Hasil  By Umera Ahmed

Spiritual/Faith-based | Philosophical | Social Reformative | Complete NOVEL 

تمہیں یہاں اس کمرے میں دیکھنے کے بعد مجھے یوں لگ رہا ہے
جیسے میں پھر وہیں پہنچ گیا ہوں، جہاں چھ سال پہلے کھڑا تھا۔
اور میں آج تک وہیں کھڑی ہوں جہاں چھ سال پہلے تھی۔
چھ سال پہلے تم سے ملنے کے بعد میں نے سوچا تھا دنیا میں ابھی بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو خود غرض نہیں ہیں جنہیں دوسروں کی پروا ہے چھ سال پہلے میں نے تمہیں آئیڈیلائز کیا تھا۔
اس نے سوچا تھا مجھے زندگی میں تمہارے جیسا بننا ہے آج یہاں اس کمرے میں بیٹھا میں سوچ رہا ہوں کیا دنیا میں مجھ سے زیادہ بے وقوف کوئی اور ہوگا۔
اس کی آواز میں رنجید گی تھی ثانیہ کے ہاتھ پر گرنے والے پانی میں

 کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا پانچ سال پہلے جب میں نے واپس جا کر تمہیں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی اور مجھے پتا چلا تھا کہ تم مر چکی ہو تو میں بہت رویا تھا مجھے لگا تھا ایک بار پھر میری دنیا ختم ہو گئی آج تمہیں یہاں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دنیا تو آج ختم ہوئی ہے میں نہیں جانتا اس کمرے سے نکلنے کے بعد میں کیا کروں گا میں دوبارہ کسی عورت پر اعتبار کر بھی پاؤں گا یا نہیں۔ تم تو بہت باتیں کیا کرتی تھیں آج خاموش کیوں ہو کچھ کہو۔
وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا۔
تمہیں آنسوؤں جیسے ہتھیار کا سہارا لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تم تو اس کے بغیر بھی دوسروں کو منہ کے بل گرانے میں ماہر ہو۔

وہ شاید اس کے بہتے ہوئے آنسو دیکھ چکا تھا ثانیہ نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ گالوں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کیا تھا۔
میں تمہاری زندگی کی پوری کہانی میں اپنا رول سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں تمہارے لئے میں کیا تھا ایک   ایک سپورٹ یا کچھ بھی نہیں میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم کو مجھ سے کیا چاہیے تھا کون کی چیز تمہیں میری ب کھینچ لائی تھی ؟ تم نے میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا؟ جانب
اس کے پاس سوالوں کا انبار تھا اور ثانیہ کے پاس جوابات نہیں تھے اپنی گود میں رکھا ہوا بیگ اٹھا کر وہ کھڑی ہوگئی تھی وہ اس کا ارادہ بھانپ گیا تھا۔
تم کہاں جارہی ہو؟ اس نے تیزی سے پوچھا تھا۔

کرسی دھکیل کر وہ دروازے کی طرف مڑ گئی تھی وہ لپکتا ہوا اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا تھا۔
میرے سوالوں کا جواب دیے بغیر تم کیسے جا سکتی ہو تم اس طرح کیسے جا سکتی ہو۔؟
وہ خاموش رہی تھی۔
تم جانتی ہو تم نے مجھے کتنا بڑا دھوکا دیا ہے؟ وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔
ثانیہ نے اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی وہ اس کی جیکٹ کے کالرز یکھے کو دیکھتی رہی وہ کہہ رہا تھا۔
تم ایک بہت بڑا فراڈ ہو۔ اس نے جیکٹ کے بٹن گنے شروع کر دیے تھے اس طرح چپ رہ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم ؟ ڈرامہ کون سا ایکٹ رہ گیا ہے جسے اب پر فارم کرنا چاہتی ہو ؟

وہ بٹن گن چکی تھی اب دوبارہ کالرز دیکھ رہی تھی۔
کیا تم بول نہیں سکتی ہو؟ وہ اب چلا رہا تھا۔
اس نے اب شرٹ کے بٹن گنے شروع کر دیے تھے اور تب اچانک اس نے اپنے دائیں بازو پر اس کے ہاتھ کی گرفت محسوس کی تھی وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا بے اختیار اس نے سختی سے اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا دیا تھا۔
مجھے ہاتھ مت لگا و حدید ! اس نے بالآخر اپنی خاموشی توڑ دی تھی حدید کا چہرہ اس کے جملے پر سرخ ہو گیا تھا۔
تمہار او جو د واقعی اتنا گندا ہے کہ میرے جیسے شخص کو ہاتھ تو کیا اسے دیکھنا تک نہیں چاہیے۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *