس سے پیچھے اٹھانے لگی کہ وہ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے ٹکرائی،،،
اس کی نظر ٹیبل پر پڑی جہاں ایک میڈیکل فائل تھی،،،

عنائزہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے فائل اٹھا کر کھولی،،،
اس کی نظر ایک جگہ آکر ٹھہر گئی
“Human phobia”

(یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض انسانوں سے ہی ڈرتا ہے ان کے وجود سے خوف کھاتا ہے ان سے دور بھاگنا چاہتا ہے اور وہ ہر وقت اکیلا رہنا پسند کرتا ہے)

عنائزہ کے ہاتھ سے فائل گری وہ بیڈ سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی
“کیوں بابا آخر کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا”،،، اس کے خواب اس کی آنکھوں سے بہنے لگے تھے،،،

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *