Kaif E Junoon By Harram Shah 

After marriage | After Nikah | Innocent heroin | Possessive Hero | Rude Hero | Romantic Novel | Complete Novel

Novel code: Novel20473

“یہ کیا کہہ رہے ہو تم حیدر میں بیوی ہوں تمہاری اور تم۔۔۔۔”
وردہ نم پلکوں سے اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے کہہ رہی تھی جبکہ اسکے شوہر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
کتنے دن ہو گئے تھے اسے اپنے گھر اپنے شوہر کا انتظار کرتے ہوئے۔ جب وہ گھر نہیں آیا تو خود ہی اس نے اس کے آفس آنے کا سوچ لیا تھا لیکن یہاں پہنچ کر جب حیدر نے یہ پوچھا کہ وہ کس حق سے یہاں آئی ہے تو وہ حیران رہ گئی۔
“ہوں بیوی؟تم جیسی لڑکی میری بیوی کیسے ہو سکتی ہے اس سب کو سیریس مت لو مس وردہ وہ تو بس ایک پل کی اٹریکشن تھی جو اب ختم ہو گئی۔”
حیدر کی بات پر وردہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور آگے بڑھ کر اس کا گریبان اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔
“تم کہنا چاہ رہے ہو کہ ہمارا نکاح مزاق تھا،میرا تمہارے لیے اپنا گھر چھوڑ کر آنا اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر آنا وہ سب مذاق تھا؟تمہاری وہ محبت بھی ایک مزاق تھی کیا؟”
وردہ روتے ہوئے چلا رہی تھی اور حیدر کے ماتھے پر بل پڑھ چکے تھے۔اس نے اپنے ہاتھ سختی سے وردہ کے ہاتھوں پر رکھے اور اپنا گریبان اس کی پکڑ سے چھڑوا لیا۔
“اپنی حد میں رہو خوب جانتا ہوں تم جیسی لڑکیوں کو یونیورسٹی میں آتی ہی ہم جیسے امیر لڑکوں کو پھنسانے کے لیے ہیں تاکہ ہماری دولت پر عیش کر سکیں۔غلطی ہوگئی تھی مجھ سے تم سے نکاح کر کے اب بھول جاؤ تم وہ غلطی اور نکلو یہاں سے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر حیدر نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ چھوڑے اور اسے باہر کے دروازے کی جانب جانے کا اشارہ کیا۔
“نہیں حیدر بلکہ تم جیسے لڑکے ہم جیسی بے وقوف لڑکیوں کو پھانستے ہیں تاکہ ہمیں استعمال کرنے کے بعد کسی ٹشو پیپر کی طرح پھینک سکیں اور ہم بےوقوف لڑکیاں تمہارے دھوکے کو تمہاری محبت سمجھ بیٹھتی ہیں۔۔۔۔”
وردہ نے غصے سے کہا اور اپنے آنسو پونچھ کر لال آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“لیکن دیکھنا میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی کیس کروں گی تم پر یہ ثابت کروں گی کہ تم نے دھوکے سے مجھ سے نکاح کیا۔۔۔۔”
وردہ جو حیدر کو دھمکی دے رہی تھی اس کے قہقہ لگا کر ہنسنے پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“نکاح۔۔۔۔کیسے ثابت کرو گی تم اس نکاح کو؟ نکاح نامہ ہے تمہارے پاس؟ یا رجسٹرار کے آفس سے جا کر نکاح نامہ نکلواو گی۔۔۔۔چچچ وردہ جانم وہ نکاح نامہ تمہیں وہاں سے بھی نہیں ملے گا کیونکہ میں نے اسے رجسٹر ہی نہیں کروایا تھا اور نکاح نامے کی ہر کاپی میرے پاس ہے تو کیسے ثابت کرو گے تم ہمارے اس نکاح کو تم تو نکاح پر آنے والے گواہوں کو بھی نہیں جانتی۔۔۔۔۔”
حیدر نے خباثت سے کہا اور اس کی یہ کمینگی دیکھ کر وردہ کو اپنی بیوقوفی پر افسوس ہونے لگا کیسے اس نے اس جیسے شخص سے اتنی محبت کی؟اس پر اعتبار کر کے جان چھڑکنے والے ماں باپ اور بھائی کو رسوا کر دیا۔
“اگر پھر بھی تمہیں میری بیوی ہونے کا بھرم ہے ناں تو فکر مت کرو میں ابھی وہ بھرم بھی توڑ دیتا ہوں وردہ شیخ میں اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔ ”
ساتوں آسمان ایک ساتھ وردہ پر گرے اور وہ بت بنے بس اس شخص کو دیکھ رہی تھی جس نے اس کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کے وعدے کیے تھے۔جس کی خاطر اس نے سب کو چھوڑ دیا تھا آج وہی اس سے اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد اپنی زندگی سے نکال کر پھینک چکا تھا۔
“اب نکلو یہاں سے اور ہمیشہ یاد رکھنا کہ تمہاری حیثیت اتنی نہیں کہ حیدر بیگ کی بیوی بن سکو رہی اس نکاح کی بات تو وہ مجھے تمہیں پانے کے لیے کرنا پڑا تم ایسے میرے ہاتھ میں جو نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔”
حیدر نے اسکو سر سے لے کر پیر تک دیکھتے ہوئے کہا۔
“نکلو یہاں سے۔۔۔۔”
حیدر کے چلانے پر وردہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور آنسوؤں سے تر نگاہیں اٹھا کر حیدر کو دیکھا۔
“میری بد دعا ہے حیدر بیگ کہ ایک دن تم بھی اسی طرح برباد ہو جاؤ گے جس طرح تم نے مجھے برباد کیا۔اپنی اس دولت کی وجہ سے دوسروں کی زندگی کو کھلونا سمجھ رکھا ہے ناں تم نے ایک دن تم خود حالات کا کھلونا بن کر رہ جاؤ گے۔آج جس قدر میں بے بس ہوں ایک دن تم بھی اتنے ہی بے بس ہو گے۔۔۔۔۔”
وردہ اتنا کہہ کر وہاں سے چلی گئی اور اپنی دولت کے غرور میں ڈوبا حیدر مسکرا دیا کیونکہ اسے کسی کی بدعا کی کوئی پرواہ نہیں تھی وہ اپنا نصیب خود لکھنا جانتا تھا مگر شائید وہ بھول چکا تھا کہ کوئی ایسی طاقت ہے جس کے آگے وہ بہت ادنی ہے۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *