Dasht E Guman Mein By Subas Gul

Second Marriage Base | Romantic Novel | Emotional  |  Relationship-based  | After Marriage 

” بیٹا اسے پولیس کے حوالے کر خود بخود بتا دے گی کہ سنی کو کہاں چھپایا ہے۔ ” ریحانہ بیگم نے مشورہ دیا۔
“ہاں آپ ٹھیک کہتی ہیں پھپھو۔۔۔” ارسلان نے اسے نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا
” بند کرو یہ رونا دھونا کیسی کم سن اور معصوم صورت ہے تمہاری اور حرکتیں تمہاری ، ثوبیہ اگر میرا بیٹا نہ ملا تو میں تمہیں جیل میں سڑا دونگا، جس گھر کی تم مالکن بنی بیٹھی ہو اس گھر سے نکال باہر کروں گا۔۔۔۔۔۔”
” آپ جو چاہے سلوک کریں میرے ساتھ مگر میرے گردار پر کیچڑ مت اچھالیں، اس شک اور تہمت بھری زندگی سے تو میں پھانسی لگ جانا ہی بہتر سمجھتی ہوں، میں تو پہلے بھی زندہ نہیں تھی جو اب مرکر مجھے افسوس ہوگا ۔” وہ روتے بلکتے ہوئے ہوئی۔
” یہ ڈائیلاگ مت بولو میرے سامنے تمہارے سارے منصوبے کی قلعی کھل گئی ہے ” ارسلان نے غصے اور نفرت بھرے لہجے میں کیا۔
” جب حقیقت آپ پہ کھلے گی تو۔۔۔۔۔۔ میری بے گناہی خود بخود آپ پر ثابت ہو جائے گی۔۔۔۔۔” اسکی روح زخمی ہو گئی تھی سنی کے گم ہونے کا صدمہ کم نہیں تھا اس پر ارسلان کی بد گمانی نے بھی اسے توڑ کر بکھیر کر رکھ دیا تھا۔
” ہر گناہ گار ہر مجرم خود کو معصوم اور بے گناہ کہتا ہے لڑکی۔۔۔۔۔۔ ” ریحانہ بیگم نے کہا اور پھر ارسلان کی طرف دیکھ کر بولیں۔
” ارسلان بیٹا! میں نے کہا تھا نا تم سے کے یہ بھی نائمہ جیسی ہی ہو گی تم نے میری ایک نہیں سنی اب دیکھ لیا نتیجہ، اللہ جانے بچہ کہاں ہو گا کس حال میں ہو گا، تمہیں بھی خاندان سے باہر بیاہ رچانے کا شوق تما، ارے مجھے سے کہا ہوتا میں تہارے لئے کوئی اچھی سی لڑکی تلاش کر لیتی تم نے مجھے کسی قابل ہی نہیں سمجھا، ہائے میرا سنی کس حال میں ہوگا میرا معصوم بچہ یا اللہ تو سنی کی حفاظت کرنا۔۔۔” ریحانہ بیگم نے جھوٹ موٹ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا۔
” اب بھی وقت ہے بتا دو ثوبیہ کے سنی کو تم نے کس کے حوالے کیا ہے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔” ارسلان نے جذباتی اور غصیلے لہجے میں کہا۔ ” بیٹا تم اسے طلق دے کر فارغ کیوں نہیں کر دیتے، ابھی بھی کچھ ہونا باقی ہے، یہ تو کل کلاں کو تمہیں بھی زہر دے کر مار دے گی اور ساری جائیداد کی مالک بن بیٹھے گی ایسی لڑکیوں کے یہی لچھن ہوتے ہیں۔۔۔” ریحانہ بیگم نے ارسلان کے غصے کو ہوا دیتے ہوئے سفاکی سے کہا تو ثوبیہ تڑپ اٹھی۔۔۔۔۔۔
” میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں، میں نے کچھ نہیں کیا کوئی جرم نہیں کیا میں نے، آپ میرا یقین کیوں نہیں کرتے ارسلان؟” وہ روتے ئے بولی تو اس نے شعلہ باز نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
” یقین ہی تو کیا تھا میں نے تم پر،، محبت کی تھی جس کا تم نے مجھے یہ صلہ دیا ہے، کان کھول کر سن لو ثوبیہ اگر سنی زندہ سلامت جلد از جلد مجھے نہ ملا تو تم نہ صرف اس گھر سے باہر اور جیل کے اندر ہوگی،، بلکہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور جیل میں بند کروائوں گا، سوچ لو ابھی بھی وقت ہے تم اچھی طرح سوچ لو کے جیل جانا ہے یا صرف طلاق لے کر اس گھر سے جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
” آپ میرا یقین کریں میں سچ کہہ رہی ہوں، میں نہیں جانتی کہ سنی کہاں ہے، اسے کون لے گیا ہے؟ میں کیوں کروں گی یہ جرم جب کہ مجھے بھی معلوم ہے کہ میں آپ کی بیوی کی حیثیت سے آپ کی جائیداد کی مالک اور حصے دار بھی ہوں۔۔۔۔ طلاق کی صورت میں مجھے ذلت رسوائی اور دربدری کے سوا کچھ بھی نہیں ملے گا، پھر میں جانتے بوجھتے ایسا کیوں کروں گی ارسلان، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ سنی کو نائمہ نے اغواہ کر لیا ہو آخر وہ سنی کی ماں تو ہے نا۔۔۔۔” ثوبیہ نے روتے ہوئے اٹک اٹک کر کہا۔
” نائمہ ہاں مجھے اس کا خیال کیوں نہیں آیا، یقینا نائمہ بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔” ارسلان نے چونکتے ہوئے کہا۔
” وہ کیوں ہونے لگی بھلا اسے تو جنم دینے کے بعد سے تجھ سے کوئی واسطہ ہی نہیں رہا تھا، کبھی کوئی دلچسپی ہی نہیں لی تھی اس نے کسی میں تو اب وہ طلاق لے کر سنی کو کیوں اغوا کرائے گی جیسی وہ ہے اول تو سنی کو اپنے پاس رکھنے کا سوچے گی ہی نہیں اگر ایسا سوچتی بھی ہے تو وہ اسے خود یہاں آکر اپنے ساتھ لے جاسکتی ہے، خونخوار تو وہ ہے ہی اپنے بچے کو وہ اغوا کیوں کرائے گی، سات سال تک قانون بھی بچے کو ماں کی تحویل میں دینے پر راضی ہوتا ہے۔ ” ریحانہ بیگم نے تیزی سے کہا۔
آپ کی بات درست ہے پھپو لیکن نائمہ مجھے بے سکون کرنے کے لئے اپنی طلاق کا بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے تو ایسا کر سکتی ہے نا۔۔۔۔۔” ارسلان نے سنجیدگی سے سوچتے ہوئے کہا۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *