You Are All Mine by Suneha Rauf

Possessive and Rude hero|  Forced  Marriage | Multiple Couple |  Romantic Novel | Thrill Base 

Novel code: Novel20514

“تو بیوی تم کس سے بھاگ رہی ہو؟”
“ابھی جاؤ یہاں سے؟” وہ وہیں سے چلائی تھی۔
“آواز آہستہ رکھو!”
“اور اگر میں ایسا نہ کروں تو؟”
حیات! میر نے اسے تنبیہ کی تھی لیکن وہ۔۔۔وہ تو وہیں تکیے میں منہ دیتی لیٹی رہی تھی۔

“یہ کپڑے بدل کر آؤ پہلے۔۔۔ان میں سو نہیں پاؤ گی۔”
“تم یہاں سے جاؤ!”
لیکن اپنے ساتھ اسے جگہ بناتے دیکھ بھی اس نے تکیے سے منہ نہیں نکالا تھا۔

“کیا چاہ رہی ہو حیات؟”
تم نے۔۔۔۔تم نے مجھ سے اپنی پہچان چھپائی۔۔۔!
تم حاد۔۔۔۔
اس کی ہچکی بندھی۔۔۔۔وہ حاد تھا وہ جو اسے بچپن میں چھوڑ گیا تھا۔۔۔وہ کتنی ہی دیر تو ڈپریشن میں رہی تھی بیمار بستر پر۔۔۔۔اس کے جانے کے بعد۔۔۔۔اور اب جب وہ پاس ہی تھا اس کے تو وہ پہچان نہیں پائی تھی۔

“میں نے صرف پہچان چھپائی اور تم نے۔۔۔تم نے سب بھلا دیا۔”
“کیا مجھے یاد رکھنا چاہیے تھا؟” وہ اٹھ کر بیٹھتے چلائی۔
“ہاں! اور کچھ نہ سہی لیکن ہمارا نکاح یاد رکھنا چاہیے تھا۔۔۔۔تم نے گناہ کیا ہے ہمارا نکاح بھول کر۔”

“ایسا ممکن نہیں!” حیات کی زبان لڑکھرائی۔
حاد نے اپنے ہاتھ میں موجود کاغز اسکو دکھائے۔۔۔۔جو وہ ابھی اپنے کمرے سے لایا تھا۔
“یہ نکاح کے کاغذات تھے لیکن ابھی کے نہیں بلکہ بہت پرانے۔۔”
یہ کب۔۔۔۔۔؟

اپنے بابا سے پوچھنا۔۔۔
“کیا بابا جانتے ہیں؟”
“بالکل! تمہیں لگتا ہے حیات صاحبہ کہ وہ یہاں دوسرے شہر تمہیں خود سے دور بالکل یہاں کا پتا نہ رکھتے ہوئے بھیجیں گے اور اسکے بعد ایک دفعہ بھی نہیں آئیں گے؟”
“وہ جانتے ہیں کہ تم۔۔۔؟”

“ہاں سب جانتے ہیں کہ مجھے اپنی ہی بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑا۔۔۔۔”
حیات نے خاموشی سے اسے دیکھا پھر کمفرٹر خود پر اوڑھتی لیٹ گئی۔
یہ سب نیا تھا۔۔۔۔ان سب نے دھوکا دیا تھا اسے۔۔۔لیکن وہ گناہگار تھی میر حاد کی۔

“حیات!”
جاؤ یہاں سے! وہ روتے بولی تو حاد نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی جو اس نے جھٹکے سے دور کیں تھی۔
حاد نے پھر سے ایسا کرنا چاہا۔۔۔
“اب کی بار میرا ہاتھ جھٹکا تو تمہارے ہاتھ توڑ دوں گا” میں وہ اس کے کان کے پاس غرایا۔

“تم دور رہو!”
“کیوں؟ شوہر ہوں تمہارا اور مجھے کچھ سخت کرنے پر مجبور نہ کرو حیات۔۔۔مجھے جانا تھا تب کیونکہ اپنے ماں باپ کا مجرم ڈھونڈنا تھا میں نے لیکن تم نے تم نے تو سب بھلا دیا۔”
“تم مجھے چھوڑ گئے تھے۔۔۔”وہ ابھی تک وہیں اڑی تھی۔
“ہاں! کیونکہ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہ تھا۔۔وہاں سخت ٹریننگ کی ہے میں نے۔۔۔اس جگہ پر پہنچنا تھا مجھے جہاں میرا باپ تھا۔”

اور پھر یہ سب غازیان ڈیڈ کی وجہ سے ممکن ہوا۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ میں اپنا سفر طے کروں اپنی بیٹی کو وہ خود سمجھا لیں گے۔
“لیکن وہ میری امانت کی اچھے سے حفاظت نہ کر پائے مجھے ان سے یہ شکوہ ہمیشہ رہے گا۔”

“کیا کیا ہے میں نے؟”
“اپنا حلیہ یاد ہے تمہیں؟ جس میں تم مجھے ملی تھی۔۔۔۔مجھے امید نہیں تھی کہ تم مجھے ایسے ملو گی۔
میری زندگی تھی وہ۔۔۔وہ زندگی جس میں تم مجھے چھوڑ گئے تھے۔”

“اپنی سزا بتاؤ؟”
حاد نے اسے اپنے سخت حصار میں لیتے استسفار کیا۔
چھوڑو۔۔۔۔
“شششش! سزا بتاؤ اپنی!” “مجھے بھولنے کی، اس گھٹیا ڈریسنگ کی، اس بولڈ کردار کی، ہمارے نکاح کو بھولنے کی اور۔۔۔۔”

“مجھے نیند۔۔۔۔”
“سزا تو تمہیں ملے گی حیات صاحبہ ۔۔۔۔۔نیند بھی تمہیں آئے یا نہیں” وہ کہتا اسکی گردن پر اپنے دانت رکھ چکا تھا۔
میر۔۔۔۔!
اس کی سانسوں کو قطرہ قطرہ پیتے وہ کسی اور ہی جہان میں تھا۔
“مجھے بھوک لگی ہے!” وہ تیز ہوتی سانسوں کے درمیان بولی۔

میر نے گھور کر اسے دیکھا!
“اب ناشتہ تمہیں صبح ہی نصیب ہو گا!” وہ کہتا اس کی شرٹ کندھے سے سِرکا چکا تھا۔
حیات نے آنکھیں زور سے بند کرتے اس شخص کو محسوس کیا جس کے لیے اس کا دل بچپن سے باغی تھا۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *