Dushman e Jaan by Sumyia Baloch

Rude Hero | Forced Marriage | Family Conflict | Romantic Novel

“آآآپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں نمیر۔۔؟؟؟

وہ جب بیڈ روم میں اُس شخص کے خوف سے کانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو سامنے صوفے پر اُسے عیجب نظروں سے دیکھتے پاکر وہ لرزی۔۔۔
“آپ کچھ کہتے کیوں نہیں۔۔؟؟
وہ وہی کھڑی اُسے خوفزدگی سے دیکھتی ڈر کر پوچھنے لگی وہ آگے بڑھنا بلکل بھی نہیں چاہتی تھی کیونکہ سامنے بیٹھے شخص نے کل رات اُسے اچھے سے سمجھا دیا تھا کہ وہ انسان کے روپ میں ایک بھیڑیا ہے۔۔
اب اُسے ہول اٹھنے لگے تھے کیونکہ اُسکی خاموش سرد نگاہوں سے وہ اپنی لرزتی ٹانگوں سے جیسے جان نکلتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔۔
“مجھ سے اجازت لے کر نکلی تھی کیا تُم باہر ہاں بیوی۔۔؟؟
عیجب سوال اور اُوپر سے عیجب انداز سے دیکھنا جیسے مرجان کو مار دینے کے لیے کافی تھا اور وہ شخص اُسکے فیورٹ سیاہ لباس میں ملبوس اپنے خوبصورت پرسنالٹی کے باوجود بھی اُسے اِس وقت ایک بدصورت انسان سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
“میں نے کیا پوچھا ہے تُم سے بیوی ہاں جواب دو بولو کیا میں نے تُمہیں بیڈ روم سے باہر قدم رکھنے کی اجازت دی تھی ہاں جو تُم باہر نکلی بولو کیوں گئی مجھ سے پوچھے بغیر۔۔۔؟؟
غصے سے پاگل ہوتا وہ جھٹکے سے صوفے سے اٹھا اور اُسکے روبرو کھڑے ہو کر سختی سے اُسکی نازک گردن کو دبوچ کر دھار اٹھا اور وہ اپنی گردن پے دباؤ محسوس کرتی خود کو اُس جنگلی سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی آنکھیں جیسے باہر نکلنے کو بے تاب تھی جبکہ چہرہ اتنی مضبوط پکڑ پر سرخ ہو رہا تھا۔۔
“میں آپ کیلئے نن۔ناشتہ بنانے کے لیے گئی تھی نن۔نمیر۔۔!!
اٹک اٹک کر وہ بمشکل بولی کیونکہ گردن پر سخت کھنچاؤ کی وجہ سے وہ بول بھی مشکل سے رہی تھی اور وہ ظالم بنا اُسے بے گناہ کو سزا دے رہا تھا۔۔
“ناشتہ بنانے کے بہانے کہیں اپنے اُس نامراد عاشق سے تو ملنے نہیں گئی تھی بیوی بھولی مت بنو سمجھی اچھے سے جانتا ہوں تم دونوں کے تعلق کو یہ جو مجھ سے شادی کی رٹ لگائی ہوئی تھی نا تّم نے وہ سب اُسے جلانے کے لئے تھا کوئی مجھ سے محبت نہیں تھا۔۔!!
سختی سے اُسے اسکے جبڑے سے پکڑ کر غرایا وہ نفرت اور انتقام کی آگ میں اتنا اندھا ہو چکا تھا یہ تک بھول چکا تھا کہ سامنے اُسکی طرح طاقتور مرد نہیں بلکہ ایک نازک لڑکی کھڑی ہے جو اُسکی زیادتیوں کو خاموشی سے سہہ رہی ہے۔۔
“نن۔نہیں آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں میں نہیں جانتی آپ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں میں نے صرف آپ کو چاہا ہے۔۔!!
وہ اِس گھٹیا الزام پر شدت سے آنسوؤں بہاتی سرمئی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر چیخ کر بولی۔۔
“بیوی تُم پر الزام نہیں لگا رہا جو سچ ہے وہی کہہ رہا ہوں پتہ نہیں رات کے وقت پڑھائی کے بہانے تُم دونوں کیا گل کھلاتے تھے۔۔!!
حقارت سے اُسے دیکھتا نفرت سے بولا تو مرجان آج شادی کے پانچویں دن اُس انسان کا گھٹیا بھیانک چہرہ دیکھ کر کراہت محسوس کر رہی تھی۔۔
“چچ چی افسوس اب میرے پاس ہو کر وہ بہانے نہیں کر سکتی تُم بیوی جو بے خوفی سے اپنے ماں باپ کے سامنے کیا کرتی تھی۔۔!!
افسوس کرتے ہوئے وہ معنی خیزی سے مرجان کے سرخ چہرے کی طرف دیکھنے لگا جو غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
“آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ہمارے بچے کا ہی خیال کر لے جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں ہے۔۔!!
وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی رو کر بولی۔۔۔
صبح جب اچانک سے اُسکی طبیعت خراب ہوئیں تو وہ روم سے جب باہر نکلی اور اچانک سے سر چکرانے کی وجہ سے وہ واشروم کی جانب بھاگی پھر جب زیادہ متلی سے حالت سخت بدحال ہوئی تو مجبوراً ماما کے ساتھ اُسے ہاسپٹل جانا پڑا اور جو خبر اسنے ڈاکٹر کے منہ سے سنی اسے سن کر ساکت رہ گئی تھی۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد خوشی سے آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے جہنیں دیکھ کر اسکی ماں نے پوچھا تو انہیں یہ کہہ کر مطمئن کر گئی کہ یہ خوشی کی وجہ سے بہہ رہے ہیں لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ آنسو کیوں بہے تھے کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی شاید بچے کا سن کر نمیر بدل جائے لیکن یہ اسکی غلط فہمی تھی۔۔
“کونسا بچہ کس کا بچہ بیوی اور ابھی صرف پانچ دن ہوئے ہیں ہماری شادی کو صرف پانچ دن تو کہاں سے آگیا تمہاری کوکھ میں میرا بچہ ہاں بولو جواب دو۔۔!!
وہ شدت سے دھاڑتے ہوئے اُسے سختی سے شانوں سے پکڑ کر نفرت سے اسے دیکھنے لگا جو اسکی دھار پر سخت گھبرا کر اسے نم آنکھوں سے بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جسے اتنا چاہتی تھی وہی آج اُسے اتنی بڑی گالی دے گا بلکہ اس لمحے مقابل کھڑا شخص اسے ایک پڑھے لکھے سے زیادہ جاہل لگ رہا تھا بلکہ جاہل سے بھی بدتر لگ رہا تھا۔۔۔
“نمیر آپ جاہلوں جیسی باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ اس پاک پروردگار کی دی ہوئی نعمت کو ٹھکرانا چاہتے ہیں۔۔!!

وہ رو کر بولی تو نمیر نے جھٹکے سے اسے پیچھے کیا تو وہ خود کو سنبھلتی ہوئی پیچھے جا کر بیڈ پر جا کر گری لیکن وہ خود کا تو نقصان کر سکتی تھی لیکن اپنے بچے کو کچھ بھی نہیں ہونے دے سکتی تھی اس منہ کے بل گرنے سے پہلے وہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ چکی تھی۔۔

Download Link

Direct Download

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *