Rude Hero | Forced Marriage | Family Conflict | Romantic Novel
“آآآپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں نمیر۔۔؟؟؟
وہ جب بیڈ روم میں اُس شخص کے خوف سے کانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو سامنے صوفے پر اُسے عیجب نظروں سے دیکھتے پاکر وہ لرزی۔۔۔
“آپ کچھ کہتے کیوں نہیں۔۔؟؟
وہ وہی کھڑی اُسے خوفزدگی سے دیکھتی ڈر کر پوچھنے لگی وہ آگے بڑھنا بلکل بھی نہیں چاہتی تھی کیونکہ سامنے بیٹھے شخص نے کل رات اُسے اچھے سے سمجھا دیا تھا کہ وہ انسان کے روپ میں ایک بھیڑیا ہے۔۔
اب اُسے ہول اٹھنے لگے تھے کیونکہ اُسکی خاموش سرد نگاہوں سے وہ اپنی لرزتی ٹانگوں سے جیسے جان نکلتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔۔
“مجھ سے اجازت لے کر نکلی تھی کیا تُم باہر ہاں بیوی۔۔؟؟
عیجب سوال اور اُوپر سے عیجب انداز سے دیکھنا جیسے مرجان کو مار دینے کے لیے کافی تھا اور وہ شخص اُسکے فیورٹ سیاہ لباس میں ملبوس اپنے خوبصورت پرسنالٹی کے باوجود بھی اُسے اِس وقت ایک بدصورت انسان سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
“میں نے کیا پوچھا ہے تُم سے بیوی ہاں جواب دو بولو کیا میں نے تُمہیں بیڈ روم سے باہر قدم رکھنے کی اجازت دی تھی ہاں جو تُم باہر نکلی بولو کیوں گئی مجھ سے پوچھے بغیر۔۔۔؟؟
غصے سے پاگل ہوتا وہ جھٹکے سے صوفے سے اٹھا اور اُسکے روبرو کھڑے ہو کر سختی سے اُسکی نازک گردن کو دبوچ کر دھار اٹھا اور وہ اپنی گردن پے دباؤ محسوس کرتی خود کو اُس جنگلی سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی آنکھیں جیسے باہر نکلنے کو بے تاب تھی جبکہ چہرہ اتنی مضبوط پکڑ پر سرخ ہو رہا تھا۔۔
“میں آپ کیلئے نن۔ناشتہ بنانے کے لیے گئی تھی نن۔نمیر۔۔!!
اٹک اٹک کر وہ بمشکل بولی کیونکہ گردن پر سخت کھنچاؤ کی وجہ سے وہ بول بھی مشکل سے رہی تھی اور وہ ظالم بنا اُسے بے گناہ کو سزا دے رہا تھا۔۔
“ناشتہ بنانے کے بہانے کہیں اپنے اُس نامراد عاشق سے تو ملنے نہیں گئی تھی بیوی بھولی مت بنو سمجھی اچھے سے جانتا ہوں تم دونوں کے تعلق کو یہ جو مجھ سے شادی کی رٹ لگائی ہوئی تھی نا تّم نے وہ سب اُسے جلانے کے لئے تھا کوئی مجھ سے محبت نہیں تھا۔۔!!
سختی سے اُسے اسکے جبڑے سے پکڑ کر غرایا وہ نفرت اور انتقام کی آگ میں اتنا اندھا ہو چکا تھا یہ تک بھول چکا تھا کہ سامنے اُسکی طرح طاقتور مرد نہیں بلکہ ایک نازک لڑکی کھڑی ہے جو اُسکی زیادتیوں کو خاموشی سے سہہ رہی ہے۔۔
“نن۔نہیں آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں میں نہیں جانتی آپ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں میں نے صرف آپ کو چاہا ہے۔۔!!
وہ اِس گھٹیا الزام پر شدت سے آنسوؤں بہاتی سرمئی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر چیخ کر بولی۔۔
“بیوی تُم پر الزام نہیں لگا رہا جو سچ ہے وہی کہہ رہا ہوں پتہ نہیں رات کے وقت پڑھائی کے بہانے تُم دونوں کیا گل کھلاتے تھے۔۔!!
حقارت سے اُسے دیکھتا نفرت سے بولا تو مرجان آج شادی کے پانچویں دن اُس انسان کا گھٹیا بھیانک چہرہ دیکھ کر کراہت محسوس کر رہی تھی۔۔
“چچ چی افسوس اب میرے پاس ہو کر وہ بہانے نہیں کر سکتی تُم بیوی جو بے خوفی سے اپنے ماں باپ کے سامنے کیا کرتی تھی۔۔!!
افسوس کرتے ہوئے وہ معنی خیزی سے مرجان کے سرخ چہرے کی طرف دیکھنے لگا جو غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
“آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ہمارے بچے کا ہی خیال کر لے جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں ہے۔۔!!
وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی رو کر بولی۔۔۔
صبح جب اچانک سے اُسکی طبیعت خراب ہوئیں تو وہ روم سے جب باہر نکلی اور اچانک سے سر چکرانے کی وجہ سے وہ واشروم کی جانب بھاگی پھر جب زیادہ متلی سے حالت سخت بدحال ہوئی تو مجبوراً ماما کے ساتھ اُسے ہاسپٹل جانا پڑا اور جو خبر اسنے ڈاکٹر کے منہ سے سنی اسے سن کر ساکت رہ گئی تھی۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد خوشی سے آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے جہنیں دیکھ کر اسکی ماں نے پوچھا تو انہیں یہ کہہ کر مطمئن کر گئی کہ یہ خوشی کی وجہ سے بہہ رہے ہیں لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ آنسو کیوں بہے تھے کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی شاید بچے کا سن کر نمیر بدل جائے لیکن یہ اسکی غلط فہمی تھی۔۔
“کونسا بچہ کس کا بچہ بیوی اور ابھی صرف پانچ دن ہوئے ہیں ہماری شادی کو صرف پانچ دن تو کہاں سے آگیا تمہاری کوکھ میں میرا بچہ ہاں بولو جواب دو۔۔!!
وہ شدت سے دھاڑتے ہوئے اُسے سختی سے شانوں سے پکڑ کر نفرت سے اسے دیکھنے لگا جو اسکی دھار پر سخت گھبرا کر اسے نم آنکھوں سے بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جسے اتنا چاہتی تھی وہی آج اُسے اتنی بڑی گالی دے گا بلکہ اس لمحے مقابل کھڑا شخص اسے ایک پڑھے لکھے سے زیادہ جاہل لگ رہا تھا بلکہ جاہل سے بھی بدتر لگ رہا تھا۔۔۔
“نمیر آپ جاہلوں جیسی باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ اس پاک پروردگار کی دی ہوئی نعمت کو ٹھکرانا چاہتے ہیں۔۔!!
وہ رو کر بولی تو نمیر نے جھٹکے سے اسے پیچھے کیا تو وہ خود کو سنبھلتی ہوئی پیچھے جا کر بیڈ پر جا کر گری لیکن وہ خود کا تو نقصان کر سکتی تھی لیکن اپنے بچے کو کچھ بھی نہیں ہونے دے سکتی تھی اس منہ کے بل گرنے سے پہلے وہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھ چکی تھی۔۔
ازکی نے صرف دوستوں کے کہنے پر حمدان سہگل کو چھیڑنے کے لیے بیوی کی فکر نہ ہونے کا شکوہ کیا تھا، مگر اسے کیا خبر تھی کہ ایس پی حمدان اس بات کو دل پر لے بیٹھے گا۔ رات کے اندھیرے میں اچانک اپنے کمرے میں حمدان کو دیکھ کر ازکی کے اوسان خطا ہو گئے، جبکہ وہ اپنی بیوی کو منانے کے لیے اتنی دور آنے پر بھی بالکل شرمندہ نہیں تھا۔ ازکی نے اسے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی تو حمدان نے الٹا اس کے چاروں بھائیوں کو بلا کر لانے کا چیلنج دے دیا۔ اب ایک طرف ازکی کے غصے کی انتہا تھی اور دوسری طرف حمدان کی بےفکری، جس نے اس مذاق کو حقیقت میں بدلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
یہ کہانی محبت، دھوکے اور جدائی کے بعد ہونے والی ایک ایسی ملاقات کے گرد گھومتی ہے جو ارمغان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔ آرزو اور ارمغان نے خاندان کی مخالفت کے باوجود شادی کی، مگر ارمغان کی ماں نے سازش کرکے آرزو کو جعلی طلاق کے کاغذات دے دیے، جس کے بعد وہ دل شکستہ ہو کر شاہ مینشن چھوڑ گئی۔ ارمغان کو حقیقت سے بے خبر رکھ کر نتائشہ سے شادی کروا دی گئی، لیکن برسوں بعد ہسپتال میں اچانک آرزو کی آواز سن کر اس کے قدم وہیں رک گئے۔ آرزو کی پکار نے اس کے دل میں دفن تمام جذبات دوبارہ زندہ کر دیے اور وہ نتائشہ کو وہیں چھوڑ کر لیبر روم کی طرف بھاگ گیا۔ جب سالوں بعد دونوں ایک دوسرے کے سامنے آئے تو ان کے درمیان موجود خاموشی میں بے شمار سوالات چھپے ہوئے تھے، جبکہ ایک ننھے وجود کی آمد نے ان کی کہانی کو ایک نئے اور حیران کن موڑ پر لا کھڑا کیا۔
یہ کہانی رب پر یقین، صبر اور دعا کی طاقت کو خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہے، جہاں مشکل حالات میں بھی اللہ سے مدد مانگنے اور اس پر بھروسہ رکھنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ بچپن کے نکاح، عمر کے فرق اور خاندانی رشتوں کے درمیان پروان چڑھنے والی محبت کو جذباتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی میں ایک فوجی کی جانب سے وطن کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگانے، فرض نبھانے اور قربانی دینے کے جذبے کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا، ہمدردی، وفاداری اور اعتماد قائم رکھنا، جبکہ میاں بیوی کے درمیان بے لوث محبت اور مضبوط رشتے کو خوبصورت انداز میں دکھایا گیا ہے۔
ظاہری شکل و صورت سے بڑھ کر انسان کے دل اور کردار کو اہمیت دینے کی خوبصورت کہانی۔ زیرک خان کی تنہائی، لوگوں کی نفرت اور اس کے منفرد حلیے کی وجہ سے برداشت کیے گئے طعنوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ مہر گل کا اسے دوسروں سے مختلف نہیں بلکہ ایک عام انسان سمجھنا اس کی زندگی میں امید کی پہلی کرن بنتا ہے۔ یہ کہانی قبولیت، انسانیت اور بے غرض محبت کا پیغام دیتی ہے، جہاں ایک شخص کی محبت اور سمجھ برسوں کی تنہائی کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہے۔
ایک معصوم اور محنتی لڑکی کی جذباتی زندگی کی کہانی، جہاں ایک معمولی سی غلطی اسے لوگوں کی سخت باتوں کا سامنا کرواتی ہے۔ ایک اجنبی کا اس کی عزت کے لیے کھڑا ہونا اس کی زندگی میں ایک خوبصورت تبدیلی کی شروعات بنتا ہے۔ ستارہ کی سادگی، خاموش آنسو اور اظمیر کی بے لوث حفاظت دل کو چھو لینے والے جذبات پیدا کرتی ہے۔ آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی قربت، اعتماد اور خاموش محبت کہانی کو مزید خوبصورت بناتی ہے، جہاں ایک ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا ملتا ہے اور خوشی ایک ایسے شخص کے روپ میں سامنے آتی ہے جس کا ستارہ نے شاید کبھی انتظار بھی نہیں کیا تھا۔
ایک ایسی محبت کی کہانی جہاں رشتہ محبت سے نہیں بلکہ تلخی اور غلط فہمیوں سے شروع ہوتا ہے۔ سخت مزاج شوہر، چھپی ہوئی شادی اور یونیورسٹی میں بے عزتی کے درمیان ایک معصوم لڑکی کی جذباتی آزمائش دکھائی گئی ہے۔ مسلسل ذہنی دباؤ اور بے آرامی کے باعث ہونے والا صدمہ کہانی کو ایک انتہائی دردناک موڑ دیتا ہے۔ ماہم کی ٹوٹی ہوئی امیدیں، حمدان کا غصہ اور بعد میں اپنی غلطیوں کا احساس اس داستان کو مزید جذباتی بناتا ہے۔ محبت، پچھتاوے، قربانی اور خود احتسابی کے ساتھ یہ کہانی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ محبت میں بدل سکتا ہے؟
محبت میں ملنے والی بے وفائی اور دل توڑ دینے والا صدمہ، اولاد کی خواہش میں رشتوں کی قربانی، ایک عورت کی عزت اور خودداری کی جنگ، شوہر کی دوسری شادی اور سسرال کے دباؤ کی تلخ حقیقت، تنہائی میں ماں بننے والی سونیا کی درد بھری زندگی، محبت کے نام پر کیے گئے وعدوں کا ٹوٹ جانا، جدائی کے بعد اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کی جدوجہد، اور ایسے فیصلے جو رشتوں کی پوری دنیا بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
محبت، جذبات اور رشتوں کی خوبصورت کہانی
غلط فہمیوں اور جذباتی کشمکش کی عکاسی
محبت میں قربانی اور وفاداری کا امتحان
ہیرو کی محبت، حسد اور پوزیسیو نیس
خاندانی دباؤ اور رشتوں کے پیچیدہ مسائل
خود احتسابی اور حقیقت کو سمجھنے کا سفر
سچی محبت کی طاقت اور رشتوں کی اہمیت
پانچ سال کی جدائی کے بعد دوبارہ ملنے والے دو ایسے دل، جن کے درمیان محبت بھی ہے اور دشمنی بھی۔
خاندانوں کی دشمنی، بدلے کی آگ اور ایک ایسا رشتہ جو نفرت کے باوجود دل سے ختم نہیں ہو پاتا۔
کیا حداد کی نفرت کے پیچھے چھپی محبت عترت کو کبھی نظر آ سکے گی؟
شادی کے بعد دشمنوں کی سازشیں بھی ان کی محبت میں کوئی دراڑ نہیں ڈال پاتیں۔
ہر مشکل اور ہر سازش کے باوجود دونوں کا رشتہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
برسوں بعد ملنے والی محبت، جس کے درمیان غلط فہمیاں نہیں بلکہ حالات کی دیوار کھڑی تھی۔
ایک طرف پرانا عشق، دوسری طرف اپنی عزت، تعلیم اور مستقبل کو بچانے کی جنگ۔
کیا حورین اپنے ماضی کی محبت کو دوبارہ موقع دے پائے گی یا اپنے مستقبل کو چن لے گی؟