Kambakhat Mohabbat By NK 

Emotional Drama | Complete Novel | Social Romantic Novel 

میں آیت سے نکاح کرنے کو تیار ہوں لیکن اس کے بعد کوئی میرے اور آیت کے بیچ نہیں آئے گا۔۔۔ ” “بہت شوق تھا مجھ سے نکاح کرنے کا؟؟ ” وہ کمرے میں آتے ہی دھاڑا تھا جبکہ آیت کا دل کانپ اٹھا تھا۔۔۔” آج تمہارے سارے ارمان پورے کرتا ہوں۔۔۔” یزدان غصے میں اس سے تمام حقوق لے لیتا ہے اسے دیکھے بنا اگلی صبح لندن چلا گیا۔۔ اور پانچ سال بعد واپس آیا جب چار سالہ بچی کو آیت کے ساتھ دیکھتے حیران رہ گیا رات ہی اذان اپنے کمرے میں گیا تو پتا چلا آیت الگ کمرے میں سوتی ہے وہ ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ کھولتا آیت کے کمرے میں داخل ہوا اور۔۔۔۔۔۔
آج اس نے پورے پانچ سال بعد پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھے تھے وہ پچھلے پانچ سال سے لندن میں تھا ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہوئے پاکستان کی فضا میں سانس لیتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نہ جانے کتنے جذبے ابھرے تھے۔۔ اسے وہ دن یاد آیا جب وہ پاکستان سے گیا تھا اور یہ یاد آتے ہی دو نیلی آنکھیں اس کے ذہن کے اسکرین پر لہرائیں اور پچھتاوے کی ایک شدید لہر اسکے وجود میں اتری۔۔۔۔۔
وہ گہری سانس لیتا اب اپنی بک کروائی گیپ میں جا بیٹھا اور اس کا رخ ملک ہاؤس کی طرف تھا۔ آدھے گھنٹے بعد گاڑی ملک ہاؤس کے خوبصورت اور بڑے گیٹ کے باہر رکی اس نے اپنا سامان پکڑا اور اب وہ گیٹ تک آیا گارڈز نے اسے دیکھا تو فورا گیٹ کھول دیا اور گھر میں داخل ہوا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک لمبے عرصے بعد اس کے جسم میں سکون چھا گیا اور انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے مگر جو سکون اپنے گھر کی چار دیواری میں ہوتا ہے ویسا سکون کہیں نہیں۔۔۔
اس کی آنکھوں میں نمی ابھر رہی تھی جیسے وہ بار بار آنکھیں صاف کیے چھپانی کوشش کر رہا تھا گہری سانس لیتے وہ آگے بڑھا اور لاونچ کے دروازے تک آیا وہ جانتا تھا کہ دروازے کے اس پار اس کی ماں ہوگی۔۔۔ جو پچھلے پانچ سالوں سے اس کا انتظار کر رہی ہوگی اس کا باپ جن کا وہ واحد سہارا تھا جن سے ناراض ہو کر وہ یہاں سے گیا تو وہ بھی ہوں گے اور وہ جانتا تھا اس کا باپ اسے دیکھتی ہی گلے سے لگائے گا۔۔۔۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر اندع داخل ہوا سارا لائونچ سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا وہاں صرف ایک ملازمہ صفائی کر رہی تھی اس کی ماں شاید اپنے کمرے میں ہو اور بابا وہ شاید اسٹڈی روم میں بیٹھے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے ہوں گے یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے پھر کسی کی نیلی آنکھیں لہرائی اور وہ کہاں ہوگی؟؟؟ اب یہ سوچ اس کے ذہن میں آئی تھی کہ کسی کی کھلکھلاتی ہنسی اسکے کانوں میں پڑی۔۔۔۔ ” ہاہا۔۔ ” پھر اس کے ساتھ ایک جانی پہچانی آواز اس نے سنی۔ ” رک جاؤ شیطان ہو گئی ہو پوری رکو مشی۔۔۔” وہ ان آوازوں کو سن رہا تھا جو سارے لاونچ میں گونج رہی تھیں۔۔۔
مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آواز کہاں سے آرہی ہے وہ حیرت سے آس پاس دیکھ رہا تھا جب اس نے کچن کے دروازے سے چار سالہ بچی کو باہر نکلتے دیکھا وہ اب سارے لاونچ میں بھاگ رہی تھی اور چند لمحوں بعد ہی وہ بھی کچن سے باہر نکلی اور اب وہ اس بچی کے پیچھے بھاگ رہی تھی اسے پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ مگر بچی کی سپیڈ تیز تھی۔۔۔ ” رک جاؤ مشی آفت کہیں کی رکو ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔” اس نے سرخ فراک پہن رکھی تھی بال ڈیلی سی چھٹیاں میں سمیت رکھے تھے اور دوپٹہ ایک کندھے سے گزر کر دوسری طرف کمر پہ باندھ رکھا تھا وہ حیرت سے دونوں کو دیکھ رہا تھا اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا یہ منظر واقعی اتنا خوبصورت تھا یا پھر اسے لگ رہا تھا؟؟؟؟ اور پھر اذان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچی بھاگتی ہوئی اس کی طرف آئی اس کے پیچھے آگئی۔۔۔۔۔۔
اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی جیسے اس سے چھپنے کی کوشش کر رہی ہو۔۔۔۔ اذان نے حیرت سے اسے دیکھا آیت بچی کو پکڑنے کے لیے اس کی طرف بھاگتی ہوئی آئی۔۔۔
مگر اچانک اس کا پاؤں کالین میں اٹکا اور اس سے پہلے وہ یزدان کے سینے پر گرتی وہ تیزی سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالی اسے سنبھال چکا تھا۔۔۔ وہ گرنے سے تو بچ گئی مگر خود کو بیلنس کرنے کے لیے اس نے یزدان کی شرٹ غیر ارادی طور پر مٹھی میں دبوچ لی اور زور سے یزدان کے سینے سے اٹھ کر ٹکرائی تو اسے احساس ہوا یہاں کوئی کھڑا تھا اس نے جیسے ہی چہرہ اٹھایا یزدان کو دیکھا تو زمین و آسمان اسکے آگے گھوم طیا۔۔۔۔۔
یزدان بے حد بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا وہ پانچ سالوں میں مزید حسین ہو چکی تھی شاید اس نے زندگی میں ایسی حسین لڑکی کہیں نہیں دیکھی ہو ماں بنے کے بعد روپ نکھر کر آیا تھا یا شاید اسے حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔چند چند لمحے یوں ہی گزرے پھر آیت کو ہی ہوش آیا۔۔۔۔ بچی جب ” مما مما۔۔۔ ” چلانے لگی مشال کی آواز سے وہ ہوش میں آئی اور تیزی سے اس سے دوری ہوتی وہاں سے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔۔۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *