Birqish by Kitab Chehra

Forced Marriage | Rude Hero | Romantic Urdu Novel | Happy Ending

ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﯾﮩﺎﮞ ….”ﺟﮭﭩﮑﮯ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮭﯽ
“ﺍﮮ … ﻣﯿﺮی باری ہے ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ”ﻧﺸﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍﺗﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﭘﺮ ﭼﯿﺨﯽ,اس ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺎﺭﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ حوریہ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺴﯿﭩﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ
“ﭼﮭﻮﮌ ﻣﺠﮭﮯ ….. ﺑﭽﺎﺅ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ”ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﭼﯿﺦ ﭘﮍﯼ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﯿﮏ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ.ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﺸﺮ ﺳﺎ ﺑﺮﭘﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯﺑﺴﯽ ﺳﯽ ﺑﮯﺑﺴﯽ ﺗﮭﯽ ﮈرﺍﺋﯿﻮﻧﮓ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ داؤد صاحب ﮐﻮ ﮐﺎﻝ ملانے لگا۔
“ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﮨﮯ بابا… ﮈﻧﺮ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺟﺎﺋﯿﮯ ﮔﺎ”ﺑﮭﯿﻨﭽﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﺍﯾﮏ تپتی نگاہ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺟﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﮯ ﻧﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﮍﺑﮍﺍ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﮩﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﻓﻀﺎﺀ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭ ﺍﺳﭩﺎﺭﭦ ﮐﺮﮔﯿﺎ۔اس کا رخ “زمور پیلس”کی جانب تھا۔
تم میری نفرت میں اتنا آگے نکل گئیں کہ یہ تک بھول گئیں جس سبب تم مجھ سے نفرت کرتی ہو وہی آگ اپنے گرد لگائے بیٹھیں تھی۔تمہاری اس حالت کا ذمہ دار میں ہوں ریا اور شاید خود کو کبھی معاف نہ کرسکوں”پراذیت انداز سوچتے اپنے خیالوں میں اس سے ہمکلام تھا کیونکہ اسکی حالت اس قابل نہ تھی کہ وہ کسی بھی بات کا جواب دیتی مگر پھر اسکے لبوں پر ایک تلخ مسکان بکھر گئی وہ ہوش کی دنیا میں گفتگو تو کیا اسکی موجودگی بھی برداشت نہ کرتی۔
گھر آچکا تھا چوکیدار نے اسکی گاڑی دیکھ کر جلدی سے مین گیٹ کھولا۔اسکی گاڑی تیزی سے ڈرائیو وے پر آرکی تھی۔پورے گھر میں اس وقت ملامین کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا۔خود کو پرسکون کرتا کار سے اترا اور پیچھے کی جانب کا ڈور کھولا جہاں وہ دشمنِ جاں ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی تھی۔
جھک کر اسے اٹھانے کےلیے آگے بڑھا مگر ایک پل کےلیے ہاتھ ٹھہرا تھا۔وہ اس پر تمام حقوق کے باوجود چھونے کی ہمت نہ رکھتا تھا۔بےبسی سی بےبسی تھی اپنی تمام سوچوں کو جھٹک کر اسے اپنی مضبوط باہوں میں اٹھاتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔لاؤنج میں کام کرتے ملازمین نے ٹھٹھک کر یہ منظر دیکھا تھا اور ہر کوئی اپنی جگہ حیرت میں مبتلا ہوگیا تھا۔
زمور داؤد اپنی بےہوش دلہن کو اٹھائے اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا۔کمرے میں داخل ہوکر اپنے جہازی سائز بیڈ پر کسی کانچ کی گڑیا کی مانند نظر آتی اپنی کل متاع کو احتیاط سے لٹا دیا۔لب ہلکے سے وا کیے وہ اس ساری صورتحال سے بیگانہ تھی۔
زمور داؤد نے شاید زندگی میں پہلی بار اسے اتنے نزدیک سے دیکھا تھا۔سیاہ گھنی پلکیں دودھیا رنگت سرخ لب۔۔ وہ بغیر کسی سنگھار کے اتنی مکمل تھی۔اسکے ایک ایک نقش کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتارنے لگا کیونکہ جانتا تھا اسکے ہوش میں آنے کے بعد شاید اپنے ہی کمرے سے بےدخل ہوناپڑھ سکتا تھا۔ہلکہ سا جھک کر اپنے تمام بندھ توڑتا اپنا پرتپش لمس اسکی پیشانی پر چھوڑ گیا۔
اس پاک لڑکی کو چھو کر زمور داؤد کے لب معطر ہوگئے تھے۔دل میں اٹھتے طوفان یکدم ہی تھم گئے تھے لیکن اگر حوریہ عثمان اس لمس کو محسوس کرلیتی تو شاید اگلے پل موت کو گلے لگانا پسند کرتی۔۔۔

 

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *