Man yar mehrbaanam by Biya Ahmed Novel20532
Man Yar Mehrbaanam by Biya Ahmed
Emotional & Relationship | Love story | Heart Touching Romantic | Second marriage | Step siblings base | Funny base|
NOVEL CODE : Novel20532
شاہ زین پلیز ” اس کی آواز میں التجا تھا، لیکن وہ کٹھور بنا ہوا تھا۔۔
پلیز “۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنا بازوں کھڑا کر آگے بڑھنا چاہا تھا، وہ اپنی عزت نفس بالائے طاق رکھتی دوبارہ اس کے سامنے آئی
تھی۔
شاہ زین پلیز میری بات سنیں۔ صرف ایک بار وہ رودی تھی۔۔
ہلو سامنے سے “۔۔ اس نے اُسے بازو سے پرے ہٹانا چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کا بازو تھام گئی تھی۔۔
پلیز شاہ زین۔ میرے ساتھ ایسا نہیں کریں۔۔ میری طرف دیکھیں تو۔۔ بات تو من ” وہ روتے ہوئے لجاجت سے بولنا چاہ رہی تھی جب وہ دانت پیستے ہوئے اس کی بات کاٹ گیا تھا۔۔
تمہیں میری بات سمجھ نہیں آرہی۔۔ ؟؟ ہو سامنے سے “۔۔ شاہ زین نے بے دردی سے بازو سے تھامے اُسے اپنے سامنے سے ہٹایا تھا۔ نہیں ہٹوں گی میں میرا قصور بتائیں مجھے جو ہوا اس میں میرا کیا قصور تھا میں مجبور ” وہ بے خوفی سے اُسے بازو سے پکڑتی اس کارت
اپنے سامنے کر کے چلائی تھی۔ شاہ زین کی آنکھوں میں شعلے لیکے تھے۔۔
قصور ڈیم اٹ “۔ اگلے ہی پل دھاڑتے ہوئے اُسے درستگی سے دونوں ہاتھوں سے تھام کر دیوار سے لگایا تھا۔۔ تم نے شاہ زین آفندی کی ذات کا مذاق اُڑایا ہے۔ رہا بلال۔ تم اپنا قصور پوچھتی ہو”۔ وہ اس کے بہت قریب کھڑا اپنی شرخ وحشت
بھری آنکھیں اس کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں گاڑھے ہوئے تھا۔ ربا کی دونوں کلائیاں اس نے اپنی جنون بھری گرفت میں تھامے دیوار سے لگائی ہوئی تھیں۔۔
” تم نے شاہ زین آفندی کے دل کو اس طرح بے مول کیا ہے کہ وہ اب کبھی کسی کے لیے نہیں گھل پائے گا۔۔ اور تمہارے لیے تو ہر گز نہیں سنا تم نے “۔۔ وہ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے بہت قریب لایا تھا۔ اُس کی سُرخ آنکھیں اس پر اس کے تیور ز با خوف سے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑے سسکی تھی۔۔ وہ اُس کی گرم گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتی آنکھیں بیچ گئی تھی۔۔
“میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرناز با بلال کم از کم آج کی رات اپنے اس سجے سنورے روپ کے ساتھ تو ہر گز نہیں ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ میں نے کبھی تم سے محبت کی تھی ۔۔ اس سے پہلے کہ اُس کے لب اس کی گردن کو چھوتے وہ خود پر قابو پاتا ہوا ایک جھٹکے سے اُسے چھوڑ تا واشروم میں غائب ہو ا تھا۔۔ ”
اس نے اپنی دونوں کلائیاں اپنے سامنے کی تھیں۔۔ دائیں ہاتھ میں پہنے سونے کے کنگن کا ڈیزائن اس کی کلائی میں چھپ سا گیا تھا۔ جبکہ بائیں ہاتھ میں پہنی کانچ کی کچھ چوڑیاں کلائی پر شاہ زین آفندی کے جنون کی کہانی سنارہی تھیں۔۔ وہ نیچے گرتی پھوٹ پھوٹ کر رودی
تھی۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕