Maat By Umme Maryam

Revenge Base |Kidnaping base  | Rude heroine | Joint Family System | Rude Heroine | Haweli Base | Feudal base 

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی، بابا بالکل ٹھیک کہتے ہیں تم ایک نیچ، گھٹیا، بدکردار انسان کی اولاد ہو، گھٹیا خون اپنا رنگ ضرور دکھاتا ہے، تم اس لائق نہیں ہو کہ ہمارے ساتھ برابری کی سطح پر ایک چھت کے نیچے رہ سکو ۔”وہ بول نہیں رہی تھی زہر اگل رہی تھی توہین کی شدت سے سبحان کا چہرہ سرخ ہو گیا اماں بیگم کو اس کے انداز لہجے اور لفظوں نے حیرت میں ڈال دیا وہ ابراہیم کی ہی زبان بول رہی تھی، سبحان کا سرخ چہرہ دیکھتے وہ بے قرار ہوتیں فوراً آگے آئیں اور ایک تھپڑ اس کے گال پرجڑ دیا وہ وہیں رک گئی ٹھہر گئی گویا ساکن ہو گئی۔

“آ ۔ ۔ آپ نے مجھے مارا ؟آپ نے ۔ ۔ ۔ آپ نے اس خبیث انسان کے لیے مجھے ۔۔۔ عاروشہ ابراہیم کو مارا ؟”وہ بے یقین تھی اسی بے یقینی میں وحشت زدہ ہو گئی ہاتھ مار کر ٹیبل پر پڑا گلدان نیچے پھینک دیا جو چھناکے کی آواز سے ٹوٹتا چکناچور ہو کر بکھر گیا ۔

“میں ابراہیم حسن کی بیٹی ہوں جو میری شناخت ہے اور یہ ۔ ۔ ۔ یہ کون ہے ؟ کیا ہے اس کی شناخت ؟”وہ حقارت سے سبحان کو دیکھتی اماں بیگم سے پوچھ رہی تھی۔

“ہونہہ اس کا حوالہ اس قابل بھی نہیں ہے کہ یہ اسے بیان کرسکے ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔۔ آپ نے اپنی بدکردار بیٹی کی اولاد کو سینے سے لگا کر رکھ لیا وہ بیٹی ۔ ۔ وہ بیٹی جو اسی حویلی کے نوکر کے ساتھ بھاگ گئی، آپ کی عزت پر کالک مل گئی، آپ کے منہ پر تھوک گئی تھی، اسی بیٹی کی اولاد آپ کو اتنی عزیز ہو گئی کہ آپ نے مجھے اس کم ذات کے سامنے ہلکا کر دیا۔”وہ وحشت کے عالم میں چلا چلا کر کہتی ماضی کے دردناک دریچے کھول رہی تھی مقابل کے زرد چہروں کو طنزیہ دیکھتی اپنی وحشت انڈیلتے اسے یہ بھی اندازہ نہ ہوا کہ وہ کس قدر سفاکی پر اتر آئی ہے وہ گنگ کھڑے تھے زبان گویا تالو سے چپک گئی تھی۔

“اور تم ۔ ۔ سبحان یوسف تم تو بہت ڈھیٹ واقع ہوئے ہو، اتنی ذلت کے بعد تو

تمہیں اب تک مر جانا چاہیئے تھا پر حیرت کا مقام ہے اب تک اپنے پاؤں پر کھڑے ہو ۔”سبحان کو یہ تازیانہ بری طرح لگا تھا گویا اندر تک ہلا گیا ہو وہ اس کے سامنے اس کے ماں باپ کی عزت تارتار کر رہی تھی اور وہ بت بنا کھڑا سب دیکھ رہا تھا وہ حواسوں میں لوٹتا مضبوطی سے قدم بڑھاتا آگے آیا۔

“میری ماں ایک بدکردار عورت تھی میرا باپ یوسف کریم سیالوں کی حویلی کا اک نیچ گھٹیا ملازم تھا، یہ ہے میری حقیقت یہ ہے میرا حوالہ جو کہ ہرگز بھی قابلِ ذکر نہیں ہے لیکن تم ۔ تم تو بالکل پرفیکٹ ہو نا ۔ بہترین خاندان، پرآسائش زندگی، اچھی تعلیم اور بےداغ حسن ۔ ۔ابراہیم حسن جیسا بہترین باپ اور ماں ۔۔ اپنی زندگی کا بہترین عکس دیکھنے میں اتنی مصروف مگن ہو کہ ماں کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تم نے ۔ نہ پوچھا نہ بتایا نہ کوئی بات کی ۔ ۔میں تمہیں بتاؤں تمہاری ماں کون تھی ؟”وہ ہر لفظ چباچبا کرسرد لہجے میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا کہہ رہا تھا۔

“جاننا چاہتی ہو ؟”وہ بظاہر بے حد سکون سے پوچھ رہا تھا پر اندر الاؤ دہک رہا تھا جو آج تہس نہس کردینے کی طاقت رکھتا تھا۔

“سبحان “بی بیگم نے اسے باز رکھنے کی کوشش کی تھی پر وہ ضبط کی آخری حد

پر کھڑا تھا آر یا پار کے دہانے پر تھا کیسے پلٹ آتا ۔

“بتاؤں تمہیں؟ “وہ پورے قد سے اس کے سامنے کھڑا بےحد سرد لگ رہا تھا اسے پہلی بار خوف محسوس ہوا انجانی حقیقت کا خوف پر ہونی کو کون ٹال سکتا تھا ۔ اس کے اگلے لفظ اتنے سرد اتنے برف تھے کہ وہیں منجمد کر گئے۔

“تمہاری ماں مہرالنسا اسی نیچ گھٹیا ملازم کی چھوٹی بہن تھی عاروشہ ابراہیم۔۔ اسی حقیر مخلوق کی بہن جسے تم اور تمہارا باپ جوتی کی نوک پر رکھنا جانتے ہو، پوچھنا اپنے باپ سے اگر یوسف کریم کی اولاد کا حوالہ قابلِ ذکر نہیں ہے تو مہرالنسا کی بیٹی کو سینے سے کیوں لگایا اس نے ۔ اس سے پوچھنا اگر سبحان کو اس کی ماں کی بدکرداری کی سزا اب تک مل رہی ہے تو مہرالنسا کی بدکرداری کا گناہ اس کی بیٹی کے سر پر کیوں نہیں ہے؟”اس کا لفظ لفظ نیزے کی صورت اس کے وجودنیزے کی صورت اس کے وجود پر گڑھ رہا تھا اور وہ زمین میں دھنستی جا رہی تھی وہ بے یقین تھی ۔ وہ جھوٹ بول رہا تھا ہاں وہ جھوٹ بول رہا تھا ایسا کیسے ممکن تھا۔

بدکرداری ۔۔۔ توکیا اس کی ماں بدکردار تھی وہ وحشت زدہ ہو گئی کوئی بوجھ تھا جو طوق کی صورت گلے میں آلٹکا تھا فضا بھاری ہو رہی تھی دم گھٹ رہا تھا اندھیرا بڑھ رہا تھا وہ سبحان کو روکنا چاہتی تھی خاموش کروانا چاہتی تھی پر لفظ گونگے ہو گئے تھے حواس کام کرنا چھوڑ گئے تھے وہ یک ٹک قہر میں ڈوبے سبحان کو دیکھتی چلی گئی ۔
“سبحان چپ کر جاؤ”بی بیگم نے مزاحمت کی تھی عاروشہ کا بت بنا وجود آنے والے طوفان کی پیشن گوئی کر رہا تھا۔
“مت روکیں مجھے ۔ ۔ اسے جاننے دیں کہ یہ جو دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھ کر یہ سمجھتی ہے کہ سب سے افضل ہے اس کا خون اس کافخر ہے اس کی زندگی میں کوئی جھول نہیں کوئی داغ نہیں ہے تو مجھے وہ داغ دِکھانے دیں اماں بیگم اسے منہ کے بل گرنے دیں تاکہ یہ جان سکے کہ اتنی ذلت کے بعد پاؤں پر کھڑے رہنے والوں پر موت کیوں مہرباں نہیں ہوتی، انکے دلوں پر کیا قیامت گزرتی ہے اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ دکھ کیا ہوتا ہے رونا کسے کہتے ہیں توہین کیا ہوتی ہے سر سے آسمان کا چھیننا اور پاؤں سے زمین کا سرکنا کیا قہر ڈھاتا ہے۔”اک اک لفظ پھنکار کر ادا کرتے وہ پتا نہیں مزید کون سی اصلیت کھولنے والا تھا اس کا یہ قہر برساتا روپ پہلی بار اس کے سامنے آیا تھا۔
“اسے یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ کون شخص تھا جس نے بدکرداری کے الزام میں مہرالنساء کو اسی حویلی کے درودیوار میں کاری کیا تھا اسے اتنی تڑپتی موت دی تھی کہ انسانیت تک کانپ اٹھے بتاؤں تمہیں میں کہ وہ شخص ۔ ۔ “وہ مزید بات جاری نہیں رکھ سکتا تھا اماں بیگم اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے کھڑی تھیں نفی میں سر ہلاتے ان کی آنکھوں ؔسے آنسو بہہ رہے تھے اس کی آنکھیں بھی نم تھیں دونوں رو رہے تھے بس ایک وہ تھی جس کی آنکھیں خشک تھیں پتلیاں ساکت تھیں ذہن شاک میں تھا وہ ہونٹ بھینچے چند لمحے اس کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر اسی کیفیت میں پلٹ کر وہاں سے چلا گیا پیچھے وہ رہ گئی صدمے میں مبتلا لمحہ لمحہ ریزہ ہوتی ذہن ہر چیز سے ہٹ کر اسی انکشاف کی سولی پر لٹکا موت کا منتظر تھا۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *