- Age Difference
- Army Based
- Cheat Based
- Class conflict
- Cousin Marriage Based
- Crime Thriller
- Digest Novel
- Drugs Based
- Family Rivelary Based
- Fantasy Novels
- Forced Marriage Based
- Friendship Based
- Gaddi Nasheen
- Gangster Based
- hacking
- Halala Based
- Haveli based novels
- Hidden Nikah Based
- Inspirational Fiction
- Jageer Dar Based
- Journalist Based
- Khoon Baha Based
- Khubsurat Muhabbat ki Kahani
- kidnapping Based
- Love Story Based
- Love Triangle
- Murder Mystery
- Mystery
- Past Story Based
- Politician Based
- Revenge Based
- Revenge Based Novels
- Robotics Fiction
- Romantic Fiction
- Romantic Urdu Novel
- Rude Hero Based
- Rural to Urban Transformation
- scam
- Science Fiction Based
- Second Marriage Based
- Social Engineering
- Social issues Based
- Step Brothers Rivelry
- Suspense Thriller
- Under Cover Agent
- University life
- Village Based
- Women’s Empowerment
Maye Na Murda Ishq By Nabila Aziz
Genre : Contract Marriage Based | Emergency Nikkah based | Employe Hero| Rich Heroine | Village based
Download Link
“مجھے طلاق نہیں چاہیے۔آپ سائن نہیں کریں گے۔”وہ اس کے ہاتھ میں دیا جانے والا قلم دیکھ کر چیخ اٹھی تھی۔
“رباب۔”میڈم جہانیاں نے متحیر ہوکر اسے دیکھا۔
“ہاں میں ٹھیک کہ رہی ہوں مجھے سکندر رحمن سے
طلاق نہیں چاہیے۔میں اس کی بیوی ہوں اس کی بیوی ہی رہنا چاہتی ہوں۔”
“یہ کیا پاگل پن نہیں ہے؟”وہ اٹھ کر اس کے سامنے آگئی تھی۔
“یہ پاگل پن نہیں ہے مام یہ رشتہ ہے اور رشتے کھیل نہیں ہوتے جب چاہے جوڑ لو
جب چاہے توڑ دو۔جس شخص نے مجھے عارضی طور پہ تحفظ فراہم کیا ہے
وہ عمر بھر بھی تو مجھے تحفظ دے سکتا ہے اور میں اگر چھ ماہ اپنی سلامتی کیلیے
گاؤں میں گزار سکتی ہوں تو چھ صدیاں بھی اپنے دل کی سلامتی کیلیے گاؤں میں
گزارا کر سکتی ہوں۔”وہ اچانک زندگی کے اس محاظ پہ خود ہی ڈٹ گئی تھی
اور سکندر کے ساتھ ساتھ وکیل صاحب بھی ماں بیٹی کو روبرو اور دوبدو دیکھ کھڑے ہوگئے تھے۔
“اپنا سٹینڈرڈ اپنا سٹیٹس دیکھو وقتی جذبات میں مت پڑو۔”
“مام میں اگر وقتی جذبات کو ترجیح دینے والی لڑکی ہوتی تو بہت پہلے سے سنی کی
بانہوں میں جھولتی اس کا نوالہ بن چکی ہوتی اور آج میری پاکیزگی اور
پاکدامنی پہ آپ کو فخر نہ ہوتا اور شاید آپ کو اندازہ نہیں کہ سکندر رحمن ہی میرے
سٹینڈرڈ کا آدمی ہے میرا معیار جتنا بلند ہے وہ میرے معیار سے بھی اتنا ہی بلند ہے۔
”اس نے یوں بات کی جیسے سکندر رحمن وہاں موجود ہی نہ ہو اور وہ دھڑلے سے اس کا ذکر کیے جارہی ہو۔
“اور اگر میں تمہاری نےوقوفی پہ تمہارا ساتھ نہ دوں تو۔”
“تو پھر آپ میری موت میں تو میرا ساتھ دیں گی نا۔؟”