Shikasta Ho Tu Azeez Ter Hai By Novela Girl Novel20356
Shikasta Ho Tu Azeez Ter Hai By Novela Girl
Second Marriage | Age Difference | Army Based | Romantic novel
امان یہ نہیں ہونا چاہیے تھا میں کیسے ہینڈل کروں گا۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ وہ روہانسا ہوا۔۔ ریلیکس، ریلیکس۔۔۔ وہ اتنی بھی بری نہیں ہیں کہ تمہیں ڈر لگ رہا ہے۔۔ وہ سب دیکھ لیں گی تم بے فکر ہو کر کمرے میں جاؤ۔۔ امان نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔۔ لیکن۔ وہ پھر مڑا ۔۔ جیجو کمرے میں جاؤ۔۔ امان نے گھور کر کہا۔ وسام پیر پٹختا کمرے میں آگیا۔ دروازے پر رک کر اس نے دستک دی اور سانس بحال کرنے لگا۔ یہ سچ تھا کہ اسے اپنی تازہ تازہ بنی بیوی سے ڈر لگتا تھا۔۔ کوئی جواب نہ آیا تو وہ اندر داخل ہوا۔ بیڈ خالی تھا۔ واشروم سے پانی کی آواز آرہی تھی مطلب وہ واشروم میں تھی۔ وسام نے سکھ کا سانس لیا اور احتیا طا چیئر پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ باہر آئی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا جائزہ لینے لگی۔ وسام سر جھکائے بیٹھا تھا اس کے آنے کے بعد تو گویاز مین میں گھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ وریشہ نے ایک نظر اسے دیکھا تو اسے ہنسی آگئی ۔۔ نو ڈاؤٹ وہ معصوم تھا۔۔ وسام ۔۔ اس نے آواز دی۔۔ جی۔۔ جاؤ چھینچ کر کے آؤ۔ مجھے پھر بات کرنی ہے۔۔ اوکے وہ تابعداری سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ وارڈروب کی طرف آگیا ۔۔ ہڑ بڑاہٹ میں اس کو دروازہ لگا تھا اور پہننے والے کپڑے اس کے ہاتھ سے نیچے جا گرے تھے۔ وریشہ نفی میں سر ہلا گئی۔۔ وہ حیران تھی یہ
لڑکوں کی کونسی قسم تھی۔ اس کا واسطہ ہمیشہ امان اور حمزہ جیسے لوگوں سے پڑا تھا۔ یا پھر روحان ( ایکس ہر بینڈ)۔۔ جو شاید ہی کبھی ایسی تابعداری کا مظاہرہ کرتے۔ تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا گیلے بالوں ، سفید ٹی شرٹ اور کالے ڈھیلے ٹراؤزر میں ملبوس ۔۔ وہ اس کا جائزہ لے رہی ہے تھی
وہ بال تولیے سے رگڑ رہا تھا، وریشہ نے ڈرائیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر بے سود ، وہ سانس بھر کر رہ گئی۔ 5 فٹ 6 انچ کا قد ، گھنے سلکی ماتھے پر گرتے بال بال، گورا رنگ، پہلے وینی ہاتھ ، لمبی انگلیاں، مناسب جسم اور خوبصورت ہونٹ اور سب سے بڑھ کر گہری سیاہ آنکھیں جو مقابل کو چت کرنے کی بھر پور طاقت رکھتیں تھیں، مگر شاید وہ اپنی خوبصورتی سے بے خبر تھا۔۔ وسام خود پر نظریں محسوس کر کے مڑا۔ وریشہ نے فورا نظروں کا زاویہ بدلا۔ وسام پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔ وریشہ
بلینٹ کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ وسام کھڑا رہا۔۔ وریشہ کچھ دیر لیٹی رہی پھر سر باہر نکال کر اس کی طرف دیکھا جو ابھی تک بت بن کر کھڑا تھا۔ کیا ہوا؟ کیوں کھڑے ہو ؟ اس نے پوچھا۔۔ میں کہاں سوؤں ؟ معصومانہ سوال۔۔ وریشہ کو ہنسی روکنا مشکل لگا مگر کنٹرول کر گئی۔ ویسے تو یہ بیڈ تین انسانوں کے لئے بھی کافی ہے بشر طیکہ وہ انسان ہوں۔ میرے خیال سے کافی جگہ ہے اور میں تمہیں بالکل نہیں کھاؤں گی۔۔ وہ رج کے شرمندہ ہوا۔

Download Link
Direct Download
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕