- Age Difference
- Army Based
- Cheat Based
- Class conflict
- Cousin Marriage Based
- Crime Thriller
- Digest Novel
- Drugs Based
- Family Rivelary Based
- Fantasy Novels
- Forced Marriage Based
- Friendship Based
- Gaddi Nasheen
- Gangster Based
- hacking
- Halala Based
- Haveli based novels
- Hidden Nikah Based
- Inspirational Fiction
- Jageer Dar Based
- Journalist Based
- Khoon Baha Based
- Khubsurat Muhabbat ki Kahani
- kidnapping Based
- Love Story Based
- Love Triangle
- Murder Mystery
- Mystery
- Past Story Based
- Politician Based
- Revenge Based
- Revenge Based Novels
- Robotics Fiction
- Romantic Fiction
- Romantic Urdu Novel
- Rude Hero Based
- Rural to Urban Transformation
- scam
- Science Fiction Based
- Second Marriage Based
- Social Engineering
- Social issues Based
- Step Brothers Rivelry
- Suspense Thriller
- Under Cover Agent
- University life
- Village Based
- Women’s Empowerment
Orhli Mohabbat By Wahiba Fatima
Age Difference | Possessive Hero | Forced Marriage | Second Marriage | Romantic Novel
وہ اپنا سامان اطمینان سے پیک کر رہی تھی اور وہ کمرے میں ادھر ادھر چکر لگاتا بری طرح جھنجھلا رہا تھا۔ ظالم سماج نے رخصتی واپس لے لی تھی۔ تاشو مومی کو لینے گیا تھا۔ اب تین بعد شہر کے بڑے ہال میں ایک بہت بڑا ریسپشن تھا جس کے بعد ان کی دلہنیں باقاعدہ طور پر ان کے کمروں میں پہنچائی جانی تھی۔ تبھی سیام کڑوے سے منہ بناتا دانت کچکچا رہا تھا۔ یہ دا جی کا حکم تھا۔
اور سڑے بینگن کو سر تاپا جلا کر چھیڑ دیا گیا تھا۔ اب تو اپنے کمرے میں ایک سیکنڈ بھی وہ موجود نا ہوتی تو دل بیٹھنے لگتا تھا کجا کہ اسے پورشن سے ہی نکال دیا جائے۔۔ وہ عرفہ کا چوری چوری مسکرانا دیکھ رہا تھا۔
اس سڑے بینگن کا فق چہرہ دیکھ عرفہ دانتوں تلے لب دبا کر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوئی۔ تبھی وہ جارحانہ تیور لیے اس کی جانب لپکا۔
عرفہ بھاگ کر ڈریسنگ میں بند ہونا چاہتی تھی۔ مگر اس کی یہ کوشش سیام نے بری طرح ناکام بنائی تھی۔ وہ اب کھل کر قہقہے لگا کر ہنسی۔ سیام نے سختی سے اسے کمر سے جکڑ کر خود میں بھینچا۔
اس گستاخی کا مطلب،، آئبرو اچکائی۔
آپ کی یہ سڑے بینگن جیسی شکل دیکھ کر ہنسی آ رہی ہے،، ہاہاہا،، ہاہاہا،،، وہ ہنسے گئی۔ سیام کو بھی ہنسی آئی مگر پی گیا۔
اور مجھے یہ تمھارا تازہ تازہ لشکارے مارتا پمپل بڑا اچھا لگ رہا ہے،، سیام نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔
کیا،، کدھر سیام،، او نو، عین ریسپشن کے موقع پر پمپل،، ناٹ اگین،، عرفہ کا دل کیا اس پمپل کا سر پھوڑ دے۔ تبھی رونے والی ہو گئی۔ اور اسے دور ہٹا کر آئینے کی جانب دیکھا تاکہ اپنا تازہ تازہ پمپل دیکھ کر اس پر ماتم کر سکے۔
تمھارے دیکھنے سے وہ کیا ڈر کے مارے غائب ہو جائے گا،، سیام نے اطمینان سے کہا اور اسے بانہوں میں بھرے رکھا۔
سیام ہٹیں پیچھے مجھے دیکھنے دیں کدھر ہے،، وہ جھنجھلائی۔ موڈ بری طرح خراب ہوا تھا۔ پمپل والی دلہن اففففففف۔
اب سیام مزے لے رہا تھا اس کی جھنجھلاہٹ کے۔
تبھی جھوٹ بول کر دانتوں تلے لب دبا رکھا تھا۔
ادھر ہے یہ دیکھو،، سیام نے اس کے ناک کے پاس اشارہ کیا۔
کدھر،، عرفہ کو غش پڑا۔ اپنا چہرہ ٹٹولہ۔
ادھر، سیام نے اس کی ناک کے قریب اپنے لب رکھے۔
سیام میں اس پمپل کے ساتھ دلہن نہیں بنوں گی،، اس نے منہ بسورا۔
گڈ،، بڑا اچھا فیصلہ ہے، تم دا جی سے جا کر بولو کہ دلہن نہیں بننا تمھیں، بس ایسے ہی میرے پاس رہنا ہے، کہیں نہیں جانا،، وہ مطلب کی بات پر آیا۔
عرفہ نے اس بات پر اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ سیام کا قہقہہ چھوٹ گیا۔
بہت برے ہیں آپ سیام، میرا سارا موڈ خراب کر دیا،، عرفہ نے بری طرح مچلتے اس کے سینے پر مکے برسائے۔ سیام ہنسے گیا۔ وہ اس کی گرفت سے نکلتی اپنا سامان اٹھا کر روم سے نکلنا چاہتی تھی۔ جب سیام نے تیزی سے آ کر ڈور لاک کیا تھا۔ عرفہ نے آئیبرو اچکائی جیسے پوچھنا چاہتی ہو اب کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ۔
اب اگر جا ہی رہی ہو تو،، اپنے شوہر پر اتنا ظلم ڈھانے کے جرم کی پاداش میں میں تم سے خراج وصول کرنے والا ہوں،، سیام نے اطمینان سے کہا۔
کک کیا مطلب،، عرفہ کا کانفیڈینس اڑنچھو ہوا۔
مطلب سمجھانے کا وقت نہیں میرے پاس،، سیام نے عجلت میں اس بازوؤں میں بھرا۔ اس کے ارادے سمجھ کر عرفہ نے اپنا ماتھا پیٹا۔
سیام،،، چھوڑیں مجھے،، وہ چلائی اور دانت کچکچائے جیسے دانتوں کے تلے سیام کی گردن کاٹے گی۔
مگر جب اس نے اسے بیڈ پر لٹا کر اپنی منمانیاں شروع کیں تو عرفہ کو خود کو اس کے سپرد کرنا ہی پڑا۔