complete novel, Family Story, Forced Marriage Based, Love Story Based, Romantic Fiction, Romantic Urdu Novel, Social issues Based, Uncategorized
Man Mastam An Ishqam By Mahi Shah Novel20526
Man Mastam An Ishqam By Mahi Shah
Romantic Fiction | Social Issues | Love Marriage Story | Suspense Elements | Forced Marriage
Novel Code : Novel20526
تمہاری نفرت کیسے ختم ہو گی ؟ اور کتنی اذیت دو گے مجھے ؟ “وہ اسکا”
ہاتھ جھٹکتی تنفر سے پھنکاری ۔ –
“تمہیں کس نے کہا میں تم سے نفرت کرتا ہوں ؟”
وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے اسکے آنسو اپنے انگوٹھے سے صاف
کرتا گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا مسکرایا ۔
“! من مستم عن عشقم ”
تم پاگل ہو ۔ “زر گل نے اسکے ہاتھ اپنے چہرے سے پڑے ہٹائے ۔”
شاہ ویز بھائی کو وہ تصویر بھیجنے کا کیا مطلب ؟ ” اسکی آواز بھاری ہو رہی ”
تھی ۔
کیسی بیوی ملی ہے مجھے جو شادی کی رات کبھی اپنے بھائی تو کبھی اپنی ” ” قسمت پر رو رہی ہے ۔ اٹھو شاباس فریش ہو جاؤ ۔
ضرغام نے اسکا ہاتھ تھاما ہی تھا کہ زر گل اسکے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑھ کر اسے پیچھے دھکا دیتی ارد گرد نظریں دوڑانے لگی ۔
“جنگلی بلی بن گئی ہو تم تو ۔”
وہ اسکی حرکت پر مسکرایا وہی زر گل نے بھاگنا چاہا جب ضرغام نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا ۔
تم ایک بیٹ ہو اس قابل ہی نہیں کہ کوئی تم سے محبت کرے ۔ “وہ”
چلائی ۔ –
محبت کرنے کی سزا کیا ہوتی ہے مجھ سے بہتر کون جانتا ہے ۔”
میری ہی غلطی تھی میں یہاں تک آئی ۔”
” اب پچھتاوے کیا ہو جب چڑیا چگ گئی کھیت ۔”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے بولا تو زر گل کا دل چاہا اس کا منہ نوچ لے ۔
” تم اب ہاتھ پاؤں مارو یا سر دیوار سے مار دو ۔ تم اب میری بیوی ہو ۔”
وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتا اسے چھوڑ چکا تھا ۔
تم جیسے انسان سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے ۔ کسی کی عزت کی پرواہ” ہوتی تو ایسی حرکت کرتے ہی کیوں ۔ “ضرغام نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا ۔ سیاہ آنکھوں میں نرمی کی جگہ سرخی پھیل گئی وہ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے قتل ہی کر دے گا ۔ زرگل کی ریڑھ کی ہڈی سننا اٹھی ۔ وہ راه فرار چاہتی تھی مگر ہاتھ پیر پھول رہے تھے ہلنا محال تھا ۔ ضرغام نے
کمرے کی ہر چیز تحس نہس کرنا شروع کر دی ۔
ہاتھ جھٹکتی تنفر سے پھنکاری ۔ –
“تمہیں کس نے کہا میں تم سے نفرت کرتا ہوں ؟”
وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے اسکے آنسو اپنے انگوٹھے سے صاف
کرتا گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا مسکرایا ۔
“! من مستم عن عشقم ”
تم پاگل ہو ۔ “زر گل نے اسکے ہاتھ اپنے چہرے سے پڑے ہٹائے ۔”
شاہ ویز بھائی کو وہ تصویر بھیجنے کا کیا مطلب ؟ ” اسکی آواز بھاری ہو رہی ”
تھی ۔
کیسی بیوی ملی ہے مجھے جو شادی کی رات کبھی اپنے بھائی تو کبھی اپنی ” ” قسمت پر رو رہی ہے ۔ اٹھو شاباس فریش ہو جاؤ ۔
ضرغام نے اسکا ہاتھ تھاما ہی تھا کہ زر گل اسکے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑھ کر اسے پیچھے دھکا دیتی ارد گرد نظریں دوڑانے لگی ۔
“جنگلی بلی بن گئی ہو تم تو ۔”
وہ اسکی حرکت پر مسکرایا وہی زر گل نے بھاگنا چاہا جب ضرغام نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا ۔
تم ایک بیٹ ہو اس قابل ہی نہیں کہ کوئی تم سے محبت کرے ۔ “وہ”
چلائی ۔ –
محبت کرنے کی سزا کیا ہوتی ہے مجھ سے بہتر کون جانتا ہے ۔”
میری ہی غلطی تھی میں یہاں تک آئی ۔”
” اب پچھتاوے کیا ہو جب چڑیا چگ گئی کھیت ۔”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے بولا تو زر گل کا دل چاہا اس کا منہ نوچ لے ۔
” تم اب ہاتھ پاؤں مارو یا سر دیوار سے مار دو ۔ تم اب میری بیوی ہو ۔”
وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتا اسے چھوڑ چکا تھا ۔
تم جیسے انسان سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے ۔ کسی کی عزت کی پرواہ” ہوتی تو ایسی حرکت کرتے ہی کیوں ۔ “ضرغام نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا ۔ سیاہ آنکھوں میں نرمی کی جگہ سرخی پھیل گئی وہ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے قتل ہی کر دے گا ۔ زرگل کی ریڑھ کی ہڈی سننا اٹھی ۔ وہ راه فرار چاہتی تھی مگر ہاتھ پیر پھول رہے تھے ہلنا محال تھا ۔ ضرغام نے
کمرے کی ہر چیز تحس نہس کرنا شروع کر دی ۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕