Hum Apne Tarz Ke Jogi Hain by Alia Hira

Sanwali heroine | Handsome hero| Arrange Marriage | After marriage | Rude hero | Innocent heroine

” میں شادی کرنا چاہتا ہوں” حملہ بالکل اچانک ہوا تھا اور وہ کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی۔

” کوئی رکاوٹ تو نہیں ہے “۔ اپنے دل کو سنبھالا سمجھایا کے سامنے بیٹھے شخص سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔

” تمہاری اجازت درکار تھی ۔ اس کا لہجہ سنجیدہ تھا وہ چونک گئی۔ شاید مذاق کر رہا ہو۔

” میری اجازت آپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ہمارے درمیان کوئی ایسا ناتا بھی نہیں ہے “۔

“بہر حال تم میری پہلی بیوی ہو”۔ وہ اس کا جائزہ لے رہا تھا اس کے برداشت کی صبر کی حد د یکھنا چاہتا تھا۔

کل کو تم مجھے عدالت میں بھی گھسیٹ سکتی ہو”۔ (میں نے تو کبھی اپ کو ضمیر کی عدالت میں کھڑا نہیں کیا۔ کسی دوسری عدالت میں کیا)

” میں تحریری بھی اور زبانی بھی اپ کو اجازت دیتی ہوں۔ لیکن صرف ایک بات کا خیال رکھیے گا مجھے طلاق ۔۔۔۔ مت دیجئے گا “۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *