Safar Tuj Se Raab Tak Ka By Suneha Rauf Novel20508
Safar Tuj Se Raab Tak Ka By Suneha Rauf
“It’s a journey of love from Man to Allah.”
Novel code: Novel20508
ابھی وہ اندر گھسا ہی تھا کہ دروازہ ٹھا کی آواز سے باہر پھر سے لوک ہوا تھا اوکے بائے لیلیٰ مجنوں اور علی کے بےہنگم قہقہے تھے۔
افاف اور نافع ہونق بنے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
سب سے پہلے ہوش نافع کو آیا افاف آپ ٹھیک ہیں کچھ ہوا تو نہیں، کسی نے کچھ کہا تو نہیں……. مسلسل سوال کرتا وہ افاف کو اپنا دیوانہ ہی لگا۔
ہم……. م….. میں ٹھیک ہوں رونے کی وجہ سے آواز بھاری ہو گئی تھی۔
آپ کب سے ہیں یہاں..؟؟
دو…… دو….. گھنٹے ہو گئے اس کے ساتھ ہی افاف کے آنسو پھر سے بہے تھے۔
تو فون کرتی کسی کو……. مجھے کر لیتی۔
میرے پاس آپکا نمبر …… سگنلز نہیں تھے……
ڈیم اٹ اسی لیے نمبر لینے کو بولا تھا یو ڈمب….. نافع نے چلا کر کہا اس سٹویشن نے اسے بھی پریشان کیا تھا چھٹی کا وقت تھا۔
اس جگہ اب کوئی نہیں آنے والا تھا اب تو کچھ کمرے چھوڑ کر سائنس لیب بھی خالی تھا۔
نافع نے اپنا فون نکال کر دیکھا تو سگنلز واقعی ہی نہیں تھے اس نے پریشانی میں فون کو سر پر ہلکا ہلکا مارنا شروع کر دیا۔
افاف کی سسکیوں نے اسے اس کی طرف متوجہ کیا۔
یار……. افاف پلیز ہمت مت ہاریں میں کچھ کرتا ہوں نافع نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ پکڑ کر امید دلانا چاہی تھی۔
افاف نے حیرت زدہ ہو کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو اب نافع کے سفید ہاتھوں میں تھا اور اچانک سے اس نے اپنے ہاتھ چھروائے تھے۔
نافع فوراً ہوش میں آیا اور ہاتھ ہٹائے اسکی سوسائٹی اور کلاس میں یہ سب عام تھا مگر افاف کے گریز سے وہ سمجھ گیا تھا کہ اسے یہ حرکت بالکل پسند نہی آئی۔
ایم سوری اس آکورڈ سٹویشن سے نکلنے کیلئے نافع کو بس لفظ سوری ملا اور افاف نے بھی نظریں اٹھائی تھیں۔
نافع نے اردگرد کا جائزہ لیا سامنے کھڑکی تھی مگر آگے بہت سامان موجود تھا بہت سارا۔
نافع نے آہستہ آہستہ اس سامان کو ہٹانا شروع کیا تو افاف کو بھی کھڑکی دکھی۔
تب سے رونے دھونے میں اس نے اردگرد کا جائزہ ہی نہیں لیا تھا۔
افاف نے بھی اسکے ساتھ چیزیں ہٹائیں اور اگلے دس منٹ میں نافع کھڑکی کھول چکا تھا۔
اب تو چھٹی ہوئے بھی گھنٹہ گزر چکا تھا۔
نافع نے سب سے پہلے کھڑکی سے باہر دیکھا یہ یونیورسٹی کا بیک تھا جہاں باہر سڑک تھی لیکن اونچائی تو بہت تھی۔
اس نے سگنلز چیک کیے جو ابھی بھی بس دو ہی آئے تھے اس موبائیل کھڑکی سے باہر نکال کر گھومانا شروع کیا۔
اور قسمت سے سگنلز آ بھی گئے تھے نافع نے شایان اپنے گارڈ کو فون کیا۔
جو پہلی ہی بیل پر اٹھا لیا گیا تھا۔
جی سر…….
ابھی کے ابھی یونیورسٹی پہنچو سائنس ڈیپارٹمنٹ میں اوپر لاسٹ روم میں بند ہوں میں گارڈ کو لیتے آنا جلدی پہنچو۔
سر مجھے پندرہ منٹ لگیں گے میں یونیورسٹی کی لوکیشن سے بہت دور ہوں شایان نے اپنا مسئلہ بتایا۔
ٹھیک ہے میں انتظار کر رہا ہوں اور سنو گارڈ سے بس چابیاں لانا اسے ساتھ مت لانا نافع نے افاف کو دیکھ کر کچھ سوچا اور پھر شایان سے بولا۔
کیوں سر گارڈ کو کیوں….. مطلب اگر اس نے مجھے چابیاں نہ دیں تو ……
میں یہاں اکیلا نہیں ہوں شایان کوئی اور بھی ہے اور مجھے خود سے زیادہ اسکی عزت کی پرواہ ہے اور گارڈ کو صورتحال بتانا اسے بس یہی کہنا کہ میں بند ہوا ہوں وہ چابیاں دے دے گا۔
شایان صرف اسکا گارڈ نہیں تھا دوست بھی تھا کافی اچھا اور گارڈ بھی اسے جانتا تھا نافع نہیں چاہتا تھا کہ افاف کی عزت خراب ہو اور گارڈ کچھ ایسا ویسا سوچے۔
افاف کو وہ شخص آج پہلے سے بھی پیارا لگا تھا جسے اسکی عزت کی پرواہ تھی دل نے بغاوت کی تھی اور سانسیں تھمی تھیں۔
نافع نے چونک کر اسے دیکھا تو وہ محویت سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
وہ بھوری آنکھیں سادگی میں بھی قیامت تھیں نافع کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی اور ہلکا سا مسکرایا۔
افاف کا سکتہ ٹوٹا تو اسے ڈھیروں شرمندگی نے آ گھیرا وہ ایسی تو نا تھی پھر کیوں دل نافع درانی کیلئے بغاوت کر رہا تھا۔
آپ اپنے گھر انفورم کر دیں نافع نے اسے متوجہ کیا۔
افاف بھی کھڑکی کے پاس آئی اور دو تین بار ٹرائے کرنے کے بعد نمبر مل گیا تھا گھر کا۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕