Ishq Wajib Hai By Farwa Noor

Forced Marriage Base | Romantic Emotional | Social Issues | Love & Sacrifice | Relationship Conflict

Novel Code : Novel20528

میں آپ کے پیسے بہت جلد آپ کو دے دوں گی اس لئے مجھے آپ کی یہ آفر قبول نہیں ہے۔۔
اس نے دو ٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سنایا تھا

سامنے بیٹھے شخص نے پہلو بدلہ۔۔
ساری مصیبت اس کے ساتھ ہونی تھیں وہ چڑ گیا تھا
دیکھوں مجھے ابھی اور اسی وقت پیسے چاہیے آئی سمجھ۔۔۔
اس نے دھونس جمائی اب ایسے تو ایسے ہی سہی۔۔
اس نے چونک کر اس خود غرض انسان کو دیکھا۔
ہم سہی لیکن ایک بات بتائیں اس پیپر میرج کا وجود کیا ہے ہمارے معاشرے میں ؟؟؟
ایک لڑکی سے وقتی شادی کروارے شادی نہیں سوری کاغذ کے ٹکڑوں سے اسکی زندگی خراب کرو پھر جب مطلب پورا ہو جائے تو چھوڑ دو۔۔۔
اس نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تھا

وہ لمحے بھر کو شرمندہ ہوا تھا۔۔
امیروں کا تو یہ شیوا ہے کوئی طوائفوں سے دل بہلاتا تو کسی کو۔۔۔
الف۔۔۔۔ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دھاڑا تھا
بہت بکواس ہو گئی ہے کچھ بول نہیں رہا تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جو منہ میں آئے وہ تم بولو گی آئی سمجھ اس نے ٹیبل پر ہاتھ مارا
اسکا دماغ پل میں گھوما تھا سامنے رکھا پیپر ویٹ زور سے زمین پر مارا۔۔
ابرہیم نے اسے دیکھا جو اسکے غصے کے جواب میں اسکی چیز پھینک کر اب پر سکون تھی
اسے اپنی نیا پار لگتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
مجھے ابھی اس وقت پیسے چاہیے تم اپنا بندوبست کہی اور سے کرو اس نے اپنے تئیں اسے دھمکایا تھا
اس نے ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالی تھی جیسے اسے شرمندہ کروانا چاہتی ہوں ۔۔۔
پہلے مجھے لگا تھا ہماری پہلی ملاقات میں جو ہوا اس میں کہی نا کہیں میری بھی غلطی تھی لیکن نہیں تم جیسا انسان ہمیشہ ہی غلط ہو گا

کہاں سے سیکھ لیا ہے ہم نے یہ طریقہ ضرورت کے لئے شادی اور پھر طلاق زرا اپنی بہن پر رکھ کر سوچو اگر اسے کوئی اس طرح وقتی شادی کا کہے ہاں اس انسان کو چھوڑو گے نہیں تم لیکن دوسروں کی بہنوں کے لئے یہ بولتے ہوئے تم زرا شرمندہ نہیں ہوئے
کیا منہ دکھاؤں گے اللہ کو ارے شادی تو پسندیدہ عمل ہے تو کیسے اس کا مذاق بنا لیا ہے تم سب نے زرا بھی شرم نہیں آتی جو طلاق کا نام ایسے لے رہے جیسے کوئی بہت عام بات ہو طلاق کا مطلب پتا ہے ؟؟؟ نکاح کا پس منظر پتا ہے ؟؟؟؟
ارے تم جیسے پڑھے لکھے امیر سے ہم غریب اچھے ہیں جن از کم اپنی نظر میں اٹھے ہوئے ہیں اور تمہاری طرح گری ہوئی بات نہیں کرتے۔۔۔
میری مجبوری میری ماں ہے لیکن ابھی میں اتنی بھی مجبور نہیں ہوئی کہ اپنے اللہ کے فیصلے کے خلاف جاؤ
تمہیں مبارک ہو یہ جعلی شادی جس کا تصور ہمارے اسلام میں ہے ہی نہیں۔۔
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا رہی تھی
یہ بگاڑ جو لوگ لا رہے ہیں نا ان کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن تم کیسے عقل کے اندھے اس بگاڑ کو بڑھاوا دینے میں سب سے آگے ہوتے ہو تف ہے تم پر تف۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *