- Age Difference
- Army Based
- Cheat Based
- Class conflict
- Cousin Marriage Based
- Crime Thriller
- Digest Novel
- Drugs Based
- Family Rivelary Based
- Fantasy Novels
- Forced Marriage Based
- Friendship Based
- Gaddi Nasheen
- Gangster Based
- hacking
- Halala Based
- Haveli based novels
- Hidden Nikah Based
- Inspirational Fiction
- Jageer Dar Based
- Journalist Based
- Khoon Baha Based
- Khubsurat Muhabbat ki Kahani
- kidnapping Based
- Love Story Based
- Love Triangle
- Murder Mystery
- Mystery
- Past Story Based
- Politician Based
- Revenge Based
- Revenge Based Novels
- Robotics Fiction
- Romantic Fiction
- Romantic Urdu Novel
- Rude Hero Based
- Rural to Urban Transformation
- scam
- Science Fiction Based
- Second Marriage Based
- Social Engineering
- Social issues Based
- Step Brothers Rivelry
- Suspense Thriller
- Under Cover Agent
- University life
- Village Based
- Women’s Empowerment
Wo Lrki Jo Sb Se Alag Hai By Ayesha Zulfiqar
Joint Family System Based | Friendship Based | Social Romantic Novel
روحاء… آپ پلیز ذرا میرے آفس آئیں گی ؟؟؟ اس نے کچھ دیر بعد روحاء کو ٹیکسٹ کیا تھا, وہ اپنا دوپٹہ سنبھالتی ہوئی اس کے آفس چلی آئی
“جی سر…. ؟؟؟” وہ کھڑی تھی
“روحاء بیٹھ جائیں… “
“آج کے بعد آپ مجھے مروان کہہ سکتی ہیں… آفٹر آل اب میں آپ کا ماسٹر جی نہیں ہوں” وہ بولا
“سر آپ ہمیشہ میرے ماسٹر جی رہیں گے” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
“روحاء مجھے آپ سے ایک پرسنل سی بات کرنی ہے, میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ بات آپ کی بجاۓ آپ کے والدین سے کرنی چاہئے اور میں ان سے بھی لازمی کروں گا, بس مجھے آپ کی مرضی جاننی ہے روحاء… ” وہ کہنا شروع ہوا, روحاء ذرا سا ٹھنکی تھی
“میں اگلے مہینے پورے چھبیس سال کا ہو جاؤں گا… میں مانتا ہوں کہ مجھ میں بہت ساری خامیاں ہیں لیکن… ان تمام ظاہری خامیوں سے قطع نظر… ” وہ کہتے ہوئے رکا
“میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں” وہ کہہ گیا تھا, روحاء فوراً سے کچھ بول نہیں سکی تھی
“میرے پاس ایک اچھی جاب ہے روحاء, شہرت ہے, دولت بھی ہے… فیملی بیک گراؤنڈ بھی اچھا ہے… اگر آپ کو کوئی اعتراض نا ہو تو میں اپنے گھر والوں کو آپ کی طرف بھیج دوں گا” وہ بولا
“دیکھیں سر…. میں کسی بھی بارے میں اتنی جلدی کوئی راۓ قائم نہیں کر سکتی, میری راۓ, میرے امی ابو کی راۓ کے ساتھ ہی مکمل ہو گی” وہ دھیرے سے بولی تھی
