Dil E Dushman By Amreen Riaz

Army based, gangster based, Innocent herione based, Romantic novel, secret agent based

میرے پاس آپکی نیند کو بھگانے کا طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رُک کر بولا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔”عدن متوجہ ہوئی جو زیرلب مُسکرا رہا تھا۔
“نیند کو بھگانے کے لیے رومینس اور رومانٹک گفتگو کافی خاصیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔”بڑا پُرحدت انداز تھا

اُسکی نیند کیا اُسکا دماغ بھی بھک سے اُڑ گیا تھا وہ سُرخ ہوتی جانے لگی مگر اُسکا ہاتھ اُُسکی گرفت میں آ گیا تھا۔
“ہے مسز اقرب،ایسے تو نہ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”کیا دلکش التجا تھی دُرعدن کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
“اگر تُم اجازت دو تو کیا رُخصتی کا کہہ دُوں،ہمیں اب ایک ہو جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”دھیمے لہجے کی فرمائش تھی

عدن کو پتہ بھی نہ لگا کب اُس نے آہستہ سے اسے اپنے اتنے قریب کیا تھا کہ دُرعدن کی پُشت اُس کے سینے سے جا لگی تھی۔
“مُجھے لگتا ہے مجھے محبت ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مدھم سرگوشی اُس کے کان کے

پاس اُبھری تھی عدن تو بلکل ساکت تھی جیسے جان ہی نہ رہی تھی۔
“پلیز مکمل کر دو۔۔۔۔۔۔۔”پُر تپش لہجہ اُس کے رُخسار گرم کر گیا وہ اُس کی گرفت سے

نکلتی بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آ کر لمبے لمبے سانس لیتی بیڈ پر گری تھی۔

ایک تو یار تم سوتی بہت ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“کہاں سوتی ہوں اقرب۔۔۔…؟وہ لیٹتے لیٹتے اُٹھ بیٹھی۔
“رات کو،شاید تُمہیں کسی نے بتایا نہیں رات سونے کے لیے تھوڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔”اقرب نے اُسے اپنے قریب کیا تھا۔
“شاید آپکو علم نہیں کہ رات سونے کے لیے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اُسے دُور ہٹانے لگی۔
“وہ تو شادی سے پہلے ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔”اقرب نے آنکھ دبائی تھی وہ سُرخ ہوتی آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ گئی۔
“اچھا ایک بات تو بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔”
“تُمہیں بچے کیسے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ آنکھوں سے بازو ہٹا کر اُسے دیکھنے لگی جو پہلے کی برعکس کُچھ سنجیدہ تھا۔
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔…..”
“میرے خیال میں ہمیں بچے کے متعلق اب سوچنا چاہئیے۔۔…”اقرب نے غور سے اُسکے شرماتے رُوپ کو دیکھا تھا۔
“سو جائیں آپ۔۔۔۔۔.”
“نہیں پہلے بتاو اگر تم ابھی بچوں کی زمعےداری میں نہیں پڑنا چاہتی تو ہم ویٹ کر لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔

”عدن نے اقرب کی بات پر سر نفی میں ہلاتے ہوئے اپنا سر اُس کے سینے میں چُھپایا تھا۔
“مجھے بچے بہت پسند ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔”
“کہ۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے مُسکراتی آنکھوں سے دیکھا۔
“کہ اب آپ سو جائیں۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے کہنے پر اقرب ہنسا تھا۔
“آپ کے اس اقرار کے بعد اب نیند تو نہیں آئے گی اس لیے اب آپکو میرے موڈ کا خیال کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔”ا

قرب نے لائٹ آف کر کے اُس کے گرد اپنا حصار تنگ کیا تھا۔

Download Link

Direct Download

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *