Koiyal Angothi Chor By Uzma Mujahid

Hero Police Officer | social Victim Unfortunate Girl | Social Issue Base || Complete  Novel

کیا تماشہ لگا رکھا اس بدذات لڑکی نے افشین کی آواز پہ پورا گھر جمع تھا ایسی بھی کیا بدشگونی پھیلانی۔
سب سامنے موجود مہندی کے جوڑے کو راکھ بنا دیکھ سکتے میں تھے۔۔۔۔
رمشہ نے آگے بڑھتے اسے بازو سے پکڑا
“کیا چاہتی ہو تم ابھی اور کتنی نحوست جھیلے یہ گھر تمہاری وجہ سے کیوں جلایا جوڑا “
میں یہ شادی نہیں کرونگی میں اچھے سے جان گئی ہوں میری قیمت وصول کی ہے آپ نے کل کو آصفہ اور رمشہ کو بھی بیچیں گے آپ لوگ “
افشین کا ضبط جواب دے گیا اس نے کوئل کو تھپڑ دے مارا
“تمہاری جرآت کیسے ہوئی میری بیٹیوں کا نام لینے کی وہ تمہاری طرح کرم جلی نہیں نہ ہی پیدا ہوتے ماں باپ کو کھا گئیں اور کیا گناہ کردیا اتنا عرصہ جو کھلایا ہے تو ارے اگلوں کو بھی تو پتا چلے کوئی ولی وارث ہے تمہارا ایسے مفت میں پکڑا دیں ارے بھائی شادی کا خرچہ ہی تو لیا ہے ایسا بھی کیا گناہ کیا جو تمہارے کان بھر دیے اس لڑکے نے “
افشین سمیت سب قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے “اور شادی تو تم کروگی ہی ۔۔۔نہیں تو ڈولو(مالی) کے ساتھ نکاح پڑھوا کے رخصت کردیں گے “
روزینہ کو بھی پیسہ ہاتھ آنے سے پہلے جاتا دکھائی دے رہا تھا
“کروا دیں مگر میں اس اے ایس پی سے شادی نہیں کرونگی دماغ میں بیٹھا لیں یہ بات آپ لوگ بھی”
کوئل بھی ضدی انداز میں کہتی وہاں سے واک آؤٹ کرگئی۔۔۔۔۔
ان سب کو تو اب صیح معنوں میں ٹینشن ہوچکی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی آدھی رقم نوفل سے وصول۔کرچکے تھے اس صورت انہیں واپس کرنا پڑتا مگر ہاتھ آئی رقم۔بھلا کیسے “یہی پہ آکے ان کے سارے بل خم نکل جاتے ۔۔۔
کال بند کرتے اسکے ماتھے پہ ان گنت سلوٹیں ابھری دل تو چاہ رہا تھا کے اک منٹ میں جاکے اس لڑکی کا دماغ ٹھکانے لگا دے مگر اس میں کچھ قصور تو ان لوگوں کا بھی ہوگا آخر کو کیوں اس نے مہندی کا جوڑا جلایا تھا۔۔
مما کی ڈیزائینر کو کال کرکے ارجنٹ بیسیز ویسا ہی جوڑا تیار کرنے کہا لیکن اسکی لک کے انکے پاس ویسا ہی سمپل پیس موجود تھا وہ منہہ کو لیتا اس ڈریس سمیت وہاں پہنچا گھر کے داماد کی حثیت سے اسکی خوب آؤ بھگت کی گئی تھی جب اس نے کوئل سے ملنے کی خواہش کی افشیں سمیت سب کو پریشانی نےگھیرا ۔۔۔
“وہ ایسا ہے کہ ہمارے خاندان میں اس چیز کو معیوب سمجھا جاتا ہے کہ مہندی سے پہلے دلہا دلہن اک دوسرے کو ملیں شام کو مہندی ہے آ تو رہے آپ لوگ”
اپنا راز کھل جانے کے ڈر سے انھوں نے سو حیلے بہانے بنا دیے ۔۔۔۔
منہہ اور اپنی ملازمہ کے ہاتھ ڈریس بھیجا اور کچھ شاپنگ بیگز بھی روزینہ انکے ساتھ گئی تھی۔۔۔
کوئل۔اپنے سامنے منہہ کو دیکھ حیران ہوئی اور ساتھ موجود ہستیوں کو دیکھ بھی شاپنگ کے نام پہ وہ پہلے ہی اتنا کچھ بھیج چکے تھے جو آتا اسکے نام تھا جاتا کہیں اور تھا
” مجھے اپنی مما سے اکیلے میں بات کرنی ہے کیا آپ ہمہں کچھ دیر اکیلا چھوڑیں گی “
روزینہ تو اسکے اپنی مما کہنے پہ چونکی تو کیا نوفل پہلے سے شادی شدہ اور یہ بچی وہ بغیر کچھ کہے وہاں سے چلی گئی اور ملازمہ کو بھی اتنی دیر اسکے کمرے میں آنے کا آرڈر نوفل کی طرف سے تھا۔۔۔۔۔۔۔
کوئل بنا کچھ بولے منہہ کو دیکھے جارہی تھی
“ٹیچرمما آپ میرے سے ناراض ہیں “
کوئل کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیے پیار سے پوچھا اس نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا
“پھر آپ میری مما کیوں نہیں بننا چاہتی پتا ہے ہمارا گھر بہت بڑا ہے اگر آپ میرے ساتھ نہیں سونا چاہو تو کسی اور کمرے میں سوجانا “
اپنی سمجھ کے مطابق بولتی وہ بچی اسے اپنے جیسی ہی لگی جسکے نزدیک مما اپنے بچوں کے ساتھ سوتی ہیں اور یہ حقیقت ہی تو تھی ماں ہی وہ ہستی ہوتی جو اپنے بچوں کو اپنے ممتا کی چھاؤں میں چھپائے زمانے کے گرم سرد ہواؤں سے بچا لیتی ہے اور اس معاملے میں دو بدنصیب آمنے سامنے بیٹھی تھیں تو کیا منہہ بھی اسکے جیسے زندگی گزارے گی اک درد کا احساس ہوا تھا اسے جو فیصلہ وہ خود نہیں کرپارہی تھی منہہ نے اس سے منٹوں میں کروا دیا تھا بہت سے خوف اور اندیشے بھی تھے مگر وہ خدا پہ توکل کیے چپ سادہ گئی۔۔۔۔۔۔
اور منہہ جسکو نوفل نے کسی رٹو طوطے کی طرح اپنے پیغام اور دھمکیاں یاد کروائی تھیں وہ سب بھلائے اپنی شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔
کیا پتا نوفل کی دھمکیاں وہ اثر کرتی یا نا کرتیں جو منہہ کی معصومیت کرگئی۔۔۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *