Dark Heart By Sumiya Baloch

Forced Marriage |  Rude Hero | Romantic Novel

“مشی جاناں کیا ہوا تم‌ نیچے کیسے گری۔۔؟؟
وہ اسے نیچے منہ کے بل گرے دیکھ جلدی سے پریشانی سے بیڈ سے اٹھا اور تیزی سے آگے بڑھا اور اسے اٹھانے کے لیے اپنے ہاتھ آگے بڑھا ہی رہا تھا۔
“خبردار اگر تم آگے بڑھے تو میں اپنی کلائی کاٹ لوں گی۔۔!!
مشاطہ غصے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر بیڈ سائیڈ ٹیبل کے اوپر رکھے اخسم کے چاقو کو اٹھا کر اپنی کلائی پر رکھتی اسے دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“وہاٹ مشاطہ یہ تم کیا کر رہی ہو ڈیم اٹ گرل کیا تم پاگل ہوگئی ہو اور اسے نیچے رکھوں اگر تم نے خود کو نقصان پہنچایا نا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔!!
اخسم اسکی کلائی پر رکھے چاقو کو دیکھنے لگا جو اسنے کل رات شاور لینے سے پہلے مشاطہ والی بیڈ سائیڈ پر رکھا تھا یہ دیکھ کر اسے یکدم سے اپنے کل رات کے مشاطہ کو تنگ کرنے کے لیے بنائے گئے پلان کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر بھی سخت تاؤ آنے لگا تھا۔۔۔
“گھٹیا انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کل رات چھونے کی ہاں اور یہ سب کر کے اور میری بے خبری کا فائدہ اٹھا کر تم نے آج ثابت کر دیا کہ تم کتنے گھٹیا ہوں۔۔!!
اپنی کلائی پر رکھے چاقو پر وہ اور دباؤ بڑھاتی اپنی سرخ نگاہوں سے اسے گھورتی ہوئی غرا کر کہنے لگی۔۔
“ایسا کیا کر دیا ہے میں نے کل رات کو جو تم اس طرح ری ایکٹ کر رہی ہوں جیسے میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔۔؟؟
وہ بھی اب غصے سے آگے بڑھا اور اسے اسکے پیروں پر کھڑا کرتا شدت سے غرایا تو مشاطہ کی شرٹ جو پہلے سے اسکی کندھوں سے نیچے تک آ رہی تھی وہ اسکے جارہانہ انداز سے کھینچنے پر مزید نیچے سرک گیا تھا اور ہاتھوں میں تھمی چاقو نیچے فرش پر جا کر گرا تھا اور آج پہلی بار اسکے سرد لہجے پر اس سے سخت خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔
“کل رات کیا کیا تھا تم نے ہاں مسٹر اخسم شیرانی تو سنو تم نے کل رات میرا اچھے سے فائدہ اٹھایا تھا میری معذوری کے ساتھ میری بے خبری کا اور تم‌ اب کہہ رہے ہوتم نے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔۔
تمہیں پتہ ہے یہ سب کر کے گھٹیا انسان تم نے میرے ساتھ بلکل بھی اچھا نہیں کیا اور اب میں جی کر کیا کرو گی تم نے تو مجھے برباد کر دیا تھا کل رات میرا سب کچھ چھین کر اب میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا کچھ بھی نہیں یہ زندگی جینے سے بہتر نہیں کے میں مر جاؤ۔۔!!
وہ اسکے سہارے کھڑی شدت سے روتی ہوئی اسکا کالر پکڑ کر بری طرح سے چیختی ہوئی کہنے لگی۔۔
اخسم جو اسے دیکھ رہا تھا یکدم سے اسنے اسے اپنے سینے سے لگایا تاکہ وہ اچھے سے رو کر اپنا سارا غبار نکال سکے اور وہ اسکے سینے سے لگی بری طرح سے روتی ہوئی اسکے
سینے پر غصے سے مکا مارنے لگی تھی۔

Download Link

Direct Download

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *