Halala By Amreen Riaz

Halala Base | Social Issues |Forced Circumstances | Emotional Trauma | Forced Marriage 

Novel Code : Novel20524

آپ نے مجھے پھر چیٹ کیا ؟ حاطمہ نا سے غازان کو دیکھنے میں
بھا بھی یہ سب میں نے۔۔۔ ہانی جلدی سے بولنے لگی۔
کیوں کیا آپ نے اور کیوں یہ سب کر رہے ہیں جب میں نے کہا تھا کہ مجھے آفندی باؤس میں نہیں رہنا آپ سمجھ گئے تھے مجھے اچھا لگا، آپ مجھے اپنے گھر لے آئے مجھے سکون ملا مگر اب آپ مجھے ذہنی ٹارچر کرنے کے یہ طریقے اختیار کر رہے ہیں۔۔ کیوں؟ میں پسند نہیں بیوی کے طور پر قبول نہیں تو کیا اس طرح گھٹیا چالوں سے بدلہ لیں گے ؟ جب ایک دفعہ کہہ دیا کہ مجھے دوبارہ پہلے والی غلطی نہیں کرنی ہے تو پھر کیوں آپ اپنے بھائی کو اس گھر میں بلا رہے ہیں اور یہاں بھی۔۔۔ ” وہ بیچ کر بولی۔
آپ بات کو پہلے جان تو لیں۔۔ ” غازان کو بھی غصہ آگیا۔

یہی تو بھول ہوئی مجھ سے کہ میں نے آپکو جاننے میں غلطی کر دی۔ سوہا کی باتوں میں آکر آپ کو آپ کے بھائی سے بہتر سمجھا کہ آپ میرے احساسات کو سمجھتے ہوئے مجھے اذیتوں سے بچائیں گے ، مجھے لگا کہ شاید آپ مجھے آزادانہ فیصلہ کرنے کی ہمت دیں گے کہ مجھے اب کبھی بھی پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھنا ہے مگر میری غلطی ہے کہ میں دوسری دفعہ بھی دھو کہ کھا گئی۔۔” حاطمہ غصے سے بولی۔ کھائی۔۔” غصے سے
بھا بھی آپ۔۔۔ ”ہانی اس ساری سیچوایشن سے کنفیوز ہوتی کچھ کہتی کہ حاطمہ اسکی بات بری طرحکاٹ گئی۔
نہیں ہوں میں تمہاری بھابھی اور اگر ہوں بھی تو تمہارے اس بھائی کی نسبت سے ہوں ، میں تمہارے سے ہوں میں اس بھائی کی بیوی ہوں جو اپنی بیوی کو اپنے بھائی کے لیے پھر سے پیش کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ جو۔۔۔”
وو شٹ اپ! آپ لمٹ کر اس کر رہی ہیں۔۔ ” غازان کی برداشت کی حد بس یہیں تک تھی۔ حاطمہ قریب آتے کا شان پر ایک نگاہ غلط ڈالے بناہی باہر کی طرف دوڑ گئی۔
بھائی یہ ۔۔۔ ”ہانی بات کو سمجھ نہ پارہی تھی۔
کیا ہوا ہے ؟ حاطمہ بہت غصے میں بول رہی تھی، میں نے کہا بھی تھا ہانی کہ وہ اس سپر ائز کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔ کاشان کی باتیں غازان کو طیش دلا گئیں۔
جب پتہ تھا تو پھر یہ سب کر کیوں رہے ہو کا شان؟ پانی تو بچی ہے اسے پتہ ہی نہیں کہ اصل سیجوایشن کیا ہے۔ تم اسے اس طرح یوز مت کرو پلیز فار گاڑ سیک، مجھے تم نے صرف نکاح کرنے کا کہا تھا جو میں نے کیا مگر ان سب ڈراموں کی ہامی میں نے نہیں بھری تھی۔ اس لیے آج کے بعد مجھے اس سب میں شامل مت کرنا، چلو ہانی۔ ۔ ” غازان سرد لہجے میں بولتا بانی کا بازو پکڑے باہر گاڑی کے پاس آیا جہاں حاطمہ موجود نہیں تھی۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *