Meri Saans Saans Ka Jawaz Ho Tum By Ghaniya Hassan

Forced Marriage | After Marriage  | Innocent Heroine | Inspirational Fiction  | Rude hero|  Social Romantic |  Societal Issues |  Suspense 

اسکے پاس کچھ کھونے کو تھاہی نہیں بس حسرتیں تھیں مگر اب ۔۔۔۔ اب اسکے پاس اسکی سب سے قیمتی متاع تھی جسے کھونے کے ڈر اسکی سانسیں رکنے لگتی تھیں۔۔۔ اسکاول بند ہونے لگتا تھا۔۔۔ وہ کیسے کھو دیتا ہے جو اسکے جینے کی وجہ تھی ۔۔۔ او کیسے کھو دیتا ہے جو اسکی زندگی میں آس کا جگنو بن کر آئی تھی ۔۔۔۔ وہ کیسے کھو دیتا ہے جسکے دم سے اسکی سانسوں کو جینے کا جوائز ملا تھا۔۔۔
آج نہیں تو کل ۔۔۔ یا پھر پر ہوں یا کبھی نا بھی تو میں باہر جاؤں گی نا۔۔۔ کبھی نا کبھی تو مجھے قدم پر بڑھانا پڑیں گے نا۔۔۔ مجھے جانتا ہو گا اس لیے نہیں کہ مجھے باہر کی رونقیں باہر کی رحمین دنیا پر کشش لگتی ہے بلکہ اس لیے کہ میں حصول علم کی طالب ہوں ۔۔۔ تو کیا آپ تب بھی یونہی ڈرتے رہیں گے۔۔۔؟؟۔۔۔ ڈر ہمیشہ انسان کو کمزور اور زندگی کو کٹھن اور دشوار بنادیتا ہے، میں نہیں چاہتی کہ آپ مجھے اپنی کمزوری بنادیں اور اپنی زندگی کو کھن یادشوار ۔ ” وہ اسے تھوڑا بہت سمجھانے کی کوشش کرنے لگی
کمزوری ؟؟ تو کیا وہ اسکی کمزوری بن چکی تھی ۔ ۔  ۔۔ ہاں وہ اسکی کمزوری ہی توین چکی تھی ۔۔۔ ” حاتم کے دل نے اعتراف کیا

Download Link

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *