Zehal e Miskeen By Aqsa Malik

Rude hero | Suspense | Revenge Base | Mafia gangster base | Crime Thriller | innocent heroine | kidnapping base | Love triangle | Romantic Urdu Novels 

مجھے وہ لڑ کی جتنی جلدی ہو سکے اپنے قبضے میں چاہئے پاشا میں اور انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔ ” اس وقت وہ لاہور کی سب سے اونچی بلڈ نگ پر کھڑے چلا رہے تھے نیچے انکے سیکیورٹی گارڈز ہاتھوں میں بندوق لئے انکی پہرے داری کر رہے تھے انکی بات سن کر مقابل کچھ دیر خاموش رہا
تم سن رہے ہو پاشا۔۔۔؟ اسے خاموش دیکھ پھر سے بولے کن رہا ہوں لیکن جو ڈیمانڈ آپ کر رہے ہیں وہ نہ سن سکتا ہوں نہ کر سکتا ہوں۔۔۔ “سامنے سے ایک بھاری خوبصورت آواز ابھری کیوں نہیں کر سکتے مجھے یقین ہے تم کر لو گے۔۔۔ ” انکی بات
پر مقابل جیسے ہنسا تھا انہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا کان
سے فون ہٹا کر بے رخی سے دیکھا
اتنے چھوٹے کاموں پر اپنا یقین دکھا کر پاشابے کی توہین کر رہے ہیں آپ۔۔۔ پاشاہر غلط کام کر سکتا ہے لیکن عورت ذات پر

حملہ کرنا اپنی مردانگی کی تو ہین سمجھتا ہے اگلی بار کوئی مردوں والا کام ہو تو ضرور یاد کرنا پاشا بے حاضر ۔۔ ” کہتے وہ ٹھیک سے کال بند کر گیا انکا بس نہیں چلا جا کر اسے گولیوں سے بھون ڈالے لیکن ایسا صرف خواب میں ممکن ہو سکتا تھا سامنے سے وہ
اس سے نظریں تک نہیں ملا سکتے تھے سیاست میں اتنی پاور فل سیٹ لینے کے بعد بھی ان میں اس گینگسٹر کا ڈر رگوں میں خون کے ساتھ دوڑتا تھا
پاشا۔۔۔۔ ” وہ کھلے میدان میں کھڑا اپنے سکائے کی پیٹھ تھپتھپاتے گھڑ سواری کی تیاری کر رہا تھا وہاں اور بھی گھوڑے تھے آج انکا ایک خاص ریس لگتی تھی جس کے شروع ہونے سے پہلے سب جانتے تھے کہ ہمیشہ کی طرح اس کھیل کا پرانا کھلاڑی وہ بیسٹ ہی جیتے گا یا قوت اسکے پیچھے آکر کھڑا ہو تا مؤدب انداز میں ہاتھ باندھ گیا وہ اسکا سب سے خاص بندہ تھا پاشا کے بعد اگر وہاں کسی کا حکم مانا

جاتا تھا تو وہ یا قوت مرزا تھا م ۔۔۔؟ مختصر سا سوال کرتے وہ گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھا وہ کچھ امپورٹنٹ بات بتاتا گیا جسے سنتے ہوئے پاشا کے ماتھے پر
تیوریاں چڑھتی گئی اسے اس بندے پر طیش آنے لگا تھا جو اس سے وہ کام کروانے پر تلا ہوا تھا جو اس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں کیا تھا ایسا نہیں تھا کہ اسکے لئے وہ کام مشکل تھا بلکہ وہ مرد تھا اور مردوں والے کام کرنا پسند کرتا تھا
ٹھیک ہے۔۔ اس سے کہو۔۔ اسکا کام ہو جائے گاڈھونڈو اس لڑکی کو اور جیلانی کے حوالے کر دو۔۔۔ ” یا قوت کی بات پر وہ فورا سے راضی ہوا کیونکہ وہ صرف اسکا خاص بندہ نہیں تھا ایک اور بھی رشتہ تھا اس سے جو پاشابے کو ہر رشتے سے بڑھ کر عزیز تھا لیکن کام کے وقت وہ صرف اسکا خاص بندہ تھا

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *