Ahl e Junon By Kitab Chehra Novel20614
Ahl e Junon By Kitab Chehra
Second Marriage base | Wani Base | Rude Hero | Romantic Novel | Happy Ending
“غلطی پر غلطی مت کرو اغمازہ تنویر۔۔ورنہ اکھٹی سزا بہت بھاری ہوگی۔۔۔”اسکی سخت آواز اور گرفت پر اغمازہ کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔مگر اسکی جانب مڑنے کے بجائے اغمازہ نے پوری طاقت لگا کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی تھی۔۔
“چھوڑیں مجھے آآپ ہوتے کون ہیں مجھے سزا دینے والے۔۔”اپنی بےبسی پر اسکی جانب مڑتی چیخ پڑی۔اذلان کی آنکھوں کا رنگ یکدم بدلہ تھا۔ایک جھٹکے سے کلائی گھما کر اسکی پشت پر لگائی تھی۔۔
“پھر کل کس حق سے میرے پاس آئی تھیں۔۔اور اتنا زہر اگل کر گئیں۔۔”اسکے تیز لہجے پر اغمازہ کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔۔نچلا لب بےدردی سے دانتوں سے کچلتی بمشکل اپنے آنسو روکی ہوئی تھی۔۔اذلان کو ایک پل کےلیے اسکی حالت پر ترس آیا تھا مگر اغمازہ کی اگلی بات نے اسکا دماغ گھما دیا۔
“چلے جائیں یہاں سے ورنہ میں چیخ کر سارا کو بلا لوں گی۔۔”یعنی وہ اسے۔۔اذلان سبطین کو اپنے محرم کو دھمکی دے رہی تھی۔۔۔اسکے لبوں سے بڑا جاندار قہقہہ نکلا تھا۔۔
“صحیح ہے بلاؤ۔۔”اسے خود سے قریب کرتے معنی خیز لہجے میں بولا۔۔”میں بھی تو دیکھوں میری بیوی کتنی دلیر ہے۔۔”آہستہ سے جھکتے اپنی ناک سے اسکا رخسار چھوا تھا۔۔اغمازہ نے تڑپ کر اپنا چہرہ دور کیا۔۔
“یہ۔۔یہ کیا کررہے ہیں۔۔”
“اپنی منکوحہ سے ملنے آیا ہوں اسکے کمرے میں کوئی اعتراض ہے تمہیں۔۔”اسکی ہرنی جیسی آنکھوں میں جھانکتا ہاتھ بڑھا کر بالوں میں لگا کلپ ایک جھٹکے سے ہٹاگیا۔ایک دبی دبی چیخ اسکے لبوں سے برآمد ہوئی تھی۔سارے بال بکھر کر اسکے کندھوں پر پھیل گئے۔اذلان نے ٹھٹھک کر اسکے بالوں کی لمبائی کو دیکھا جو کمر تک آرہے تھے۔۔
“چھ۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔”اسکی گرفت میں مچلتی دبی آواز میں چیخی کیونکہ اگر سارا تک ہلکی سی آواز بھی پہنچ جاتی تو شاید وہ منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہتی۔۔
“کیوں سارا کو بلاؤ شاید وہ کچھ مدد کردے کیونکہ اسکا بھائی تو اب کوئی رعایت نہیں دے گا۔۔”اسکے لبوں پر مچلتی مسکراہٹ اور بڑھتی قربت اغمازہ کے حواس مختل کرنے لگی تھی۔۔
“میں جانتی ہوں آپ نے مجھے سارا کے کمرے سے اسی لیے نک۔۔نکلوایا ہے۔۔”تپتے رخسار پر آنسو لڑیوں کی صورت گرے تھے۔۔اذلان کے لبوں پر ایک مسکراہٹ ابھری۔۔۔ایک شیطانی مسکراہٹ۔۔
“عقلمند ہو۔۔۔”جب اذلان کی نگاہ اسکے قاتل تل پر ٹھہر گئی جسے دیکھ کر وہ اب بھی خود کو بےبس ہوتا محسوس کررہا تھا اور دوسری جانب اسکی کیفیت سے انجان اغمازہ کو اس اقرار پر اپنا وجود سن پڑتا محسوس ہوا۔۔۔کتنی پاگل تھی وہ اس شخص کی دھمکی پر کمرا ہی تبدیل کر لیا۔۔اس سے پہلے کہ وہ اسکے تل تک پہنچتا اغمازہ نے اسکی ڈھیلی پڑتی گرفت کا فائدہ اٹھاتے پوری قوت سے پرے دھکیلا۔اذلان اس حملے کےلیے تیار نہ تھا اسی لیے ایک قدم پیچھے ہٹا تھا۔۔اور متاثر کن انداز میں اسے دیکھا جو بیڈ کی دوسری جانب جا کھڑی ہوئی تھی۔شال خود پر لپیٹے خون خوار آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔اس پل وہ ایک ہرنی معلوم ہوئی تھی۔۔اذلان نے پہلی بار اسکا یہ روپ دیکھا تھا ورنہ وہ ہمیشہ چپ چپ اور سہمی ہوئی ہی ملتی تھی اسے۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕