Chalo Wafa Ke Dais Chaltye Hain By Fareeha Mirza

Army Based | Secret Agent Base | Crime  fiction |  friendship base |  love and loyalty | Romantic Novel

میں سمجھا تھا تم عام لڑکیوں جیسی نہیں ہو گی۔۔۔ یہ میری بھول تھی۔ مجھے۔۔۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ میں نے تم جیسی لڑکی سے محبت کی ۔۔۔ ” وہ اسے حقارت سے دیکھتا ہو اپھنکارا۔
” مجھ جیسی سے کیا مراد ہے آپ کی ؟” اس بار وہ چلائی تھی۔
یہ تم خود بہتر جانتی ہو۔ ” وہ سلگتے ہوئے لہجے میں بولا۔
تو پھر آپ ہوتے کون ہیں میری ذات پر انگلی اٹھانے والے ۔ ” اس بار وہ بھی چلا اٹھی تھی۔ محبت اپنی جگہ لیکن وہ اپنی ذات کی تذلیل کیسے برداشت کر لیتی۔
” میں کون ہوتا ہوں ؟” اس نے دھیمے سے جیسے خود سے پوچھا تھا۔
میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی تم سے محبت کرنا۔۔۔” میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی آپ سے عشق کرنا۔۔۔ ” وہ اس کے انداز میں بولی۔ بھیگی پلکیں اٹھا کر سامنے دیکھا۔ لمحوں کے لیے وہ کچھ بول نہ سکا۔
” عشق ؟۔۔۔ نا ؟ ۔۔۔ مائے فٹ۔۔۔ مجھے یقین نہیں آتا تم اتنا بڑا جھوٹ بول سکتی ہو۔ ” وہ اس وقت دل کی نہیں دماغ کی سن رہا تھا۔ وہ جو کچھ اس نے دیکھا تھا وہ اس کے ذہن کے پردے سے ہٹ ہی نہیں رہا

” میں جھوٹ نہیں بول رہی ۔۔۔ ” اس نے بے بسی سے کہا۔
سچ بھی نہیں بول رہی ۔۔۔ ” اس نے کٹھور لہجے میں کہا۔
میں قسم کھاتی ہوں۔۔۔ ” وہ رو پڑی تھی۔ قسم جھوٹے کھاتے ہیں۔۔۔ ” وہ نہیں پگھلا۔
” میں نے صرف آپ سے محبت کی ہے۔۔۔ ” اس بار وہ بے بسی سے کہہ گئی۔
اب تک یہ دعویٰ اور کتنوں کے سامنے کر چکی ہو۔۔۔ اور کتنوں کو محبت کے جال میں پھانس چکی ہو ؟” وہ جھتی نظروں سے اسے دیکھتا ہو ابولا۔
” آپ مجھ پر بہتان لگار ۔ پر بہتان لگا رہے ہیں۔۔۔ میں ایسی لڑکی نے لڑکی نہیں ہوں ۔۔۔ ” اسے آج اس شخص کے سامنے اپنی ذات کی، اپنے کردار کی صفائی دینی پڑرہی تھی جسے اس نے سب سے زیادہ چاہا تھا، جسے اس نے اپنے خیالوں کا مرکز بنا لیا تھا، جسے وہ دعاؤں میں مانگتی تھی ، جسے وہ اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھتی تھی۔ اور وہ ستمگر کیا کہہ رہا تھا۔۔۔ ! ارد گرد چند سٹوڈنٹس کھڑے ہو گئے تھے۔ اس کی دوست کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔
سب ایسی لڑکیاں ایسے ہی کہتی ہیں۔۔۔ میں ایسی نہیں ہوں’۔ ” وہ اسے نفرت سے دیکھتا ہوا اس کی ذات کے پر خچے اڑا رہا تھا۔

” آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔ نفرت کرتا ہوں میں تم سے۔۔۔ جتنی تم سے محبت کی ہے۔۔۔ اس سے کہیں زیادہ نفرت۔۔۔ ” وہ اس کا بازو جھٹکا دیتا ہوا بولا جو اسے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
مصطفی پلیز ایسا مت کریں۔۔۔ میں۔۔۔ میں مر جاؤں گی۔۔۔ ایسا۔۔۔ ایسا تو نہ کریں میرے ساتھ۔۔۔ میرا کیا قصور ہے۔۔۔ آپ میرے وجود سے میری سان ۔ آپ میرے وجود سے میری سانسیں کھینچ لیں۔۔۔ مگر میرے ساتھ
ایسا مت کریں۔۔۔ بہت محبت کرتی ہوں میں آپ سے ۔۔۔ ” وہ اس کا بازو پکڑ کر محبت کی بھیک مانگ رہی تھی لیکن جب دل پتھر ہو جائے تو کسی کی فریادیں کہاں اثر کرتی ہیں۔
تو مر جاؤ۔۔۔ لیکن میری زندگی سے دفع ہو جاؤ۔ ” وہ اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑوا تا ہو ادھاڑا تھا۔
مصطفیٰ۔۔۔!” وہ بے یقینی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر رہ گئی جہاں صرف اجنبیت کا احساس تھا۔ مرگئی محبت۔۔۔ مصطفیٰ علی خان کی نفرت کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے تمہاری سو کالڈ محبت شروع ہوتی ہے۔۔۔ ” وہ سرد لہجے میں اسے باور کرواتا واپس پلٹ گیا۔

Download Link

Direct Download

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *