Baharen Loat Aai Hain By Iffat Sehar Tahir

Genre : Social issues base | Forced Marriage | Social Romantic Novel | Digest | Complete Novel

وہ بہت لگن ہو کر پکوڑوں کا آمیز دینا نے میں مصروف تھی نظروں کی تپش نے احساس دلایا کہ کوئی

اسے دیکھنے بلکہ گھورنے میں مصروف ہے۔ اس نے بے تو جگی سے چکن کے دروازے کی طرف دیکھا
اور پھر بے ساختہ مسکرادی۔
اعیان اتم کب آئے؟
تمہیں اس سے کیا ؟ تم منگنیاں کرائی پھر و۔“ وہ سلگ کر بولا تو اسے نہیں آ نے لگی۔
منگنیاں نہیں منگنی اس نے سی کرتے ہوئے آمیزے والا باؤل فریج میں رکھا اور پالے کر سنگ میں ہاتھ دھونے لگی۔
شرم تو نہیں آ رہی اتنی ڈھٹائی سے اعتراف کرتے ہوئے۔ وہ جل کر بولا ۔
تمرین کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھ رہا ہے مسکراہٹ دباتے ہوئے دوپٹے کے پلو سے ہاتھ خشک کرتی پلیٹی۔
الشرم تو آرہی ہے مگر اب تم خود ہی پوچھ رہے ہو تو بتانا تو پڑے گا ہی اس نے

معاندانہ انداز میں کہا تو اعیان چند لمحے تیز نظروں سے اسے گھورتا رہا۔
چھالیں ۔ زیادہ رعب جھاڑو۔ زیادہ اعتراض ہے تو اپنے ماموں جان سے پوچھ میرا کوئی قصور نہیں ہے۔

اس سے زیادہ وہ اس کے رعب میں نہیں آئی تھی فوراہی نجیدہ ہونے لگی تو اعیان ڈھیلا پڑ گیا۔

پھر بھی تائی امیر ے بغیر تم نے منگنی کرائی ۔ مجھے بہت افسوس ہورہا ہے۔

وہ تملین ہوا اور اس بات کا قلق تو تعزین کو بھی بہت تھا۔ اس کا سب سے اچھا کزن اور بہترین

دوست اس کی منگنی میں شریک نہیں تھا۔ وہ پاکستان ہی میں تھا جب ترین کے لیے رشتہ آیا۔

ابھی بات کے بڑھی بھی تھی کہ اسے دو ہفتوں کے لیے اٹلی جانا پڑ گیا۔

ادھر ابو نے بالا ہی بالاٹ کے کے بارے میں معلومات کرا کے ہاں کر دی
اور دو دن بعد ہی مشنی
اتنے ہے تو نہیں ہو۔ حالات و معلوم ہی ہیں کیا مشی سے بھی رابطہ نہیں تھا تمہارا ؟
ترین نے نارمل انداز میں پوچھا تو وہ چین سے باہر نکل گیا۔ تعزین بھی اس کے پیچھے چل دی۔
ہاں بتایا تھا اس نے بلکہ امی نے بھی مگر میں تو تمہارے خون کا انتظار کر رہاتھا ۔ وہ ساتھ چلتے ہوئے خفگی سے کہ رہاتھا۔

Download Link 

Direct Download

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *