Jan E Bahar By Laiba Khan Novel20616
Jan E Bahar By Laiba Khan
After Marriage | Forced Marriage | Rude Hero | Romantic Urdu Novel | Complete Novel
دیکھولڑ کی اس نکاح کو سیریس لینے کی قطع ضرورت نہیں ہے تمھارے باپ کو میرے باپ سے ڈیل کرنی تھی یہی وجہ ہے کہ تم اس وقت یہاں میرے ساتھ میر انام لئے کھڑی ہو۔۔۔
ختک آمیز رویہ اور انکھوں میں بے رخی لئے وہ اس پر یہ کیسا انکشاف کر رہا تھا
ڈیل کیسی ڈیل کو نسی ڈیل ؟؟
اس شخص نے یہاں بھی اسکی ماں کا اور اسکامان چکنا چور کر ڈالا تھا وہ جو پہلی بار اس نے اس شخص کا مان رکھا اس شخص پر یقین کیا لمحہ لگا تھا سے چکنا چوڑ ہونے میں یہ سب جانتے ہیں میں کسی قسم کی بھی شادی میں انٹر سٹڈ نہیں ہوں میں ایک آزاد خیال آزاد بندہ ہوں۔۔۔
مجھے یہ قید نہیں پسند اور یہ رشتہ مجھے ایک فضول قید کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتا۔۔۔
تو تمھارے لئے بہتر ہو گا میرے سامنے کم آنا امیدیں مت لگانا اور اس رشتہ کو کچھ مت سمجھنا اس گھر میں رہو مگر یوں کہ جیسے اجنبی ۔۔۔
وہ اپنی ہی کہے جارہا تھاس نے دیکھا ہی نہیں کہ وہ کس بے یقینی کے مقام پر کھڑی تھی پتھرائی آنکھوں میں ان گنت سوال تھے
کہ اسے حیرت بھری نظروں سے دیکھتی کچھ بھی کہ نہ پائی منہ میں زبان ہے کہ نہیں خیر ہو یا نہ ہو مجھے ویسے بھی نہ تمھیں سننے کی کوئی خواہش اور نہ تم سے بات کرنے کا شوق۔۔۔ !!!
اپنا کمرہ دیکھ لو یہ میرا کمرہ ہے اور آئیندہ اپنی پوری کوشش کر نا سامنے مت آنا۔۔۔
ایڑھیوں کے بل مڑتے اس نے اپنے پیچھے کھڑی اس بت بنی لڑکی کی پشت کو دیکھا
وہ اپنی بات مکمل کر تا کمرے سے باہر نکلنے لگا مگر اچانک ہی اسے کچھ یاد ایا دروازے میں رک کر میری پسند تم جیسی لڑکی نہیں ہے میں جاں تا ہوں یہ سب جان کر جو تمھارا حال ہو گا مگر یقین جانو میں اس قدر خود غرض بندہ ہوں کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔
اور پھر وہ بنار کے بنا کچھ اور کہے باہر نکل گیا باہر کے دروازے کے کھلنے اور بند ہواہے کی آواز ائی
وہ بے اختیار لڑکھڑائی پیر ٹھنڈے بلکل منجمند سے ہو گئے اس جیسی لڑکی سے اس کی کیا مراد تھا وہ اسے کیسی لڑکی سنجھ رہا تھا
مطلب کے لیے کئے بیاہی گئے باپ کی بیٹی وہ رونا نہیں چاہتی تھی وہ اس وقت ٹوٹنا نہیں چاہتا تھی
مگر باپ کی اس بے حسی بھری حرکت نے اسکی آنکھوں میں پانی بھر ڈالا
اس شخص کے ان کردے زہر یلے الفاظوں سے اسکی انکھیں بے اختیار بھر آئیں
وہ سبز کانچ سی آنکھیں پانی سے لبالب بھر گئیں ٹھری ہوئی آنکھوں سے پانی موتیوں کی صورت بہ کر
اس کے چہرے پر موجود نقاب میں جذب ہونے لگا وہ پانی اس کے اندر چلتے اس طوفان کا گواہ تھا جس کی وجہ صرف وہ دو شخص تھے جن سے اسے اس
وقت ایک نفرت بھرا احساس محسوس ہوا تھا
کیا تم میر امان رکھو گی ؟؟
جانتا ہوں کوئی حق نہیں رکھتا اس سب کے بعد ۔
مگر ایک امید کے تحت آیا ہوں میں کیا تم یہ شادی کرو گی ؟؟؟
میں راضی ہوں امی اس لئے کہ یہ آپ کو بھی بہتر لگ رہا ہے۔۔۔
اور اسلئے کیونکہ جانتی ہوں مان ٹوٹ جائے تو کیسا محسوس ہوتا ہے !!!
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟
قبول ہے۔۔
قبول ہے۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔
ایک ایک کر کے اسے وہ دن یاد آنے لگے جس کے باعث آج وہ یہاں بیٹھی تھی
مان رکھا تھا مگر بدلے میں اس کا مان بُری طرح توڑ دیا گیا تھا
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕