Eid e Deed Yar by Suneha Rauf Novel20516
Eid e Deed Yar by Suneha Rauf
Cousin Marriage | Second Marriage | Army base | Rude Hero | Two couples Story | Romantic Novel
Novel code: Novel20516
وہ جو میٹنگ کے سلسلے میں آیا تھا سامنے اسے بیٹھا دیکھ اس کی دماغ کی رگیں تنی۔
وہ اپنی دوست کے ساتھ اردگرد سے لاپرواہ قہقہے لگا رہی تھی۔۔۔۔اس کے ہر قہقہے پر آدھی عوام اسے مڑ کر دیکھتی اور مسکرا دیتی۔
وہ پینٹ کے ساتھ وائٹ شارٹ کرتی، اونچی پونی کیے لگ ہی اتنی حسین رہی تھی۔
میر دلاور کا غصہ آسمان کو چھونے لگا اس پر سب کی نظریں محسوس کرتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کی طرف گیا۔
مجھے شیک پینا ہے۔۔۔۔وہ منہ بسوڑتے اپنی دوست سے بولی لیکن اپنے سامنے میر دلاور کو دیکھتی اس کا خون سوکھا۔
آپ۔۔۔۔اس نے زبان تر کرتے کہا۔۔۔
گاڑی میں پہنچو باہر دو منٹ میں ۔۔۔۔۔اگر تم دو منٹ سے دیر ہوئی نا حوریہ ذیشان تو سزا کے لیے تیار رہنا۔۔۔۔وہ کہتا باہر چلا گیا تو اس نے دھڑکتے دل کو سنبھلاتے اپنی دوست کو الوداع کہتے باہر کی طرف قدم اٹھائے۔
اسے دیکھتے میر دلاور نے گاڑی کا دروازہ اتنی زور سے بند کیا کہ وہ حل کر رہ گئی۔۔۔۔اس کے بیٹھتے اس نے گاڑی تیزی سے بھگائی۔
کس کی اجازت سے آئی تھی۔۔۔میر دلاور کی سخت آواز پر اسے جان جاتی محسوس ہوئی۔۔۔
میں۔۔۔وہ۔۔۔۔
جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔۔۔اس نے سٹرینگ پر پکڑ مضبوط کرتے کہا۔۔۔اسے اس لڑکی کے وہ الفاظ اب تک نہ بھولے تھے لیکن اس پر کسی اور کی نظریں اسے جنجر کی طرح لگی تھی۔۔۔۔
وہ جلد یا بدیر اس کے نکاح میں آنے والی تھی۔۔۔
اور اس کی لاابالی طبیعت سے وہ خاصا بیزار دکھتا تھا۔
بس ایسے ہی آئی تھی۔۔گھر جا کر بابا کر بتا دیتی۔۔۔وہ منمنائی تو میر دلاور نے اسے سرخ نگاہوں سے گھورا۔
گاڑی گھر میں آ کر رکی تو وہ تیزی سے اندر بھاگ گئی تو وہ بھی اس کے پیچھے اندر آیا اس کے کمرے کی آتے ایک نظر کمرے کو دیکھا جو بکھرا پڑا تھا۔
یہاں آؤ۔۔۔وہ جو دوپٹہ اتارتی واش روم میں جا رہی تھی اس کی ٹانگیں لرزی۔۔۔۔
جی۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس تک گئی۔
حوریہ ذیشان اب تم مجھے اس حلیے میں باہر کہیں دکھی تو تمہیں جان سے مار دوں گا میں یاد رکھنا۔۔۔
حوریہ نے ڈرتے اسے دیکھا۔۔۔۔
آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر پابندیاں لگانے والے۔۔۔وہ آنکھوں میں آنسو لیتے چیخی ۔۔
آواز آہستہ ۔۔۔۔۔اس کا ہاتھ تھامتے اس کی قمر کے ساتھ لگاتے وہ پھنکارا۔۔۔۔
یہ تم بھی جانتی ہو اور میں بھی کہ اس رشتے پر تم مجھ سے پہلے حامی بھر چکی ہو۔۔۔۔بہت شوق تھا نا تو اب خود کو میرے رنگ میں رنگتا تم جلد محسوس کرو گی میر دلاور نے کہتے جھٹکے سے اسے چھوڑا۔
میں منع کر دوں گی بابا کو۔۔۔اس کو باہر جاتے دیکھ وہ بولی تھی۔۔۔آنسو لگاتار آنکھوں سے گر رہے تھے۔
مجھ سے رہائی اب ممکن نہیں ۔۔۔۔میر دلاور جس بات پر ہاں کر دے اس سے پھرتا نہیں اور تم پر میری نام کی مہر لگ گئی ہے حوریہ زیشان۔۔۔
حوریہ میر دلاور رضوان بننے کے لیے تیار رہنا وہ اسے بہت کچھ باور کرواتا باہر چلا گیا۔
حوریہ اس کی پوسیسونس کے ساتھ اس کا غصہ دیکھتی ڈر گئی تھی ۔۔۔۔لیکن یہ سچ تھا وہ بابا کو منع نہیں کر سکتی تھی اب۔۔۔اور میر دلاور ایسا ہونے بھی نہ دیتا۔
اسے اپنے کہے الفاظ یاد آئے۔۔۔۔وہ کیسے اس کے ساتھ زندگی گزارتی۔۔۔وہ اوندھے منہ بیڈ پر گری رونے لگی۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕