Ishq Bara Harjai Hai by Uzma Mujahid

Cousin Base  | After Marriage base | Army Base | Romantic Novel | Complete Novel 

لوگوں کو اتنی دوپہر میں بھی اپنے گھر سکون نہیں کم ازکم دوسروں کے سکون کا خیال رکھ لیں وہ بلند آواز بولتے دروازے کی جانب بڑھی تھی کون ہے وشمہ کی آواز پہ محب کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہوئی تھی جو بھی تھا یہ لڑکی ہمیشہ اسکے حواسوں پہ سوار رہی تھی وشمہ کی اک بار پھر سے چنگھاڑتی آواز اسکے کانوں تک آئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے اسے کسنے زبردستی گیٹ پہ بھیجا تھا اب اگر آہی گئی تھی تو تھوڑا لحاظ رکھ لیتی محب کے علاوہ بھی کوئی ہوسکتا تھا او گونگے فقیر معاف کرو جمعرات کو آنا ویسے بھی ابھی گھر پہ کوئی نہیں یہ کہتے وہ واپس مڑ گئ محب نے حیرانگی سے گیٹ کو گھورا اک بار پھر بیل گونجی وشمہ الٹے پاؤں واپس آئی تھی اور کھٹاک سے دروازہ کھول کے اپنی زبان کے جوہر دکھانے چاہے مگر محب پہ نگاہ پڑتے ہی چپ ہوگئ
وہ۔گھر پہ کوئی نہیں ہے محب کو اپنی جانب بغور گھورتے دیکھ کے وہ جلدی سے بولی ایک ہلکی سی مسکراہٹ محب کے عنابی ہونٹوں پہ بیدار ہوئی اسنے سر سے پاؤں تک سامنے کھڑی لڑکی کو گھورا جیسے کہہ رہا ہو اگر واقعی گھر پہ کوئی نہیں تو سامنے کوئی بھوت کھڑا ہے کیا ۔۔۔۔وشمہ اسکی آنکھوں کا مفہوم سمجھتے ہوے تھوڑا کنفیوز ہوئی لیکن پھر سے اپنے ازلی اعتماد کو بحال کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ پھوپو اور دریہ گھر نہیں بازار گئی ہوئی ہیں وشمہ نے بیزار لہجے میں کہا آہاں گڈ اگر وہ نہیں تو انکی بہو تو ہیں گھر پہ محب نے آگے بڑھتے ہوے اسے کندھے سے پکڑ کے گیٹ سے ہٹایا اور گھر کے اندر داخل ہوا وشمہ کو کچھ دیر لگی تھی سمجھنے میں وہ گیٹ کو زور سے بند کرتی ہوئی تیز قدموں سے اسکی جانب بڑھی آپ جانتے ہیں کسی کے گھر زبردستی گھسنے کا انجام کیا ہے چیلنجیگ انداز میں کہتی دونوں ہاتھوں کو سینے پہ باندھے وہ اسکا راستہ روکے کھڑی ہوگئی تھی
اوہ رئیلی مسسز وشمہ محب کسی کے گھر گھس آیا ہوں میں محب نے اپنی جانب انگلی کا اشارہ کیا وشمہ اسکی آنکھوں میں چھائے سرمستی کے عالم پہ حیران تھی وہ کہیں سے بھی وہ دبو سا محب رضا نہیں لگ رہا تھا جو وشمہ کی جی حضوری میں اتنے سال اس گھر سے دور رہا تھا آخر کس لیے وہ اتنا کنفیڈنٹ ہو رہا تھا۔
۔دریہ یقیناً دریہ نے اسے رخصتی والی بات بتا دی ہوگی یہ کیا سمجھ رہا کہ میں ہار گئ نہیں میں ابھی اسے بتا دونگی کے کہ اس سب کے پیچھے وجہ کیا ہے دیکھو کیپٹن محب رضا اس نے انگلی اٹھا کے اسے وارن کر نا چاہا
۔جی دیکھ ہی تو رہا ہوں محب نے شرارتی انداز اپنایا تھا وشمہ اسکے نئے انداز پہ زچ ہورہی تھی اسے اس ٹائم محب کو کچھ بھی کہنا بے معنی لگ رہا تھا وہ تن فن کرتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی محب کے چہرے پہ اک شرارتی مسکان نے احاطہ کیا جو بھی تھا اس لڑکی میں اسکی جان بستی تھی ابتک اسنے اپنے ساتھ ساتھ اس پہ بھی بہت ظلم کیا تھا اب بس اب میں اسے منا لونگا اسے اپنے رشتے کا احساس دونگا اپنے خیالوں کو اسکی سوچ سے معطر کرتا وہ بھی گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *