After Nikah base, Cousin Marriage Based, Family Drama, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based, Social issues Based
Ishq Nachanda Yaar By Kiran Rafique Novel20527
Ishq Nachanda Yaar By Kiran Rafique
Romantic Base | Social Issues | Emotional Drama | Relationship Conflicts | Love Story
Novel Code : Novel20527
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی۔۔۔ بولو جواب دو اب چپ کیوں ہو؟؟؟
حازم نے غصے سے غراتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
عشال کو لگ رہا تھا اس کا بازو حازم کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ کسی شکنجے میں آگیا ہے جو مسلسل تنگ ہو کر اسے تکلیف پہنچا رہا ہے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔
شاہ وہ۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔
کیا میں میں لگا رکھی ہے؟؟
حازم نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا ۔۔۔ اتنا قریب کہ دونوں میں فاصلہ چند انچ کا تھا۔۔ عشال کو اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ عشال کو لگ رہا تھا اس کا چہرہ اس کی سانسوں سے جھلس جائے گا۔۔۔۔
شاہ۔۔۔ مجھے درد۔۔ ہو رہا ہے۔۔۔
عشال نے روتے ہوئے کہا۔۔۔
بند کرو اپنے ڈرامے مس عشال حمدان شاہ کیونکہ تم سب گھر والوں کو بیوقوف بنا سکتی ہو حازم علی شاہ کو نہیں ۔۔۔
حازم نے اس کے آنسو دیکھ کر کہا۔۔۔
اسے اس کے آنسو دیکھ کر الجھن ہوئی تھی لیکن اس وقت اس لڑ اس کا غصہ ہاوی تھا۔۔۔
شاہ۔۔ پلیز میرا بازو۔چھوڑ دیں مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔
عشال کے بولنے کی دیر تھی کہ حازم نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا اور وہ لڑ کھڑاتے ہوئے بیڈ پر اوندھے منہ گری۔۔۔ تم تو تکلیف کے ۔۔۔ت۔۔۔ سے بھی واقف نہیں ہو۔۔۔ تمہیں بس دوسروں کو تکلیف دینا آتی ہے عشال شاہ۔۔۔
ہو گئی نہ تمہاری ضد پوری جڑ گیا میرا نام تمہارے نام کے ساتھ اب جائو یہاں سے۔۔۔
حازم نے رخ موڑ کر کہا۔۔۔
شاہ ۔۔ میں محبت۔۔۔
بس عشال آگے ایک لفظ نہیں ۔۔ تمہارے منہ سے محبت کی بات سننا میں اپنی توہین سمجھتا ہوں۔۔۔
پھر تو یہ توہین زندگی بھر آپکو سہنی پڑے گی۔۔۔
عشال بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
عشال جائو یہاں سے اور کوشش کرنا کبھی دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا ورنہ میں خود نہی جانتا میں تمہارا کیا حشر کروں گا۔۔
حازم نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی تمام اشیاء ہاتھ مار کر نیچے گرا دیں تھیں ۔۔۔
عشال آج صحیح معنوں میں حازم سے خوف محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔
شاہ میری دعا ہے کہ آپ کو بھی مجھ سے محبت ہو جائے اور میں آپ سے بہت دور چلی جائوں اور پھر آپ بھی میری شکل کو دیکھنے کے لئے ترس جائیں ۔۔۔۔
عشال نے دل میں سوچا۔۔۔
جائو۔۔۔
حازم اس بار پھنکارا تھا۔۔۔عشال روتے ہوئے اس کمرے سے نکلی تھی ۔۔
عشال شاہ تمہاری زندگی کو تم پر حرام کر دوں گا میں۔۔۔ موت کے کئے ترسو گی تم۔۔۔ یہ حازم شاہ کا وعدہ ہے تم سے۔۔۔
حازم غصے اپنے عکس کو آئینے میں دیکھ کر بولا۔۔۔
زندگی اب کیا موڑ لینے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔ شاید ابھی صحیح معنوں میں وقت شاہ پیلس کے مکینوں کا امتحان لینے والا تھا۔۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕