Beher E Zulmat By Umaima Khan Novel20520
Beher E Zulmat By Umaima Khan
Gangster | Murderer Base | Tawaif Base | Secret Mission base | Action \ Thrill | Policeman Hero | Social Issues
Novel Code : Novel20520
حسن آراء ! ! ! تیز آواز سے بستر پر پڑا وجو د ہلکا سا کسمسایا۔ مگر اگلے ہی لمحے پانی کا جگ اسے اچھی طرح سے ہوش میں لے آیا۔
“” یا وحشت ! ہائے ہم مر گئے۔ یاد
ہائے ریشم کہاں ہیں آپ؟”” ارد گرد کا ہوش کئے بغیر وہ چلانے لگی۔ گہری نیند سے جاگنے کے باعث سمجھ ہی نہ ہوا کہ کیا آفت آئی ہوئی ہے۔
“” جب میں نے منع کیا تھا کہ میری پھوپھو کسی کی رات رنگین نہیں کرے گی۔ تو تیری موٹی کھوپڑی میں یہ بات کیوں نہیں آئی ؟
وہ مجرہ کرتی ہیں،، یہ تیرے لیے کافی نہیں ہے کیا ؟
میں بتارہی ہوں حسن آراء آئندہ اگر ان نام نہاد شرفاء کو میری پھوپھو کے نزدیک بھی بھیجا تو اس باغ حسن کے چپے چپے کو آگ لگادوں گی۔ “”
وہ خود پر کسی قدر مشکل سے قابو کر رہی تھی یہ اسکے چہرے کے تاثرات سے واضح تھا۔
حال تو حسن آراء کا بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ سامنے کھڑی اس سانولی لڑکی کو ایک لمحے میں اس کو ٹھے سے پھینکوا دیتی مگر وہ سونے کی چڑیا ہمیشہ سیسہ پلائی دیوار بن کر بیچ میں حائل ہو جاتی تھی۔ دوسرا اس لڑکی کی آواز وہ سماں باندھتی تھی کہ لوگ گھنٹوں سنتے تو بھی دل نہ بھرتا۔
لڑکی وہ رقاصہ ہے رقاصہ ۔
کوئی حاجن نہیں جسے ہم اپنے پلو میں چھپالیں “” اسکا اتنا کہنا تھا کہ نوال نے غصے سے بھری تلاشتی نگاہیں ارد گرد دوڑائیں۔ یہ جملہ تن بدن میں آگ لگا گیا تھا۔ سامنے ہی میز پر مطلوبہ چیز پڑی تھی۔ وہ جلدی سے گی اور پیسوں کی
گڑیاں جو آج کے رقص پر ملی تھیں، انہیں لے کر موم بتی کے پاس آئی۔ حسن آراء کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر وہ پیسے جلانے لگی۔
ہائے کیا کر رہی ہے۔ ہائے ہم لٹ گئے۔
ریشم ،، رانی بانی ” ساری رقاصائیں بھاگتی ہوئی حسن آراء کے کمرے تک آئیں۔ کو ٹھے پر پائل کی چھنکار پھیل گئی
۔ سامنے کا منظر دیکھ کر سب کے ہاتھ منہ تک گئے۔
وہ غصے سے سرخ چہرہ لیے بڑی سی موم بتی ہاتھ میں پکڑے پیسے جلارہی تھی۔
میں لاکھ سے بھی زائد رقم آج اسکی پھوپھو نے پانچ منٹ میں کمائی تھی۔ جسے وہ پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں راکھ کا ڈھیر بنارہی تھی۔ کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اسے روکتے۔
“” نوال ! “” چوڑیوں اور پائل کی چھنکار پر اس نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں شام والے حلیے میں ملبوس وہ بکھری بکھری سی روتی آنکھوں سے اسکے سامنے تھی۔
سب پر کاٹ دار نگاہ ڈالتے اس نے آدھ جلے نوٹوں کی گڈیاں حسن آراء پر اچھالیں جو اسکے قدموں میں جا گریں۔
آئیندہ کسی * * * (گالی) کو آنِ عالم کے کمرے میں بھیجنے سے پہلے سو بار سوچنا۔
کیونکہ نوال حیدر دوبارہ کہے گی نہیں ،،، بلکہ کرے گی۔
اور جو نوال حیدر کرے گی تیرے اس باغ حسن کی سات نسلیں یاد رکھیں گیں۔ “”
سب کو ہر کار کا چھوڑتے وہ آن کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں اترتی چلی گئی۔
“” ہائے ریشم ہم برباد ہو گئے۔ “” جلے نوٹوں کو دیکھتے حسن آراء چیخ و پکار کرنے لگیں۔ اسکی خاص ملازمائیں آگے بڑھ کر بچے کھچے پیسے الگ کرنے لگیں۔
پانچ منٹ میں کمائے گئے بائیس لاکھ وہ دھان پان سی سانولی سلونی لڑکی دو منٹ میں نظر آتش کر گئی تھی۔

Download Link
For readers who enjoy similar romance stories and after-marriage plots, explore more novels on Novelistan:
Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelR50477
Mera Ishq Novel By Irsa Rao NovelR50461
Dar Novel By Irsa Rao NovelR50460
Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕