Hijar K Ansoo By Huria Malik Novel20541
Hijar K Ansoo By Huria Malik
Genre | Romantic Fiction | After Marriage | Caring And Rude Hero | Emotional Drama | Suspense | Tragedy
نہیں پلیز اسفند یار رک جاو، ابو کہیں اور نہیں مانیں گے تم پلیز یہ میرے جڑے ہاتھوں کی لاج رکھ لو اور میرے باپ کو بے عزت ہونے سے بچا لو تم جانتے ہو نا ان کو۔۔۔۔۔ وہ بے ساختہ ہاتھ جوڑتی تڑپ اٹھی تو وہ جھنجھلا گیا۔۔۔۔۔
زری زندگی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ شادی بار بار نہیں ہوتی میں محبت نہیں کرتا تم سے تم سمجھتی کیوں نہیں ہو۔۔۔۔۔ وہ اکتا کہ بولا تو اس نے اپنے ہاتھوں پہ سر ٹکاتے سوچا کہ جس نے بچپن اپنی طلب کہ پیچھے لگوا کہ کھا دیا وہ آج اسے کیسے سبق دے رہا تھا لیکن وہ اس سے ناراض نہ تھی کہ محبوب تھا سب زیب دیتا تھا۔۔۔
میں جانتی ہوں لیکن تم۔۔۔۔۔ وہ اسکے الفاظ کاٹتا بولا۔۔۔
ایم سوری زری لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ اسے جڑے ہاتھوں سے نظریں چراتے وہ رخ موڑنے کو تھا جب وہ اسکی ٹانگیں جھکڑ گئی۔۔۔۔
نن۔۔۔نہیں پلیز اسفند یار تم نکاح کر لو مم۔۔مجھ سے کک۔۔۔کہتے ہیں نا نکاح سے محبت پیدا ہو جاتی پلیز۔۔۔۔۔۔ وہ اسکی ٹانگوں سے آنسووں سے تر چہرہ لگاتی منت کرتی بولی تو اسکا دل ایک پل کو موم ہوا لیکن۔۔۔
اور اگر محبت نہ ہوئی تو۔۔۔؟؟ اسکے تیکھے سوال پہ اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا گویا بات سمجھنے کی کوشش کی ہو۔۔۔۔
زری اگر نکاح کہ بعد بھی محبت نہ ہوئی تو کیا کرو گی۔۔؟؟ چھوڑ دو گی کیا مجھے میرے لیے۔۔۔؟؟ وہ نہیں جانتا تھا اسکے بے رحم الفاظ کیسے اسے گھاو لگا رہے تھے وہ تڑپ تڑپ کہ مر رہی تھی۔۔۔
تت۔۔۔تمہیں ہو جائیگی محبت ،مم۔۔میرا یقین کرو۔۔۔۔ اب کہ وہ بولی تو لہجہ لڑکھڑا رہا تھا وجہ وہ خود تھا۔۔۔
نہیں زری میں ایک مفروضے کی بنیاد پہ زندگی داو پہ نہیں لگا سکتا۔۔۔۔۔۔ وہ بے رخی سے کہتا خود کو چھڑواتا آگے بڑھا تو اسے یوں لگا وہ یہیں بیٹھی بیٹھی دفن ہو جائے گی اگر وہ اس بار چلا گیا تو زندگی بھر کی زلت اسکے باپ اور اسکے لیے بھری پڑی تھی وہ ہمت جتاتی اٹھی اور اسے. دروازے تک پہنچنے سے پہلے جا لیا اسنے حیرت سے اسے دیکھا لیکن اسکی اگلی حرکت نے اسے لرزا کہ رکھ دیا اس پل وہ اپنی جگہ سے ہل کہ رہ گیا کہ اسکی اپنے خاندان کی عزت اپنی کالی چادر اسکے قدموں میں ڈالتی اسکے قدموں میں جھک گئی۔۔۔۔۔۔
تم خدا کیلیے مجھ پر نا سہی اپنے ماموں پہ ترس کھا لو، انہیں یوں چادر کسی کہ قدموں میں ڈالنے سے روک لو جو تمہارے اس انکار کہ باعث ڈالنے جا رہے۔۔۔ تم مجھے بس اپنا نام دے دو، تمہیں محبت نہ ہوئی تم دوسری شادی کر لینا، مم۔۔میں تم سے کک۔۔کچھ نہیں مانگوں گی خدا کیلیے اسفند ترس کھاو ہم پہ۔۔۔۔۔ اسنے اسکے جھکے لرزتے وجود کو دیکھا تو دل سینے میں لرز سا گیا اس سے پہلے کہ دل اس لڑکی کہ حق میں گواہی دے دیتا اسکے سامنے اپنی خواہشات، اپنی خوشیاں اور ترجیحات نظر آنے لگیں تو اسنے سر جھکا دیا اور اسکا جھکا سر دیکھ کہ وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپی کہ جانتی تھی کہ یہ سر انکار میں جھکا ہے۔۔۔۔
لوگ محبت میں اپنا دل اور جان ہارتے ہیں وہ محبت میں اپنی عزت نفس ہار گئی تھی۔۔۔۔۔
اسے گمان تھا کہ شاید وہ اسکی بات سمجھ لے گا سن لے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور اسنے اسکا اس پہ کیا جانے والا غرور اور مان پل بھر میں پاوں تلے روند ڈالا۔۔۔۔
جن محبتوں کہ غرور کو اللہ توڑتا ہے ان میں کتنی شدت ہوتی ہو گی نا۔۔۔۔!
وہ اسکے بڑھتے قدموں کو تھامے ہوئے نجانے کس امید پہ بیٹھی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕