Bisat E Dil Bhi Ajeeb Shay Hai By Afshan Afridi Novel20478
Bisat E Dil Bhi Ajeeb Shay Hai By Afshan Afridi
Age Difference | Pathan Culture base | Complete novel | Romantic Novel
Novel code: Novel20478
” بیٹھنے کو نہیں کہو گے تیمور علی خان آخر کو ایک پٹھان میزبان ہو تم۔”
شہباز خان نے اندر داخل ہوتے ہی سفید پڑتی زرمینے کو فاتحانہ نظروں سے دیکھ کر تیمور کو مخاطب کیا تو وہ شدید غیض و غضب سے بھرا دو قدم بڑھ کر اس کے سامنے آگیا۔۔۔۔
” میری دہلیز پر زندہ کھڑے ہو شہباز خان ! کیا یہ کافی نہیں۔ ” لہجہ تھا یا انگارے اُگلتا تیر۔ سیدھا مخاطب کے دلمیں پیوست ہوا تھا۔۔۔
” میں یہاں جھگڑا کرنے نہیں آیا تیمور خان!!! مجھے میری بھتیجی واپس کردو بس۔ ” شبہاز خان نے یکدم رعونت بھرے لہجے میں دو ٹوک کہا تو تیمور کی سرخ انگارہ آنکھوں سے جلال ٹپکنے لگا۔
“تمہاری بھتیجی میری منکوحہ ہے شہباز خان اور اب اس کی زندگی میرے اختیار میں ہے۔ یہ وہیں رہے گی جہاں میں چاہوں گا۔۔۔۔۔” وہ بولا تو لہجے میں جیسے شرارے برس رہے تھے۔۔۔
شہباز خان کو جیسے کسی نے للکارا تھا اس لمحے زمان خان کی اٹھتی بندوق کی نالی کو ایک ہاتھ سے نیچے کرتے ہوئے وہ یک دم خشمگیں ہو گیا تھا۔
” یہ میرے بیٹے کی منگ تھی۔ اس سے تم کیسے نکاح کر سکتے ہو؟”
” جیسے تمہارے بھائی نے میری منگ سے کیا تھا۔ مت بھولو شہباز خان! اس جھگڑے کی ابتدا تمہارے گھر سے ہوئی تھی۔ دوسرے کی منگ پر تسلط جمانے کی روایت تم لوگوں کی ہی ڈالی ہوئی ہے۔ ” تیمور کا لہجہ آہنی تھا۔ پیچھے کھڑی زرمینیے کے دل کی رفتار تو دونوں فریقین کے انداز گفتگو سے ہی تھمتی جارہی تھی۔
” مگر پری چہر نے اپنی خوشی سے شیر باز ساتھ نکاح کیا تھا۔” شہباز خان تلملا کر بولا۔
” تو جبر میں نے بھی نہیں کیا ہے تمہاری بھتیجی پر چاہو تو پوچھ لو۔”
” بکواس بند کرو تیمور علی!!!! میں تمہارے گھر کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔ ” زمان خان سے اب برداشت نہ ہو سکا ۔ دلاور نے سرعت سے اسے پیچھے پیچ نہ لیا ہوتا تو اس کی بندوق کا پچھلا سرا تیمور کو زخم پہنچا چکا ہوتا۔
” جواب میں تمہیں بھی یہی سب سہنا ہوگا زمان خان۔ ” اس کا سرد لہجہ انتہائی سفاکی لیے ہوئے تھا کچھ تھا اس کے انداز میں کہ وہ تینوں ٹھٹھک سے گئے تھے۔ “تمہارے کہنے کا مطلب؟”
” مطلب تو صاف واضح ہے۔ میں نے ایک بار تو تمہارے خاندان کو معاف کر دیا تھا۔ مگر اب نہیں۔ کوئی میری غیرت کو للکارے میں خاموش نہیں رہوں گا شہباز خان! تمہیں اپنے دونوں بیٹے پیارے ہیں تو انہیں سمجھاؤ۔ سوئے ہوئے شیر کو نہ جگائیں اسی میں بھلائی ہے ان کی۔” اس کالجہ سخت سرد اور سرخ تھا۔
” یوں بھی کسی کی منکوحہ پر حق جتانے کا اب تم لوگوں کو کوئی اختیار نہیں رہا۔”
” منکوحہ۔۔۔۔۔اونہ۔۔۔۔۔۔” زمان خان زیر خند ہو گیا۔
“تم نے محض انتقام لینے کے لیے نکاح کیا ہے زرمینے
” اور تمہیں دولت چاہیے اس کی۔ کوئی خاص فرق تو نہیں تم میں اور مجھ میں۔” اس کی بات کی نفی نہ کر کے اس نے عقب میں کھڑی زرمینے کے دل کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔
بے اختیار سے ان چاروں سے خوف محسوس ہوا تھا۔ کوئی بھی تو اس کا حامی نہیں تھا۔ کسی کو بھی تو اس سے ہمدردی نہیں تھی۔ وہ تو سمجھتی تھی کہ اس نے آغا جان کے کہنے سے نکاح کیا ہے اس سے مگر آج اندازہ ہوا وہ اس سے بابا اور ماں کی غلطیوں کا کفارہ لینا چاہتا ہے۔ ” مگر ہم اپنی چاچازاد کو دشمنوں کے حوالے نہیں کرسکتے ” دلاور خان کافی دیر بعد بولا تھا۔
” اور میں اپنی منکوحہ کو ” تیمور سنجیدہ تیوروں سے اس کی طرف مڑا ۔
” میرا خیال ہے دلاور خان کہ تم ان دونوں سے بہتر سوچ سکتے ہو۔ قانون اور جرگے ہر ایک کی رو سے میں ہی حق پر ہوں۔ تم چاہو تو مجھے کہیں بھی چیلنج کر سکتے ہو۔ اپنے باپ اور بھائی کو سمجھاؤ۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ تم لوگ وقت گنوا چکے ہو اب عزت نہ گنواؤ تو بہتر ہے۔ پہلے تو میں نے آغا جان کی خاطر خاموشی اختیار کرلی تھی مگر اب نہیں۔”
اس کا بے لچک انداز سخت بے خوفی کا مظہر تھا۔ شہباز خان کا ذہن تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا۔
” تو گویا تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو۔ ” زمان خان تو یوں بھی باپ اور بھائی کی غیر معمولی خاموشی سے بھرا ہوا تھا تیمور کا لفظ لفظ اس کی سفاکیت کو جگا رہا تھا۔
” دھمکی وہ دیتے ہیں جو کچھ کر نہیں سکتے زمان خان اور میں کیا کر سکتا ہوں، اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔ میرا پچھلا اُدھار ہی ابھی باقی ہے۔ نیا کھاتہ نہ کھلے تو اچھا ہے۔” اس کی آنکھوں میں نفرت کی جو گہری چمک تھی اس نے لمحہ بھر کے لیے زمان خان کو لب بھینچنے پر مجبور کر دیا۔
” تو چلو پھر ایک سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ تمہیں اپنا انتقام لبنا ہے تو لڑکی تم رکھ لو اور جائیداد ہمیں دے دو۔ ” دلاور خان اچانک ہی کہ اٹھا۔۔۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕