Woh Larki Hai Sab Se Juda by J.Nikhat Novel20539
Woh Larki Hai Sab Se Juda by J.Nikhat
Age Difference | Teacher Student | Haveli Base | Wadera System |Revenge Base | Kidnapping Base |Rude Hero| Chulbuli Natkhat Heroin | Happy Ending
اقصیٰ میں جانتاہوں آپ کو میری بات عجیب لگےگی لیکن ضروری ہے۔دراب کی بات پر اقصیٰ نےہڑبڑاکر اپنی نظروں کازاویہ بدلہ۔
دیکھیں پھوپھو گئیں ہیں خاندان والوں سےملنے اینڈ آئم ڈیم شور کی وہ سارے خاندان میں ہمارےخفیہ نکاح کا ڈھنڈورا پیٹ کرآئیں گی۔اس سے پہلےکی پورے خاندان والے بچہ ہاتھ سے نکل گیاہے کہ کرطعنے تشنے نت نئے القابات کےساتھ مجھےسدھاڑنے بلکہ کوسنے فاروقی منزل پہونچے میں انکل لوگوں سے مشورہ کرکے آپ کے ایکزام کے بعد کی کوئی بھی ڈیٹ ولیمہ کیلئے آننس کردینا چاہتا ہوں۔دراب اسکےچہرےپر نظریں ٹکائے بولا۔
واٹ!آر یو میڈ؟اقصیٰ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔آپ کیابول رہے ہیں؟آپ کو ذرا سا بھی اپنے لفظوں کا اندازہے؟۔آج سے ٹھیک پندره بعد میری فاروقی منزل سے ہمیشہ کیلئے رو۔۔
شششش!آگےنہیں۔دراب فوراً اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔اقصیٰ کارد عمل اسکےتوقع کےعین مطابق تھا۔لیکن ولیمے کی بات اس نےچھیری ہی اس مقصدسےتھی کےاقصیٰ کے ذہن سے واپسی والا فتور نکل جائے۔وہ یہ سوچےکی وہ کیا چاہتی ہے۔یہ نہیں کی مرینہ بیگم کیاچاہتی ہے۔وہ چاہتاتھاکی وہ بجائے امید ٹوٹنے کے ڈر سے اپنے جذبات کوچھپانے کےکھل کراپنے خواب سجائےجس کیلئے لازمی تھاکی وہ فاروقی منزل کو اپناگھر سمجھےنا کےسرائے۔
مجھے اپنےلفظوں کابخوبی اندازہ ہے۔ولیمہ کرناسنت ہے۔اور میں یہ سنت بڑی دھوم دھام سےادا کرناچاہتاہوں۔دراب نےاسے واپس کرسی پر بیٹھایاجس سے وہ دوسرے ہی پل کھڑی ہوگئی تھی۔
آپ۔۔آپ سچ میں پاگل ہوگئےہیں۔مجھے آپ سےکوئی بات ہی نہیں کرنی میں جارہی ہوں۔آج ہی اپنی پیکنگ کرنے تاکےآپ کے ذہن میں یہ بات بیٹھےکی آپ نےاقصیٰ اکمل کوواپس چھوڑنےکیلئےلایاتھا۔اقصیٰ ڈبڈباتی آنکھوں سے سلیب کی طرف بڑھی۔یہ شخص اسے دوبارہ امیدباندھے نےکی تلقین کررہاتھا۔جبکہ کل ڈائیورس پیپروہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کرآئی تھی۔جسےدیکھ کر کہیں دل میں کچھ ٹوٹاتھاشائد امیدیا خوابوں کازیر تعمیر چھوٹاسا محل۔
وہ کل کی بات تھی۔اور آج میں آپ سے دستبردارنہیں ہوناچاہتا۔اس سب کےعلاوہ جب ہمارا نکاح ہوا تھا۔تب وہاں ایسی کوئی بات کاذکر نہیں کیاگیاتھا۔ہمارا نکاح نکاح تھاکوئی پیپر میریج کنٹریکٹ مریج نہیں۔پھر رشتہ ہمارا ہے۔ڈسیزن بھی ہمارا ہوناچاہئے۔
شرعی یا قانونی کسی بھی اعتبار سےکوئی دوسرا یہ فیصلہ لینےکا حق نہیں رکھتا کی ہمیں اپنارشتہ قائیم رکھنا ہےيا نہیں۔دراب نے پیچھے اس کی کلائی تھام کر سانولے نرم ملائم گال پر پھسلے آنسوں صاف کرتےہوئے بولا۔جس پر اقصیٰ بدک کردو قدم پیچھےہوئی تھی۔
دد۔۔دیکھیں مجھےآپ کی باتیں سمجھ نہیں آرہی۔ویسے بھی چار دن بعد ایکزام ہےمیں آئ جی مینشن سےہی لکھ لونگی۔اقصیٰ دونوں ہاتھوں سے گال رگڑتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔اس سے پہلےکی اسکے اندر پنپ رہے جذبات اس پر حاوی ہوتے اس نے راہےفرار چاہی۔
اقصیٰ کیاان چند مہینوں میں میں نے اور میرے شہزادوں نےاتنی بھی جگہ نہیں بنائی آپ کےدل میں جو اس طرح چھوڑ کرجانےکی بات کررہی ہیں؟عقب سے آئی آواز پر اقصیٰ کےقدم خود بخود تھمےتھے۔
اگر نہیں تو میں زبردستی کاقائل نہیں آپ کی مرضی ہے۔دراب سنجیدہ ہوا۔وہ اسے جیتناچاہتا تھازبردستی باندھنا نہیں۔

Download link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕