Mera Naseeb Mere Angan Ki Roshni Ho Tum By J.Nikahat

Cousin Marriage base | Love Story | Multiple Couples | Romantic Novel 

Novel code: Novel20476

عجیب فضا میں نکاح ہوا تھا،نہ مبارکباد کا شور اٹھا، نہ لوگوں کے ہنسی قہقہوں کی آوازیں، سب اپنی اپنی جگہ خاموش لب سئے بیٹھے تھے۔
“یہ سب جو ابھی کچھ دیر پہلے ہوا ہے میں اس کے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں۔”
عاقب اسے خاموش پا کر تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا بات تو آخر کرنی تھی۔
“دیکھو، تم اس نکاح کو لیکر کیا سوچ رہی ہو مجھے نہیں پتا۔۔”
عاقب نے اس کے چہرے کی طرح دیکھا جو ابھی بھی جھکا ہوا تھا،پھر اپنی بات کو وہیں سے جوڑا۔
“لیکن میں کیا سوچتا ہوں اور کیا سوچ چکا ہوں تمہیں بتانا ضروری سمجھتا ہوں،نکاح وہ بھی ایسے سب سے اہم تمہارے ساتھ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا،ایک تو میں سیم ایج یا پھر زیادہ سے زیادہ دو تین سال کے گیپ کا قائل ہوں، کیونکہ اس سے ہسبنڈ وائف میں انڈر اسٹینڈینگ اچھی ہوتی ہیں،جبکہ تمہارے اور میرے بیچ میں تو پورے ایک جنریشن کا گیپ ہے،اس کے علاوہ مجھے ایسی لائف پارٹنر چاہئے تھی جو میچور ہو، کانفیڈینٹ ہو، میرے قدم سے قدم ملا کر چلنے والی ہو، سب سے اہم میری ہم عمر ہو۔جبکہ تم میں اس میں سے کوئی ایک کوالٹی بھی نہیں ہے،آسان الفاظ میں ہمارا کوئی کپل ہی نہیں ہے۔ میں دادو کو پہلے ہی صاف لفظوں میں تمہارے لیۓ انکار کر چکا تھا، وہ سمجھ بھی گئی تھیں ۔لیکن جیسی آج دادو کی حالت ہوئی تھی وہ ایک ہی ضد لگا کر بیٹھ گئی کہ میری شادی دیکھنی ہے،اینڈ سب کے پاس تمہارے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا،سو یہ سب ہوگیا۔۔۔”
بات کے اختتام پر اس نے طویل سرد سانس خارج کیا تھا۔
“اسی لئے دو تین مہینے تک جب دادو بالکل ٹھیک ہوجائیں گی میں سب کلیئر کر دونگا،جب تک ہم دونوں کو اس کردار میں رہنا ہے۔،اوکے۔۔۔؟”
نکاح ہوکر آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا اس کے معتل حواس بھی بحال نہیں ہوئے تھے اور اس شخص نے اس کا انجام بھی طے کر لیا تھا۔
“مجھے بہتر لگا کہ میں تمہیں اپنی رائے سے آگاہ کردوں تاکہ تم بھی مینٹلی ریلیف فیل کرو۔۔۔”
ایک کے جواب میں دس بولنے والی شفق ابراز نے اب بھی گردن نہیں اٹھائی تھی،وه چند سیکنڈ تک اس کے کچھ کہنے کا انتظار کرتا رہا پھر خاموشی سے اٹھ کر ایک جانب بڑھ گیا۔۔
اس کی قدموں کی آہٹ دور ہوئی تو اس نے لب بھینچ کر جلتی ہوئی آنکھیں اٹھا کر اس کے توانا پہاڑ سے پشت پر ڈالی۔
ابھی تو اس کا سن ذہن بیدار بھی نہیں ہوا تھا،
ابھی تو وه دادو کی حالت کے صدمہ سے بھی نہیں ابهری تھی،
ابھی تو اس رشتہ کی حقیقت کو اس کے ذہن نے قبول بھی نہیں کیا تھا۔
اور وہ ستم گر بڑے آرام سے اپنا سفاکانہ فیصلہ سنا کر چلا گیا تھا۔
اور نام بھی کیا خوب دیا تھا اس پتھر انسان نے ‘آپشن’
اس کا ایک ایک لفظ اگر نوکیلا تیر تھا تو یہ اڑتا ہوا بھالا تھا جو اس کے دل کے آڑ پار ہوگیا تھا۔
اور ہرسوں لہو ہی لہو پھیل گیا تھا۔
اس کی عزت نفس نے اس لفظ پر جو ماتم مچایا تھا وه ایک الگ داستان تھی۔
وه شفق ابراز جس کیلئے عزت نفس اور خودداری زندگی اور موت کا معاملہ تھا اس کو وه شخص اپنے قدموں تلے روندتا ہوا چلا گیا تھا۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *