Millain Gy O Yara By Selfless Writer

  Army based  | love stories  | mafia based

امی ! امی! یہ کیا ہو رہا ہے ؟”
اس نے نم آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے ارد گرد دیکھ کر سوال کیا۔
تمھاری بولی لگ رہی ہے تمھیں بیچ رہی ہوں۔ میں اپنے بچوں کی پرورش کروں یا تمھاری ؟

شروع دن سے تم میرے سکون کا کانٹا بنی رہی ہو۔ اب تمھیں نکال پھینکنا ہے

تو کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے ؟ آخر کو تیرہ سال تمھیں پالا پوسا ہے ۔ ”
الفاظ تھے یا کھولتا ہوا سیسہ جو اس کے کانوں میں انڈھیلا گیا۔
می مگر ۔۔۔ مت کہو مجھے امی۔ نہیں ہوں میں تمھاری ماں سمجھیں تم .

” وہ اس کے کندھوں سے نیچے تک آتے بالوں کو اپنی گرفت میں لیکر چیخی تھی۔

اس نے نم آنکھیں لیے اپنی سوتیلی ماں کو دیکھا جو اس کے وجود کی بولی لگا بیٹھی تھی۔
تیس لاکھ!”
ایک بار پھر قیمت بڑھی تھی اس نوخیز حسن کی۔

اب خاموش تھی شاید تیس لاکھ میں وہ پکنے والی تھی۔ وہ آنکھیں مجھے شاید حقیقت سے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس کے بال ہنوز اسکی ماں کی سخت گرفت میں تھے۔
تو پھر یہ حسن تیس لاکھ میں بک رہا ہے ۔ ” ایک آواز گونجی تھی۔
وہ آنکھیں بند کیے نفی میں سر بلانے جا رہی تھی۔ آنسوں رواں تھے دل خوف سے کانپ رہا تھا۔
الپچاس لاکھ!”

ایک گرجدار آواز گونجی خوف سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑی۔

اس نے ہراساں نظروں سے اس جانب دیکھا جہاں سے وہ مغرور چال چلتا اُس کی طرف ہی آرہا تھا۔
یہ حسن اب میرا ہوا۔ صرف میرا۔ ”
وہ مغرور لہجے میں بولتا اسے خرید چکا تھا۔
نن نہیں امی پلیز بچا لیں ۔ ”
وہ نفی میں سر ہلاتی اپنی ماں کے پاؤں میں گر پڑی۔

Download Link

Direct Download

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *