Jalti Barish By Huria Malik

Genre | Romantic Fiction | Wani Base | Caring And Rude Hero | Emotional Drama | Suspense | Tragedy |  Love & Separation

“محبت سے بیاہ کے نہیں لے جا رہے تم کو جو تم نخرے دکھاوں گی، اپنے خود غرض بھائیوں کی زندگی کے عوض تم چار دن پہلے اپنا آپ ان کے نام لکھوا چکی ہو اس لیے خدا کے لیے کپڑے پہن لو نہ اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کرو۔” بنفشے اور ان کی خالہ زاد ارمینا نے جب بمشکل چڑچڑی سی ہوتی فرشتے کو تیار ہونے پہ آمادہ کرنی کی کوشش کی تو وہ سرے سے ماننے سے ہی انکاری ہو گئی تو بنفشے دکھی دل سے پھٹ پڑی اور پھر دونوں بہنیں ایک دوسرے کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگیں اور پھر زمرد بیگم کے آنے اور سمجھانے پہ جب وہ صرف اور صرف جوڑا پہننے پہ آمادہ ہوئی تو سب نے کلمہ شکر پڑھا۔

“ہے ماشاءاللّٰہ!” جب وہ سرخ لباس پہنے کمرے سے باہر نکلی تو ارمینا کہ ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا تو فرشتے نے بے چینی و بے دھیانی سے کان بالوں کے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی۔

“او واو!یہ مہندی کس نے لگائی ہے؟” اس کی نگاہ اس کی سفید ہتھیلوں پہ سجے نام پہ گئی تو وہ پرجوش سی بولی۔

“وہ۔۔۔۔وہ یہ۔۔” وہ بے ساختہ گھبرا اٹھی اور مدد طلب نگاہوں سے بنفشے کی جانب دیکھا۔

“میں نے لگائی تھی۔” بنفشے نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے آگے بڑھ کے فرشتے کو تھاما اور لا کے بیڈ پہ بٹھا دیا اور پھر ارمینا کو اشارہ کیا جو زیورات سے بھرا تھال اٹھائے اس کے نزدیک چلی آئی تو فرشتے کا دل جیسے بند ہونے لگا لیکن وہ مارے باندھے ان کے سامنے بیٹھی خود کو حالات کے دھارے پہ چھوڑ چکی تھی۔

“دیکھ لو ایک دفعہ خود کو شیشے میں تو رشک کرنے لگو گی خود پہ۔” ارمینا کی بات پہ اس کی نگاہ بے ساختہ سامنے لگے بڑے سے گول شیشے پہ گئی تو پھر وہیں جم سی گئیں۔

بھاری سرخ جوڑے میں ملبوس، وہ گلے میں سونے کے بھاری جڑاو بڑے ہار، میچنگ نیکلس، بھاری بُندھے، ایک بازو میں سونے کی چوڑیاں جبکہ دوسرے ہاتھ میں سونے کے کنگنوں میں میچنگ سرخ چوڑیاں جھلملا رہی تھیں، دونوں ہاتھوں کی انگلیاں نفیس سی انگوٹھیوں سے مزین تھیں، چاندی کی خوبصورت بغیر موتیوں کی چھنکار والی پائلوں سی سرخ و سفید پیروں کو میچنگ جوتوں میں سجائے وہ گھنیرے بالوں کے جوڑے میں بھاری دوپٹہ اٹکائے ہونٹوں پہ فقط سرخ رنگ چڑھائے اس وقت شہزادیوں کی سی آن بان لیے خود کو ہی ساکت و جامد کر گئی۔

“خود کا یہ حال ہے تو سوچو جب تمہارا شوہر تمہیں دیکھے گا تو کیا حشر ہو گا اس کا؟” اسے یونہی ساکت کھڑے دیکھ کے ارمینا پھر سے شوخ لہجے میں بولی تو ‘شوہر’ کا حوالہ سنتے ہی فرشتے کے دل سے ہوک نکلی۔

“سجنا بھی من پسند شخص کے لیے اچھا لگتا ہے ورنہ پائل پیروں کی زنجیر، کنگن ہتھکڑی، جھمکے غیر ضروری بوجھ اور ہار گلے کا پھندہ لگتا ہے۔” پرسوز و تھکے ہوئے لہجے میں کہتی وہ پلٹتی دروازے کی جانب بڑھی جہاں کھڑی مرجان بیگم اس وقت اسے شدت سے رلا گئیں۔

“خانم!یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا کہ آپ کی بیٹی اس نام نہاد پڑھے لکھے علاقے کی فرسودہ رسم و رواج کی بدولت اپنے بھائیوں کی زندگی کے بدلے خود کو مار گئی ہے۔” وہ گھٹے گھٹے لہجے میں کہتی ان کے آگے نا بڑھنے کے باوجود زور زور سے رونے لگی تو ان کے دل کو نجانے کیا ہوا۔

“کیا اول فول بک رہی ہو؟کہا نا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا؟ وہ شخص اس حویلی کی دہلیز پار نہیں کر پائے گا۔” اسے جھنجھوڑتے ہوئے وہ غصیلے لہجے میں بولیں تو فرشتے کے چہرے پہ زہر خند سی مسکان مچل گئی۔

“وہ اس حویلی کی دہلیز پار کرے نا کرے لیکن مجھ پہ اپنے نام کی مہر تو سجا چکا ہے نا؟” اس نے عجیب سے لہجے میں کہا تو اسی لمحے ایک لمحے ایک ملازمہ تیزی سے بھاگتی ہوئی ان کی طرف آئی۔

“بیگم خاناں!خبر ملی ہے کہ بارات آفریدی حویلی سے نکل چکی ہے۔” اس نے پھولتی سانسوں سمیت بتایا تو فرشتے کا دل ایک دم سے دھک کر کے رہ گیا۔

“عالم خاناں اور آغا جان کو خبر کرو کہ اپنے لوگوں کو اطلاع دے دیں۔” مرجان بیگم ایک نظر فرشتے کے سجے سنورے روپ کو دیکھتیں اسی روپ کو مٹانے کا ارادہ بناتی ملازمہ کو حکم دیتیں پلٹ گئیں جبکہ ان کی بات سن کے فرشتے کا پورا وجود گویا جھٹکوں کی زد میں آ گیا۔

“مبارک ہو!ہمارے عزت مآب خاندان والے تمہیں اس غیر ضروری بوجھ سے نجات دلانے کے لیے تمہاری ہی رخصتی والے دن تمہیں سہاگن بنانے کی بجائے بیوہ بنانے کی مکمل تیاری

کر چکے ہیں۔” بنفشے کے زہر خند اور تلخ لہجے میں کہے جانے والے الفاظ سن کے اسے اپنا پورا وجود زمین میں دبتا محسوس ہو رہا تھا۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *